کیا NRO مخالف کپتان ترین کو NRO دینے جا رہا ہے؟

جہانگیر ترین کی جانب سے اپنے خلاف شوگر سکینڈل میں کارروائی رکوانے کے لیے وزیراعظم عمران خان پر مسلسل ڈالا جانے والا دباؤ بالآخر کارگر ثابت ہوا ہے اور اب ترین کو کپتان سے جلد ملاقات کی نوید سنا دی گئی ہے۔ جہانگیر ترین کی جانب سے اس انکشاف کے بعد ناقدین یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا پچھلے 33 مہینوں سے صبح شام این آر او نہیں دوں گا کی گردان کرنے والے وزیراعظم اب اپنی حکومت بچانے کے لیے شوگر سکینڈل کے مرکزی ملزم کو این آر او دینے جا رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت وزیر اعظم کے لیے ایک مشکل ترین صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اگر عمران خان نے ترین کو شوگر سکینڈل میں ایف آئی اے سے ریلیف دلوائی تو انکا بے لاگ احتساب کا بیانیہ ایک ڈھکوسلہ ثابت ہو جائے گا اور اگر انہوں نے مزید اکڑ دکھائی تو ترین کی قیادت میں تحریک انصاف کے اندر ایک فارورڈ بلاک بن سکتا ہے جس سے انکی حکومت کا جانا ٹھہر جائے گا۔
تاہم تازہ اطلاعات یہ یے کہ گوناگوں سیاسی محاذوں پر شدید ہزیمت کا شکار وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کے ہاتھوں اپنی حکومت کو جاتا دیکھ کر اب ان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ اس کی باقاعدہ تصدیق ترین نے خود 22 اپریل کے روز میڈیا سے گفتگو میں کی۔ سیشن کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ترین نے کہا ہے کہ اسلام آباد سے کچھ لوگوں نے ان سے رابطہ کیا اور یقین دہانی کروائی کہ آپ کے گروپ کی چند روز میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے ٹھنڈی ہوا چلی تو سب مطمئن ہو جائیں گے، انکا کہنا تھا کہ میرا عمران خان سے رشتہ کمزور نہیں ہے، ہمارا بہت پرانا تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بناوٹی ایف آئی آرز ہیں جن میں کوئی چیز ایف آئی اے کی نہیں، یہ ایس ای سی پی اور ایف بی آر کے کیسز ہیں، میرا مقدمہ فوجداری نہیں۔ اس موقع پر ترین نے گلہ کیا کہ جب میں عمران کے ساتھ کھڑا ہوا تو مسلم لیگ ن نے میرے کاروبار کی چھان بین کرکے نوٹسز بھیجے۔ مگر اس بار سول کیس کو فوجداری کیس میں تبدیل کردیا گیا، یہ تو (ن) لیگ نے بھی نہیں کیا تھا۔ ترین نے واضح کیا کہ 40 اراکین اسمبلی میرے ساتھ ہیں اور ہمارا اور لائحہ عمل مشترکہ ہوگا۔
خیال رہے کہ کپتان کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب انہیں یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ جہانگیر ترین کو تحریک انصاف کے 50 سے زائد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی حمایت حاصل ہو چکی یے ہے اور اگر ان کے تحفظات دور نہ کئے گئے تو وہ مرکز اور پنجاب میں حکومت گرانے کے لیے فارورڈ بلاک بنا سکتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان جو ہمیشہ سے کسی کو این آر او نہ دینے اور دباؤ میں نہ آنے کا دعوی کیا کرتے تھے اب ترین اینڈ کمپنی کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کرکے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ نہ صرف شدید دباؤ میں ہیں بلکہ این آر او بھی دے سکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ترین کی کپتان سے ملاقات کب ہوتی ہے اور اس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارہ شوگر سکینڈل میں جہانگیر ترین کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے یا نہیں۔ اگر واقعی ترین عمران ملاقات کے بعد جہانگیر ترین کو ریلیف ملا تو کپتان کا بے لاگ احتساب کا بیانیہ اپنی موت آپ مر جائے گا اور انکی رہی سہی ساکھ خاک میں مل جائے گی۔ ناقدین کپتان کی اس دوٖغلی پالیسی پر بھی تنقید کررہے ہیں کہ ایک طرف وہ اپوزیشن رہنمائوں کو عدالتوں میں مقدمات بھگتنے کا کہتے ہیں تو دوسری طرف بڑے مالیاتی سکینڈل میں ملوث اپنے پرانے ساتھی کو ریلیف دینے کے لیے مذاکرات کی دعوت دے ڈالتے ہیں۔
اس حوالے سے سنیئر صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اشارہ ملنے کے بعد عمران خان اپنی ترین مخالف یلغار میں ایک قدم پیچھے ہٹا سکتے ہیں۔ تاہم وہ جہانگیر ترین کو اپنے نشانے پر ضرور رکھیں گے۔ ترین بھی اب آسانی سے پی ٹی آئی کے ساتھ بغل گیر نہیں ہوسکتے۔ سیٹھی کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دیرینہ اثاثے کے طور پر جہانگیر ترین پنجاب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو اپنے ساتھ رکھتے ہوئے گرین سگنل کا انتظار کریں گے۔ یہ سگنل انہیں جون میں مل سکتا ہے خصوصا اگر بجٹ پر غیر مطمئن ہوتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ اپنےاگلے آپشنز پر غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی جانب سے عدالت میں پیشی کے دوران تحریک انصاف کے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور وزراء کے جھرمٹ میں پاور شو کے بعد کپتان اینڈ کمپنی کسی طرح ان کو رام کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ حکومت کو بچایا جا سکے۔ واضح رہے کہ ترین گروپ میں شامل اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی اگر حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں تو مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ ترین کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان کے خلاف مبینہ انتقامی کاروائی ختم کی جائے اور انہیں سامنے بٹھا کر ان کے تحفظات سنے جائیں۔ اور یہ مطالبہ اب اب پورا ہونے جا رہا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ترین کے لیے عمران کے پاس واپس جانے کا راستہ اتنا آسان نہیں ہے۔ موجودہ صورت حال میں عمران کی صرف یہی کوشش ہے کہ انکا سابقہ ساتھی ان کے اقتدار کے لیے مسائل پیدا نہ کریں اسی لئے انہوں نے ترین کو ملاقات کی یقین دھانی کروائی ہے۔ دوسری جانب بعض تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ جہانگیر ترین کو بس اشارے کا انتظار ہے، وہ سیاسی ہوائوں کا رخ بدلنے کا انتظار کر رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ جو کپتان کی حریف 11 جماعتیں مل کر نہ کرسکیں وہ اکیلا جہانگیر خان ترین ہی کر دکھائے۔
سیاسی مبصرین اس نکتے پر متفق ہیں کہ جہانگیر ترین اگر واقعی عمران کے دل میں اقتدار سے فراغت کا خوف پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو وہ ضرور بیک فٹ پر جاتے ہوئے ان کے لئے آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ ترین کی کپتان سے ملاقات کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارہ شوگر سکینڈل میں ملوث ترین کو کس حد تک ریلیف دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button