پاک بھارت دوستی کا ٹاسک ISI اور RAW کو مل گیا

پاکستان کی ایک اعلی ترین فوجی شخصیت نے میڈیا سے تعلق رکھنے والے تیس صحافیوں کو حال ہی میں ایک خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے بھارت کے ساتھ کشمیر کا سودا کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
تاہم اس بریفنگ کو نہ صرف خفیہ رکھا گیا بلکہ آف دی ریکارڈ بھی ڈکلئیر کر دیا گیا تھا اور اس کی رپورٹنگ کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی لیکن سوشل میڈیا پر اس حوالے سے رپورٹس آنے کا ایک سلسلہ جاری ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ بریفنگ دینے والی اعلی ترین فوجی شخصیت نے پاکستان اور بھارت کے مابین خفیہ مذاکرات کی تصدیق کی اور بتایا کہ پاک بھارت لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کی افواج کے مابین سیز فائر کا اعلان آئی ایس آئی کے سربراہ اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ کے مابین مذاکرات کے بعد ہوا۔
افطار ڈنر پر دی گئی بریفنگ بریفنگ میں اعلی فوجی شخصیت نے بتایا کہ بھارت نے تناؤ کو کم کرنے کے لیے دسمبر 2020 میں جموں و کشمیر سمیت تمام دیگر امور پر بیک چینل مذاکرات کی پیشکش کی اور پاکستان نے اس کی بھرپور حمایت کی تھی۔ بعد ازاں بھارتی پیشکش پر پاکستانی قیادت کے درمیان تبادلہ خیال ہوا اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے تمام آپشنز کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا کہ بھارت نے تجویز پیش کی تھی کہ جامع بات چیت میں تمام مسائل ایک جگہ زیر بحث لانے کے بجائے دونوں ممالک تمام متنازع معاملات پر شانہ بشانہ بات چیت شروع کریں۔ چنانچہ پاکستانی قیادت نے ان تمام آپشنز پر اتفاق کیا تھا جو تناؤ کو کم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب سفارتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات کی کوششوں کا آغاز بھارت کی جانب سے نہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے کیا گیا تھا اور بھارت سے زیادہ پاکستان ان مذاکرات میں سنجیدہ تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل باجوہ کی جانب سے پچھلے ماہ ایک تقریر کے دوران بھارت کو جو گڈ ول جیسچر دیا گیا اسے بھی ان مذاکرات کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔
سینئر صحافی حضرات کو دی گئی بریفنگ کے دوران اعلیٰ فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسوقت پاکستان کے لیے ایک مناسب موقع ہے کہ اسٹریٹجک توقف کیا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمیں تشدد سے دوری اختیار کر کے داخلی معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فوجی عہدیدار نے بتایا کہ بیک چینل مذاکرات دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہوں کے مابین ہو رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ نئی دہلی کا اصرار تھا کہ کسی سیاسی پلیٹ فارم کی بجائے مذاکرات خفیہ ہونے چاہیں اور اسلام آباد نے اس پر اتفاق کیا تھا۔ اعلی فوجی عہدیدار نے دعوی کیا کہ ابتدائی مرحلے میں پاکستان کی بڑی دلچسپی یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اپنی پرانی ریاستی حیثیت پر واپس آجائے اور بھارت متنازع علاقے میں آبادیاتی تبدیلیوں کو روکنے پر آمادہ ہو جائے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں حکومتوں نے ابھی اس اقدام میں کسی تیسری پارٹی کو شامل نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم یہ تو حقیقت ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے تسلسل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کروانے کی کوششوں کا تذکرہ ہو رہا ہے۔
صحافیوں کو دی گئی بریفنگ کے دوران اعلیٰ فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت دونوں نے براہ راست اور بالواسطہ پالیسیاں اپنائیں اور ناکام ہوئے۔ ایک سوال کے جواب میں فوجی شخصیت نے بتایا کہ ‘بات چیت کا راستہ قدرے پیچیدہ تو ہوگا لیکن اگر ہم اس پر قائم رہے تو ہم اپنے مقاصد تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس موقع پر ایک صحافی نے فوجی شخصیت سے سوال کیا کہ ماضی میں جب یہی کام نواز شریف کر رہے تھے تو جنرل مشرف نے ان کی کوششوں کو سبوتاژ کیوں کیا؟ اس سوال پر فوجی شخصیت کا کہنا تھا کہ اس کا جواب جنرل مشرف دے سکتے ہیں، وہ نہیں۔
بریفنگ کے دوران اعلی فوجی شخصیت نے بتایا کہ پاک بھارت بیک دوڑ بات چیت کو اسوقت دھچکا لگا جب وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھارت سے چینی اور گندم کی درآمد کا اعلان کیا لیکن کابینہ نے اس فیصلے کی منظوری نہیں دی۔ انکا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت چند وزرا نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی جس کے بعد فیصلہ واپس لینا پڑا۔ فوجی شخصیت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا خفیہ مذاکرات پر منفی اثر پڑا اور حکومت پر سخت مؤقف اپنانے کے لیے دباؤ بھی ڈالا گیا تھا۔
بریفنگ کے دوران اعلی فوجی شخصیت نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ابتدائی بیک چینل رابطے 2017 میں ہوئے تھے۔ سینئر بھارتی عہدیداروں نے بات چیت شروع کرنے کے لیے پاکستانی انٹیلی جنس اور فوجی قیادت کو ایک خفیہ پیغام پہنچایا تھا۔اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس بیک دوڑ مذاکرات کو آگے بڑھایا جو پھر بتدریج جاری رہا تاہم پچھلے سال دسمبر میں بات چیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ اس کے بعد سے اعتماد سازی کے متعدد اقدامات ہوچکے ہیں جس میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدہ بھی شامل ہے۔ فوجی شخصیت نے یہ بھی دعوی کیا کہ پاکستانی سول اور فوجی قیادت بھارت کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں ایک ہی پیج پر ہیں۔ ماضی میں فوجی قیادت کا بھارت کے ساتھ پالیسیوں پر منتخب قیادت سے اختلاف رائے رہتا تاہم اب فوجی ہائی کمان بھی جنوبی ایشیا میں قیام امن چاہتی ہے۔ فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘جنگ سے کبھی مسائل کا حل نہیں نکلا اور دو ایٹمی طاقتیں تنازعات کے متحمل نہیں ہوسکتیں۔ انکا مؤقف تھا کہ فوجی قیادت امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوگی کیونکہ اب جنگ آپشن نہیں ہے۔
حیران کن طور پر فوجی شخصیت کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کو آج سرحدوں پر تصادم کی صورتحال میں پھنس جانے کے بجائے صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور آبادی پر قابو پانے جیسے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم ہمیشہ کے لیے تنازعات کا شکار نہیں رہ سکتے۔ اگر ہم تاریخ کو دیکھتے رہے تو پرانے زخموں کو دوبارہ کھولتے رہیں گے، انکا کہنا تھا کہ اگر ہم ماضی کی غلطیوں کے یرغمال بنے رہیں تو آگے بڑھنا ناممکن ہوگا۔ فوجی عہدیدار کا اصرار تھا کہ ‘بعض اوقات ایک قدم پیچھے ہٹنے سے ہم دو قدم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انکا دعوی تھا کہ اب ہم اپنی پرانی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے جہاد، جہادی کلچر اور جہادیوں سے دوری اختیار کر رہے ہیں کیونکہ یہ لوگ اب ہمارا اثاثہ نہیں بلکہ ہم پر بوجھ بن چکے ہیں۔ فوجی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ ریاست معاشرے سے عسکریت پسندی کا خاتمہ اور پاکستان کو ایک ’عام‘ ریاست بنانا چاہتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستانی فوجی قیادت اب تنازعات کے حل اور خطے میں امن کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹے گی۔
تاہم اس حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ فوجی شخصیت کی جانب سے 30 صحافیوں کو دی گئی اس خفیہ بریفنگ کا بنیادی مقصد پاکستانی میڈیا کو کشمیر کے سودے پر اعتماد میں لینا تھا۔ ناقدین نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا سودا اس حکومت کے دور میں ہو رہا ہے جس کے وزیراعظم نے آرمی چیف کو مسئلہ کشمیر سے نمٹنے کے نام پر ایکسٹینشن دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button