ریفرنڈم یا پارلیمانی فیصلہ؟ نئے صوبوں پر آئینی اور سیاسی کشمکش تیز

پاکستان میں نئے صوبوں اور نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہو گئی ہے، لیکن حکومت کی جانب سے اکتوبر میں پارلیمنٹ کے اندر اس معاملے پر بحث کرانے کے اعلان نے نئے صوبوں کے لیے سرگرم حلقوں کو مکمل طور پر مطمئن نہیں کیا۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر معاملے کو صرف پارلیمانی بحث تک محدود رکھا گیا اور عملی پیش رفت میں مزید تاخیر ہوئی تو یہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر سیاسی وعدوں اور اعلانات کی نذر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حامی حلقے پارلیمانی راستے کے ساتھ ساتھ عوامی رائے لینے کے مختلف آئینی امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔

تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق حکومت کی جانب سے اکتوبر میں پارلیمنٹ میں بحث کا اعلان اپنی جگہ اہم ہے، تاہم نئے صوبوں کے لیے سرگرم قوتیں اسے کافی نہیں سمجھتیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس معاملے کو مسلسل مؤخر کرنے سے اس کی اہمیت کم ہونے کے بجائے سیاسی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ملک میں کئی علاقوں سے انتظامی محرومی، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور حکمرانی کی کمزوری کے حوالے سے آوازیں اٹھتی رہی ہیں، اس لیے نئے صوبوں کا مطالبہ محض سیاسی نعرہ نہیں رہا بلکہ یہ گورننس کے بحران سے بھی جڑ چکا ہے۔

دوسری جانب گورننس کے ماہرین اس معاملے میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق نئے صوبے بنانا معمول کی انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ آئینی اور سیاسی معاملہ ہے، جس کے لیے آئین میں طے شدہ راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ اگر سیاسی دباؤ یا وقتی مفادات کے تحت کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا گیا جس سے آئینی پیچیدگیاں پیدا ہوں تو مسئلہ حل ہونے کے بجائے ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے آئینی نظام میں نئے صوبے کا قیام ایک پیچیدہ عمل ہے اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری اس عمل کا بنیادی مرحلہ ہے۔ اسی تناظر میں سندھ اسمبلی کی جانب سے نئے صوبوں کے حوالے سے پہلے ہی قرارداد منظور کیے جانے کو اہم سیاسی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کے باعث یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ اگر سندھ اس معاملے کے لیے تیار نہیں تو پنجاب میں نئے صوبے بنانے کی کوشش کو کس سیاسی اور انتظامی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔

پنجاب کے حوالے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ پہلے ہی بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے پنجاب اسمبلی سے تقریباً ایک دہائی قبل منظور ہونے والی قراردادوں کو محض سفارش قرار دے چکے ہیں۔ ان کا مؤقف اس بحث کو ایک نئے زاویے سے سامنے لاتا ہے کہ ماضی میں اسمبلیوں سے منظور ہونے والی قراردادیں اگر عملی آئینی اقدام کا درجہ نہیں رکھتیں تو موجودہ حکومت نئے صوبوں کے معاملے کو کس طریقے سے آگے بڑھائے گی اور اس کے لیے سیاسی اتفاق رائے کیسے پیدا کیا جائے گا۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ نئے صوبوں کی بحث بار بار سیاسی ایجنڈے پر واپس کیوں آ رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکمرانی کا وہ بحران ہے جس میں عام شہری کو بنیادی سہولیات، فوری انصاف، بہتر انتظامیہ اور اپنے علاقے کے ترقیاتی فیصلوں میں مؤثر نمائندگی کے لیے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ جب موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ اور علاقائی ضروریات کے مطابق مؤثر انداز میں خدمات فراہم نہ کر سکے تو نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا مطالبہ فطری طور پر زور پکڑتا ہے۔

اسی پس منظر میں بعض حلقے نئے صوبوں کے بجائے بااختیار انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کو بھی ممکنہ درمیانی راستے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی کو نچلی سطح تک منتقل کر دیا جائے تو انتظامی محرومی کے بہت سے مسائل موجودہ صوبائی حدود برقرار رکھتے ہوئے بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے صرف بلدیاتی ادارے قائم کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ انہیں حقیقی مالی اور انتظامی خودمختاری دینا ہوگی۔

ریفرنڈم کا آپشن بھی اسی بحث میں اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت اہم قومی معاملات پر عوام کی رائے لینے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس اختیار کے استعمال کے طریقہ کار اور اس کی آئینی حدود کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ حکومتی حلقوں، خصوصاً وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے عوامی رائے کے امکان کے اشاروں کے بعد یہ بحث مزید نمایاں ہوئی ہے کہ نئے صوبوں جیسے حساس معاملے پر عوامی رائے کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔

تاہم ریفرنڈم کا راستہ اختیار کرنا بھی اتنا آسان نہیں۔ تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق اگر صوبوں کی رضامندی اور وسیع سیاسی اتفاق رائے کے بغیر ریفرنڈم کرانے کی کوشش کی گئی تو اس کی سیاسی قبولیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈمز کی مثالیں موجود ہیں، جن کے طریقہ کار اور سیاسی جواز پر طویل عرصے تک بحث ہوتی رہی۔ اس لیے نئے صوبوں جیسے حساس اور دیرپا معاملے میں کسی بھی عوامی رائے کے عمل کو شفاف، آئینی، غیر متنازع اور تمام متعلقہ سیاسی و علاقائی قوتوں کے لیے قابل قبول بنانا انتہائی ضروری ہوگا۔

موجودہ صورتحال سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت فوری طور پر نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ کرنے کے بجائے پہلے پارلیمنٹ میں بحث کے ذریعے سیاسی فضا کو جانچنا چاہتی ہے۔ لیکن نئے صوبوں کے حامی حلقوں کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ اکتوبر کی پارلیمانی بحث محض تقریروں اور سیاسی بیانات تک محدود رہتی ہے یا اس کے نتیجے میں کوئی واضح روڈ میپ سامنے آتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ صرف نقشے پر نئی حد بندی کا سوال نہیں بلکہ وسائل، نمائندگی، انتظامی اختیار، سیاسی طاقت اور عوامی سہولیات کی تقسیم سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت اس بحث کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہتی ہے تو اسے واضح کرنا ہوگا کہ اس کا مقصد نئے صوبے بنانا ہے، نئی انتظامی اکائیاں قائم کرنا ہیں یا موجودہ صوبوں کے اندر اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔ بصورت دیگر پارلیمنٹ میں ایک اور بحث تو ضرور ہو جائے گی، لیکن عوام کے بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔

یوں نئے صوبوں کی موجودہ بحث دراصل پاکستان کے طرز حکمرانی کے مستقبل کا سوال بنتی جا رہی ہے۔ ایک طرف جنوبی پنجاب، بہاولپور، کراچی اور دیگر علاقوں میں انتظامی اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی آوازیں ہیں، دوسری طرف صوبائی حکومتیں اپنی موجودہ سیاسی و انتظامی طاقت برقرار رکھنے کے مفادات رکھتی ہیں۔ ایسے میں کامیاب راستہ وہی ہوگا جو آئینی تقاضوں، صوبائی رضامندی، عوامی رائے اور انتظامی ضرورت کے درمیان متوازن حل تلاش کرے۔ اکتوبر میں پارلیمنٹ کی بحث اس معاملے کا آغاز بن سکتی ہے، لیکن اصل فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ اس بحث کے بعد عملی قدم کیا اٹھایا جاتا ہے

Back to top button