کیا نئے صوبوں کی تشکیل پر سیاسی اتفاق رائے ممکن ہے؟

پاکستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور انتظامی چیلنجز نے ایک بار پھر نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو قومی سطح پر زندہ کر دیا ہے۔ حکومتی شخصیات، عسکری قیادت اور ماہرین گورننس کا مؤقف ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی اور محدود انتظامی ڈھانچے کے باعث عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا حل نئے انتظامی یونٹس، بااختیار بلدیاتی نظام اور مؤثر حکمرانی میں پوشیدہ ہے۔ تاہم آئینی تقاضے، سیاسی مفادات اور جماعتوں کے باہمی اختلافات اس عمل کو آسان نہیں بناتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی نئے صوبوں کی طرف بڑھ رہا ہے یا یہ بحث ایک بار پھر سیاسی اتفاقِ رائے کی نذر ہو جائے گی؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی مباحثے کا مرکزی موضوع بنتا جا رہا ہے۔ ملک کو درپیش گورننس، معیشت اور انتظامی مسائل کے تناظر میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتے ہوئے انتظامی تقاضوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ نہیں کر پا رہا۔
اس بحث کو نئی رفتار اُس وقت ملی جب اسلام آباد میں منعقدہ اکنامک سمٹ کانفرنس میں وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے موجودہ نظام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہتر گورننس کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس میں مختلف ماہرین نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ عوام تک حکومتی خدمات کی مؤثر رسائی اسی وقت ممکن ہے جب انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔
بعد ازاں پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی گورننس کو قومی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ ملک کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، لیکن انتظامی ڈھانچہ تقریباً وہی ہے، جس سے عوامی خدمات کی فراہمی مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے انتظامی یونٹس سے متعلق آئینی اور قانونی پہلوؤں پر بھی غور جاری ہے اور 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر بحث ہیں۔ ان میں نئے صوبوں کا قیام، بعض علاقوں کو وفاقی انتظام میں لانا، بلدیاتی نظام کو مزید بااختیار بنانا اور گورننس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا شامل بتایا جا رہا ہے۔
تاہم آئینی حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی نئے صوبے کے قیام یا موجودہ صوبوں کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے عمل میں سیاسی اتفاقِ رائے سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے مؤقف میں بھی واضح اختلاف دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی سخت مخالف سمجھی جاتی ہے اور اس کے رہنما متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ خصوصاً سندھ یا کراچی کی علیحدہ انتظامی حیثیت کی مخالفت کریں گے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) بھی تاحال اس معاملے پر کوئی واضح حکومتی پالیسی سامنے نہیں لا سکی، جبکہ دیگر جماعتیں بھی اپنے اپنے سیاسی مفادات اور علاقائی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنا چاہتی ہیں۔
ان حالات میں بعض حلقے ریفرنڈم کے ذریعے عوامی رائے لینے کی تجویز بھی پیش کر رہے ہیں، تاہم آئینی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ ریفرنڈم سے عوامی رائے تو معلوم کی جا سکتی ہے، مگر نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم اور پارلیمانی منظوری بہرحال لازمی ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف نئے صوبے بنانا نہیں بلکہ گورننس کو مؤثر بنانا ہے۔ اچھی حکمرانی کا مطلب شفاف نظام، مضبوط ادارے، قانون کی بالادستی، غیر جانبدار احتساب، بااختیار بلدیاتی نظام، وسائل کی منصفانہ تقسیم، میرٹ پر مبنی تقرریاں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی ہے۔ اگر یہ بنیادی اصلاحات نہ کی جائیں تو صرف نئے صوبوں کا قیام بھی عوامی مسائل کا مستقل حل ثابت نہیں ہوگا۔
دنیا کے مختلف ممالک نے انتظامی ضرورت کے تحت نئے صوبے یا ریاستیں قائم کر کے گورننس بہتر بنانے کی کوشش کی، لیکن کامیابی وہاں ملی جہاں مضبوط ادارے، واضح اختیارات، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا گیا۔
پاکستان کے تناظر میں بھی یہ بحث اب صرف جغرافیائی تقسیم تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا تعلق مؤثر حکمرانی، معاشی استحکام، انتظامی اصلاحات اور عوامی خدمت کے بہتر نظام سے جوڑا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ سیاسی قیادت اس معاملے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کر پاتی ہے یا نئے صوبوں کی یہ بحث ماضی کی طرح ایک بار پھر سیاسی اختلافات کی نذر ہو جاتی ہے۔
