آزاد کشمیر میں فتح کے بعد شہباز حکومت خطرے میں کیوں؟

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے بعد وفاقی اتحادی سیاست میں ایک نئی ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایک طرف بلاول بھٹو زرداری مسلم لیگ (ن) پر مسلسل سخت تنقید کر رہے ہیں اور حکومت کی "الٹی گنتی” کا دعویٰ کر رہے ہیں، تو دوسری جانب صدر آصف علی زرداری کی طویل عرصے سے اسلام آباد سے غیر موجودگی نے سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ کیا یہ معمول کی سیاسی حکمتِ عملی ہے یا اتحادی حکومت کے اندر خاموش اختلافات کی علامت؟ یہی وہ سوال ہے جو اس وقت ملکی سیاست میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے نتائج نے نہ صرف انتخابی منظرنامے کو متاثر کیا بلکہ وفاقی اتحادی سیاست میں بھی نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ ابتدائی دو مراحل میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت، خصوصاً بلاول بھٹو زرداری، نے حکومت پر تنقید کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے خلاف سخت سیاسی مؤقف اختیار کیا اور احتجاجی تحریک سمیت حکومت کی "الٹی گنتی” شروع ہونے کے دعوے کیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کو امید تھی کہ آزاد کشمیر میں بھی وہ گلگت بلتستان جیسی انتخابی کامیابی حاصل کرے گی، لیکن نتائج توقعات کے برعکس آئے، جس کے بعد سیاسی بیانات میں شدت آ گئی۔ تاہم پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انتخابی شکست کے بعد دھاندلی کے الزامات لگانا تقریباً ہر بڑی جماعت کی روایت رہی ہے۔
اگرچہ بلاول بھٹو زرداری کے بیانات نے سیاسی ماحول کو خاصا گرم کر دیا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اس وقت وفاقی حکومت کی اہم اتحادی جماعتیں ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات دونوں جماعتوں پر یکساں مرتب ہوں گے، اس لیے فوری طور پر اتحاد ٹوٹنے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ پیپلز پارٹی میں حتمی سیاسی فیصلوں کا اختیار اب بھی صدر آصف علی زرداری کے پاس ہے، جبکہ بلاول بھٹو زرداری بطور چیئرمین اپنی جماعت اور کارکنوں کے سیاسی جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ماضی میں بھی کئی مواقع پر بلاول کے جارحانہ سیاسی بیانات کے بعد آصف علی زرداری نے نسبتاً مفاہمانہ اور محتاط حکمتِ عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں بڑے سیاسی تصادم سے گریز کیا گیا۔
ادھر مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بھی اپنے رہنماؤں کو محتاط رہنے اور پیپلز پارٹی کے بیانات پر سخت ردعمل سے اجتناب کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ اتحادی حکومت میں غیر ضروری محاذ آرائی سے بچا جا سکے۔
ان تمام سیاسی سرگرمیوں کے درمیان ایک اہم سوال صدر آصف علی زرداری کی طویل عرصے سے اسلام آباد سے غیر موجودگی پر اٹھ رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ توجہ حاصل کر رہا ہے کہ صدر مملکت گزشتہ کئی ہفتوں سے سندھ میں موجود ہیں، جس پر مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ بعض مبصرین اسے ممکنہ سیاسی ناراضی یا پسِ پردہ مشاورت سے جوڑ رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کسی بھی سرکاری یا مستند ذریعے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مجموعی طور پر آزاد کشمیر کے انتخابات نے اتحادی سیاست میں وقتی تناؤ ضرور پیدا کیا ہے، لیکن موجودہ سیاسی بندوبست میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی سیاسی ضرورت بھی ہیں۔ اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ سخت بیانات کے باوجود دونوں جماعتیں ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کریں گی جو حکومت کے استحکام کو براہِ راست متاثر کرے۔ البتہ صدر زرداری کی طویل غیر موجودگی اور اتحادی قیادت کے درمیان بڑھتی سیاسی تلخی آئندہ دنوں میں ملکی سیاست کی سمت پر ضرور اثرانداز ہو سکتی ہے۔
