حکومت سے مذاکرات بھی، سڑکوں پر احتجاج بھی! اپوزیشن کی دوہری پالیسی بے نقاب

پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت ایک مرتبہ پھر بڑھنے کے ساتھ ساتھ پسِ پردہ سیاسی رابطوں کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعتیں 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں میں مصروف ہیں تو دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان آئندہ چند روز میں اہم ملاقات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں کے درمیان ملاقات 15 سے 20 ستمبر کے درمیان متوقع ہے اور اس حوالے سے شیڈول پر مشاورت مکمل کرلی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہِ راست سیاسی رابطے کی اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم آفس کی جانب سے ہونے والے رابطے سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے چیمبر کی جانب سے وزیراعظم آفس کو پیغام دیا گیا تھا کہ اپوزیشن ملاقات کے لیے تیار ہے اور اب باقاعدہ شیڈول طے کیا جائے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں، تاہم الیکشن کمیشن میں تقرریوں کے معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں ہوئے بلکہ خط کے ذریعے رابطہ کیا گیا تھا جس کا مثبت جواب موصول ہوا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف بھی سیاسی درجہ حرارت کم کرنا چاہتی ہے، تاہم ان کے مطابق حکومت کی بعض کارروائیاں اس کے برعکس ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف مذاکرات اور رابطوں کی بات ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف سڑکوں پر کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں، جس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بیک ڈور رابطے موجود ہیں اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی مختلف ذرائع کے ذریعے رابطہ رہتا ہے، تاہم ان رابطوں کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جا سکتیں۔
اسی دوران سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کے چیمبر میں محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اپوزیشن رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا، جس میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، بیرسٹر سلمان اکرم راجا، اسد قیصر اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، 27 ستمبر کے احتجاج اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں تحریک انصاف کو احتجاج کی بھرپور تیاری کی ہدایت کی گئی اور اس بات پر بھی غور ہوا کہ موجودہ سیاسی حالات میں اپوزیشن جماعتوں کو کس طرح ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لایا جائے۔
اجلاس کے بعد اپوزیشن نے ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کرنے اور جلد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس 15 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے، جس میں مجوزہ اے پی سی کی تیاریوں اور اس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے پر غور کیا جائے گا۔ اپوزیشن کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد محض سیاسی بیانات جاری کرنا نہیں بلکہ ملک کو درپیش بڑے مسائل پر تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر لا کر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہے۔
اسی سلسلے میں بیرسٹر گوہر کی قیادت میں تحریک انصاف کے وفد نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ وفد میں بیرسٹر سلمان اکرم راجا، اسد قیصر اور فردوس شمیم نقوی شامل تھے جبکہ جے یو آئی کی جانب سے مولانا عبدالغفور حیدری اور مولانا اسعد محمود بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔ ملاقات میں مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس، 27 ستمبر کے احتجاج، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ملک کے آئینی و جمہوری نظام کے استحکام سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تحریک انصاف کے اعلامیے کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی مشاورت اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے ملاقات کے بعد کہا کہ صوبوں کے معاملے سمیت قومی اہمیت کے مختلف ایشوز پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جا رہی ہے اور پارلیمنٹ کے اندر موجود اپوزیشن جماعتیں بھی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی کوشش کریں گی۔ ان کے مطابق قومی معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا اور متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ اسے مؤخر کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں اور احتجاج کی قیادت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف تحریک انصاف کا احتجاج نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ انہوں نے احتجاج کو انصاف کے لیے قرار دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ پرامن ہوگا۔
جے یو آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی اے پی سی کے حوالے سے ہونے والی مشاورت کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ بھی گفتگو میں زیر غور آیا، جبکہ ملک میں مہنگائی اور بدامنی سمیت دیگر مسائل پر بھی بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ملک بھر میں ورکرز کنونشنز کر رہی ہے اور آل پارٹیز کانفرنس کا بنیادی مقصد ایسا مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہے جس کے نتیجے میں ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ سے باہر موجود سیاسی جماعتوں کو بھی اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن 27 ستمبر کے احتجاج کو فیصلہ کن سیاسی سرگرمی کے طور پر آگے بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے، سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور آل پارٹیز کانفرنس کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان براہ راست اور بیک ڈور رابطے بھی جاری ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کی ممکنہ ملاقات اسی وسیع تر سیاسی رابطہ کاری کا اہم مرحلہ بن سکتی ہے۔
اس صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا احتجاج، اے پی سی اور حکومت سے جاری رابطے ایک دوسرے کے متوازی چلیں گے یا کسی مرحلے پر سیاسی مذاکرات کی نئی راہ کھلے گی۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس نے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے اور بانی پی ٹی آئی ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دیتے رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی پارٹی 27 ستمبر کے احتجاج سے پیچھے ہٹنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ دوسری جانب حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف امن و امان اور ریاستی معاملات کو قابو میں رکھا جائے اور دوسری طرف سیاسی کشیدگی کو اس حد تک بڑھنے سے روکا جائے جہاں مذاکرات کی گنجائش ہی ختم ہو جائے۔
یوں 15 ستمبر کا دن اپوزیشن کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسی روز تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس میں اے پی سی کے خدوخال واضح ہونے، سیاسی جماعتوں سے رابطوں کو آگے بڑھانے اور 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے مزید فیصلے سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ وزیراعظم اور محمود خان اچکزئی کی ممکنہ ملاقات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی رابطوں کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتی ہے۔ اگر یہ رابطے نتیجہ خیز ثابت ہوئے تو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا راستہ نکل سکتا ہے، لیکن اگر احتجاج، اے پی سی اور حکومتی اقدامات کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے تو آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کرنے کا امکان بھی موجود رہے گا۔
