امریکہ ایران سے فوری امن معاہدے کیلئے اتنا بے چین کیوں؟

پانچ ماہ سے جاری ایران۔امریکا کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی طاقتوں کی عسکری حکمت عملی کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکا اپنے جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے کئی اہم میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے، جس کے باعث مستقبل میں چین یا روس جیسے حریفوں کے خلاف اس کی عسکری تیاریوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔جس کی وجہ سے اب ٹرمپ انتظامیہ جلد از جلد ایران سے امن معاہدہ کرنے کیلئے بے چین نظر آتی ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان عمان کی ثالثی میں مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم خطے میں حوثیوں کے حملے اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی پر حملوں نے امن کی کوششوں کو اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔

ایران کے ساتھ کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں نے امریکا کے جدید اسلحہ ذخائر پر نمایاں دباؤ ڈال دیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق امریکی فوج اپنے زمین سے زمین پر مار کرنے والے جدید میزائل نظام، جن میں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم (اے ٹی اے سی ایم ایس) اور پریسیژن اسٹرائیک میزائل شامل ہیں، کا بڑا حصہ استعمال کر چکی ہے، جبکہ دفاعی نظام کے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائلوں کے ذخائر میں بھی قابلِ ذکر کمی آئی ہے۔ اسی طرح ٹوما ہاک کروز میزائلوں کا بھی ایک بڑا حصہ استعمال ہو چکا ہے۔

امریکی دفاعی حلقوں میں اس صورتحال پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ اگر مستقبل میں چین یا روس کے ساتھ کسی بڑے تنازع کا سامنا کرنا پڑا تو امریکا کو اپنی عسکری تیاریوں اور اسلحہ کی دستیابی کے حوالے سے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کے پاس دنیا کا سب سے بڑا دفاعی ذخیرہ موجود ہے اور دفاعی صنعت ریکارڈ رفتار سے نئے ہتھیار تیار کر رہی ہے۔

دوسری جانب سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کے لیے ایران، عمان اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی اطلاعات ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے مطابق مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور امکان ہے کہ جلد ایسا معاہدہ طے پا جائے جس سے عالمی تجارتی بحری راستہ دوبارہ مکمل طور پر کھل سکے۔

ان سفارتی کوششوں کے فوری اثرات عالمی منڈی میں بھی نمایاں نظر آئے، جہاں خام تیل کی قیمتیں تقریباً پانچ فیصد کمی کے بعد تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں اور برینٹ خام تیل اسی ڈالر فی بیرل سے نیچے فروخت ہونے لگا۔ سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو عالمی توانائی کی سپلائی میں استحکام کی امید سے تعبیر کیا۔

اس کے باوجود خطے میں سکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔ یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق ایئرپورٹ کا مرکزی ریڈار متاثر ہونے سے فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔ سعودی حکام کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

بحیرۂ احمر میں بھی کشیدگی برقرار ہے، جہاں یمن کے قریب ایک بھارتی مال بردار جہاز دھماکے کے بعد سمندر برد ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق جہاز کے تمام چودہ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم نئی دہلی نے اس واقعے کو اشتعال انگیز کارروائی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مجموعی طور پر موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک طرف امریکا عسکری وسائل پر بڑھتے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سفارتی ذرائع سے بحران کو کم کرنے کی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف عالمی توانائی کی منڈی کو استحکام مل سکتا ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید بھی پیدا ہوگی۔ تاہم مسلسل حملے اس امر کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ اب بھی مکمل طور پر ہموار نہیں ہوا۔

Back to top button