کیا سپریم کورٹ آئینی تشریح کے نام پر پارلیمنٹ کو مفلوج کر رہی ہے؟

سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران مقتدرہ اور سپریم کورٹ میں محاذ آرائی نظر آئی، جو اب پارلیمان اور سپریم کورٹ میں دکھائی دے رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد ضروری ہے مگر سپریم کورٹ کا آئینی تشریح کے نام پر آئین سازی اور قانون سازی کا اختیار استعمال کرنا بہرحال خطرناک حد ہے، جسے اب کئی بار عبور کیا جا چکا ہے۔ سپریم کورٹ کے تقسیم اور اکثریتی ججوں کا ایک طرف ہونا اس بات کی قطعاً دلیل نہیں کہ عوامی عدالتوں کا قیام ہو اور فیصلے قانون و آئین کی بجائے رائے عامہ پر ہوں۔ موجودہ آئینی بحران وسیع تر ہو رہا ہے، جب کہ آنے والے دنوں میں ایسی قانون سازی ہو سکتی ہے، جو مزید بحران کا سبب بنے۔ شاید ججز کی بےباک تقاریر اسی کی پیش بندی ہیں۔

انڈیپنڈنٹ اردو کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ ہم تاریخ کے عجب موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں، جہاں جمہوریت کے نام پر آمریت اور آئین کے نام پر بے آئینی کا رواج عام ہو چکا ہے۔ دستور کے معنی بدل گئے ہیں، جب کہ ہر کوئی اپنے اپنے قوانین بنائے بیٹھا ہے۔ اختیار کی یہ لڑائی حتمی مرحلے کے دروازے پر پہنچ چکی ہے۔ ایسا کبھی ہوا نہیں مگر جو ہو رہا ہے ایسا کب تک چلے گا؟۔ عاصمہ شیرازی کے مطابق پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت تو عرصہ دراز سے رخصت ہو چکی یا شاید کبھی آئی ہی نہیں۔ بہرحال اسی پارلیمنٹ نے ٹوٹے پاکستان کو بے انتہا تفریق کے دور میں بے اندازہ تقسیم کے ماحول میں ایک متفقہ آئین دیا۔ تاہم اب سیاسی اور ادارہ جاتی تقسیم کا یہ عالم ہے کہ اس واحد متفقہ آئین کی انفرادیت اور اشتراکیت خطرے کا شکار ہو گئی ہے۔

عاصمہ شیرازی کے مطابق اختیارات کی لڑائی کے فریق بڑھتے جا رہے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب میں انتظامیہ کو چیلنج دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد تو ہر حال میں کرنا ہو گا۔ تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سینیئر ترین جج، جنہیں چند ماہ میں چیف جسسٹس مقرر ہونا ہے، اس طرح کے الفاظ کیوں کر استعمال کررہے ہیں؟ جنہیں انصاف کی اعلیٰ ترین کرسی پر بیٹھنا ہے انہیں یہ کیوں کہنا پڑا کہ انتظامیہ کے پاس عمل درآمد کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ایک سینیئر ترین جج کے یوں کھل کر بولنے کی کوئی وجہ تو ہو گی؟ کوئی خدشہ تو ایسا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ جیسے معتبر جج کو بولنے پر مجبور کر رہا ہے۔ جانتے ہوئے کہ ججوں کے فیصلے بولتے ہیں جج نہیں، سمجھتے ہوئے کہ منصف کا قلم اظہار کا معتبر ذریعہ ہے، ادراک رکھتے ہوئے کہ الفاظ کا چناؤ ایک جج کے لیے کس قدر اہمیت رکھتا ہے، کیوں کر اُنہیں عوام کے بیچ آ کر یہ دھمکی آمیز الفاظ کہنا پڑے؟

عاصمہ شیرازی سوال اٹھاتے ہوئے مزید کہتی ہیں کہ کیا ہم پارلیمانی جمہوریت سے نکلتے اور آمریت سے بچتے ہوئے عدالتی حاکمیت کا شکار ہو رہے ہیں؟ کیا کمزور سیاست اور کمزور پارلیمان اختیار کا ایک اور مرکز تشکیل دے چکے ہیں؟ کیا مقتدرہ اور عدلیہ طاقت کی کھینچا تانی میں آئین جیسی دستاویز کو فراموش کر رہے ہیں؟

عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ عدالت عظمی کس اختیار کے تحت مخصوص نشستوں کے معاملے پر قانون اور آئین کے تحت دیے گئے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے؟ کس طرح الیکشن کمیشن کی آئینی حدود میں مداخلت کر سکتی ہے؟ بہر حال سپریم کورٹ کی جانب سے 63 اے کی تشریح کا معاملہ ہو یا 90 دن میں انتخابات سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد کا مسئلہ۔۔ آئین ہر جگہ پس پشت ڈالا گیا ہے۔ اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔

عاصمہ شیرازی کے مطابق ملک میں سیاسی بحران کی شدت کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ اس بابت بار بار بنگلہ دیش کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ نیکٹا اس سلسلے میں جو خدشات پرچے کی صورت میں نکال چکا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی طور اداروں میں پریشانی بہرحال موجود ہے، جبکہ عمران خان کسی بڑے واقعے کے خدشے کا اظہار حال ہی میں کر چکے ہیں۔ نو مئی کا واقعہ بھی کسی ایسے ہی بڑے خدشے کا نتیجہ تھا مگر ایک ناکام سازش ثابت ہوا۔۔ تاہم اب ملکی سیاسی نظام مین کسی سانحے کی گنجائش نہیں۔

Back to top button