پارلیمنٹ اور عدلیہ کی جنگ میں فاتح کون ہوگا؟

پاکستان کا سیاسی منظر نامہ عجلت میں کی گئی قانون سازی، عدالتی مداخلت ، سیاسی جماعتوں کے باہمی تنازعات اور عدام استحکام سے عبارت ہے جبکہ اس صورتحال میں فوری طور پر کسی بہتری کے آثار نہیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے اختیارات محدود کرنے کے حوالے سے پارلیمنٹ کھ منظور کردہ عدالتی اصلاحاتی بل نے پاکستان کے پہلے سے گرم سیاسی ماحول کا درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔ نہ صرف یہ قانون تنازعات کا شکار ہے بلکہ اس قانون کے خلاف بننے والے سپریم کورٹ کے بینچ کو بھی متنازعہ قرار دے کر  تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور حکومت کی اتحادی جماعتیں نہ صرف علی اعلان اس بینچ کو مسترد کرچکی ہیں بلکہ پاکستان بار کونسل نے کل ہی اس بینچ کی تشکیل کے خلاف پورے ملک میں ہڑتال کا اعلان کردیا تھا۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف اس مسئلے پرسپریم کورٹ کی مدد کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے اور اس نے سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرے بھی کیے ہیں۔اس معاملے پر نہ صرف سیاسی جماعتیں منقسم ہیں بلکہ تقسیم کی یہ لہر عدلیہ، میڈیا اور وکلا برادری کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی ہوئی نظر آرہی ہے۔اس ساری صورتحال میں گھرے 22 کروڑ سے زیادہ پاکستانی عوام ہیں، جن میں آٹھ کروڑ لوگ  وہ بھی ہیں جو سطح غربت سے نیچے رہے ہیں۔ بظاہر ان کو ان عدالتی کارروائیوں، قانون سازی، سیاسی بے یقینی اور لاحاصل سیاسی لڑائی سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ان کی دلچسپی کا محور ان کے روزمرہ کی ضروریات ہیں، جس کے لئے لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ہوشربا مہنگائی کے اس دور میں مفت آٹے کے ایک تھیلے کے لیے درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔

مبصرین اور سیاست دان اس صورت حال کا ذمہ دار مختلف فریقوں کو ٹھہرا رہے ہیں۔ن لیگ کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کی ذمہ دار پی ٹی آئی ہے۔ ن لیگ کے رہنما اور خیبر پختونخواہ کے سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران عمران خان کی ضد اور غیر جمہوری پالیسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا، ”پی ٹی آئی ملک کو انارکی اور عدم استحکام کی طرف لے کر جانا چاہتی ہے لیکن حکومت ایسا نہیں ہونے دے گی۔ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ اکتوبر تک انتخابات کا انتظار کرے۔‘‘

تاہم کئی مبصرین اقبال ظفر جھگڑا کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس بحران کی ذمہ دار وہ طاقتیں ہیں، جو پاکستان میں آئین کی عملداری نہیں چاہتی۔ ان کے خیال میں اگر آئین پر عمل کیا جائے تو موجودہ بحران بھی ختم ہو سکتا ہے اور ملک کو سیاسی عدم استحکام کی دلدل سے بھی نکالا جا سکتا ہے۔

 لاہور سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصرحبیب اکرم کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ کچھ سیاسی جماعتیں آئین شکنی کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا، ” جب آئین واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کے ٹوٹنے کے بعد 90 دن میں انتخابات کرانا ضروری ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت 90 دن میں الیکشن کیوں نہیں کرارہی۔‘‘حبیب اکرم کے مطابق موجودہ گھمبیر صورت حال کا کوئی نتیجہ اس لئے نہیں نکل رہا کیونکہ آئین سے انحراف کیا جارہا ہے۔ ”آئین پرعمل درآمد کیا جائے اور پنجاب اور کے پی میں انتخابات کروائے جائیں۔ اس سیاسی بے یقینی کا حل  نکل آئے گا۔‘‘

پاکستان کی گھمبیر سیاسی صورت حال کو حل کرنے کے لئے ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ مداخلت کر کے اس کا کوئی حل نکالا ہے۔ معروف سیاسی تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا، ” انتخابات موجودہ بحران کا صرف ایک حل ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حل پیش کون کرے گا کہ سارے فریق اسے تسلیم کر لیں۔ ساری سیاسی جماعتیں آپس میں الجھی ہوئی ہیں اور وہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘سہیل وڑائچ کے مطابق ایسی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کو ہھی اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا پڑے گا۔ ” اور جی ایچ کیو جس کا ساتھ دے گا، وہی فریق حاوی ہوگا۔‘‘

سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ بحران کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ”میرے خیال میں ساری سیاسی جماعتیں موجودہ بحران کی ذمہ دارہیں۔ پہلے پاکستان تحریک انصاف نے تحریک عدم اعتماد کے موقع پر غیر آئینی اقدامات کئے اور اب مسلم لیگ نون کے رویے میں لچک نہیں ہے جس کی وجہ سے بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

موجودہ صورتحال سے صرف عوام ہی پریشان نہیں ہیں بلکہ حکمران اتحاد کی جماعتیں بھی اس پر تحفظات رکھتی ہیں۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میوزیکل چیئر کا گیم لگتی ہے۔ انہوں نےبتایا، ”اس میوزیکل چیئر کے گیم میں وہی جیتے گا، جو کرسی حاصل کرلے گا۔ سیاسی جماعتوں کی تگ و دو صرف اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہے۔ پہلے تحریک انصاف ہر صورت میں اقتدار حاصل کرنا چاہتی تھی اور اب پاکستان مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی جماعتیں کرسی سے چپکے رہنا چاہتی ہیں۔‘‘

 

قبائلی علاقوں میں ایک اور فوجی آپریشن کا امکان

Back to top button