کیا 9 مئی کے ناکام انقلاب کے بعد کسی اور انقلاب کا امکان ہے؟

سری لنکا اور بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی انقلابی تحریکوں کے نتیجے میں حکومتیں فارغ ہو جانے کے بعد اب نیپال میں بھی ویسا ہی انقلاب آ گیا ہے جس کے بعد سے عمران خان کے ہمدرد یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ جنریشن زی کچھ ایسا ہی انقلاب پاکستان میں بھی لانے والی ہے۔
تاہم ایسی امید لگانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان تینوں ممالک میں انقلاب کے بعد فوج اقتدار پر حاوی ہے جبکہ پاکستان میں انقلاب 2022 میں ہی آ گیا تھا جب فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے نے عمران خان کو اقتدار میں لانے والے دھڑے کو اسکے وزیر اعظم سمیت فارغ کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے 9 مئی کو عمران خان اور فیض حمید کے حمایتی دھڑے نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے جن کا بنیادی مقصد فوج کے اندر بغاوت کو ہوا دے کر جنرل عاصم منیر کو اقتدار سے نکالنا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان اپنے انقلاب سمیت اڈیالہ جیل میں بند ہیں اور ان کے جلد باہر آنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لہذا پاکستان میں نیپال کے طرز پر کسی انقلاب کی امید رکھنا بھی فضول ہے کیونکہ یہاں پہلا انقلاب 2022 میں ہی آ گیا تھا جبکہ دوسرے انقلاب کی کوشش 9 مئی 2023 کو ناکام بنا دی گئی تھی۔
دراصل جنوبی ایشیا میں نیپال تیسرا ملک ہے جہاں اس طرح حکومت کو گھر بھیجا گیا ہے۔سب سے پہلے سری لنکا کے ڈیفالٹ کر جانے کے بعد لوگوں نے ایوان صدر کی طرف مارچ کیا اور سری لنکا کے صدر کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد وہاں حکومت تبدیل ہوئی۔ بعدازاں ڈھاکہ میں بھی نوجوان باہر نکلے۔ انھوں نے نہ صرف حسینہ واجد کی حکومت کو گھر بھیج دیا بلکہ حسینہ کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اب نیپال میں بھی تقریباً یہی ہوا ہے جس کے بعد تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے پاکستان میں بھی ایسے ہی انقلاب کی امید جگانا شروع کر دی ہے۔ عمران کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے سب سے پہلے سری لنکا میں حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو سری لنکا بنانے کا بیانیہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ تب یہ بےہودہ پروپگینڈا کیا گیا کہ پاکستان بھی سری لنکا بن جائے گا۔ یہاں بھہ سری لنکا جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ لیکن یوتھیوں کی تمام تر امیدوں کے برعکس نہ تو پاکستان نے ڈیفالٹ کیا اور نہ ہی پاکستان سری لنکا بنا۔ آج پاکستان معاشی طور پر پہلے سے کئی زیادہ مستحکم ہے اور سیاسی استحکام بھی آ چکا ہے۔
سری لنکا کے بعد جب پچھلے برس بنگلہ دیش میں حالات خراب ہوئے اور نوجوان کوٹہ سسٹم کے خلاف سڑکوں پر نکلے تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا برگیڈ نے ایک مرتبہ پھر انقلاب کی نوید سنانا شروع کر دی۔ حسینہ واجد کی حکومت نے پہلے نوجوانوں کو ریاستی طاقت سے کچلنے کی کوشش کی لیکن جب فوج نے ہاتھ کھڑے کر دیے تو حسینہ واجد کو ملک سے بھاگ کر بھارت جانا پڑ گیا۔ اس کے بعد عمران خان کے پیروکاروں نے پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی پیش گوئیاں کرنا شروع کر دیں۔ تحریک انصاف نے یک دم اپنے نوجوانوں کے ونگ متحرک کرنا شروع کر دیے اور یہ بیانیہ بنانا شروع کر دیا کہ پاکستان میں بھی بنگلہ دیش جیسے حالات ہیں اس لیے یہاں بھی عوامی انقلاب آ جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے پیروکار نے تو پاکستان اور سری لنکا کا فرق سمجھ سکے اور نہ ہی پاکستان اور بنگلہ دیش کا فرق سمجھ سکے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اگر نیپال میں انقلاب آ سکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پاکستانی نوجوانوں کو انقلاب لانے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور اس حوالے سے نیپال کی مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ عمران خان کے حمایتیوں نے 9 مئی 2023 کو ایسا ہی انقلاب لانے کی ایک ناکام کوشش کی تھی اور ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہو گئے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عمران جیل چلے گئے اور ان کی جماعت کی سٹریٹ پاور ختم ہو گئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویسے بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی جماعت کا سربراہ جیل چلا جائے اور اس کے پیروکار انقلاب لانے میں کامیاب ہو سکیں۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم اور قائد عوام کا خطاب پانے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی جب ضیا مارشل لا کے نتیجے میں گرفتار ہوئے تو ان کے پیروکار خود سوزیاں کرنے کے باوجود انہیں قید سے چھڑوانے میں ناکام رہے تھے۔ لہذا عمران خان اور ان کے پیروکاروں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔
