کاکڑ کی نگراں حکومت کے طویل ہونے کا خدشہ کیوں؟

انتخابات میں مردم شماری اور حلقہ بندیوں کی وجہ سے دو ماہ سے زیادہ تاخیر کے لیے آئین میں گنجائش ڈھونڈنی پڑے گی، جو قاضی فائز عیسی کے چیف جسٹس بننے کے بعد آسان کام نہیں ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار سینئر اینکر پرسن عادل شاہ زیب نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ عادل شاہ زیب کا مزید کہنا ہے کہ آخر کار نگران وزیراعظم کا ہما ایسے شخص کے سر بیٹھا جن کا متوقع امیدواروں کی فہرست میں نام ہی نہیں تھا۔ اسحٰق ڈار اور جلیل عباس جیلانی جیسے مضبوط امیدواروں کے ہوتے ہوئے انوارالحق کاکڑ کی انٹری شاید خود ان کے لیے بھی حیرت انگیز تھی۔
بہرحال اب ایک جمہوری عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور نگران وزیراعظم کے لیے سب سے بڑا چیلنج عام انتخابات کے شفاف اور بروقت انعقاد کو ہی ممکن بنانا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سابق حکومت کے جاتے جاتے انتخابات نئی مردم شماری پر کرانے کے فیصلے سے انتخابات اب نومبر میں نہیں ہو پائیں گے لیکن نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو امید ہے کہ عام انتخابات فروری میں ہو جائیں گے اور ساتھ ہی یہ خدشات بھی کہ نگران سیٹ اپ لمبا چل سکتا ہے۔دیکھنا یہ ہو گا کہ ان کی امید آئندہ چند ہفتوں میں بھی اسی طرح قائم رہتی ہے یا خدشات امیدوں پر حاوی ہو جائیں گے۔
عادل شاہ زیب کے بقول انورالحق کاکڑ ایک ذہین اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں، ان کی نامزدگی پر اعتراضات بھی ہوئے کہ وہ باپ (BAP) کے رہنما ہیں جن کو اسٹیبلیشمنٹ کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ لیکن ایک جمہوری عمل کے ذریعے ان کی نامزدگی سابق وزیراعظم شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض نے کی، ایسے میں اعتراض کی زیادہ گنجائش بنتی نہیں۔
البتہ بروقت اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں کامیابی ہی ان کا انتخاب درست ثابت کرے گی۔ انتخابات میں تاخیر کے خدشات بہر حال موجود ہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات بروقت یعنی نومبر میں ہو جائیں گے؟اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ’آئین یہی کہتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔‘ لیکن اب تک جتنے بھی اہم سٹیک ہولڈرز سے اس بارے میں گفتگو ہوئی اس بنیاد پر وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ عام انتخابات بروقت یعنی نومبر میں ہی ہوں گے۔مردم شماری اور حلقہ بندیاں اور پھر ان پر اعتراضات ایسے معاملات ہیں جس سے عام انتخابات میں کم از کم آٹھ ہفتے کی تاخیر ہو سکتی ہے یعنی عام انتخابات اگلے برس فروری یا اس کے فوراً بعد تک جا سکتے ہیں۔‘
عادل شاہ زیب کے مطابق انوارلحق کاکڑ کے نگران وزیراعظم بننے کے بعد لمبی مدت کے نگران سیٹ اپ کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ کچھ ذرائع تو مصر ہیں کہ دو سال کا منصوبہ تیار ہو چکا ہے۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ انتخابات میں اگر مردم شماری اور حلقہ بندیوں کی وجہ سے دو ماہ سے زیادہ تاخیر مقصود ہو۔ یعنی نگراں حکومت فروری کے بعد الیکشن کی خواہاں ہو تو آئین میں اس کی گنجائش ڈھونڈنی پڑے گی جو قاضی فائز عیسی کے چیف جسٹس بننے کے بعد آسان کام نہیں ہو گا۔اس وقت ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نگران سیٹ اپ کے مکمل ہونے اور اس کے بعد اس کے اثرات کا انتظار کر رہے ہیں لیکن حکومت ختم ہونے کے بعد ان کے خدشات بڑھ چکے ہیں۔
عادل شاہ زیب کے مطابق انوار الحق کاکڑ، شہباز شریف اور راجہ ریاض کے تعینات کردہ نگران وزیراعظم ضرور ہیں لیکن ان کی تقرری پر سابق نواز شریف کا کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی بھی بہت سے معاملات پر خاموش ہے۔ تاہم سردار اختر مینگل نے ان کی کھل کر مخالفت بھی کر دی ہے۔آئندہ آنے والے چند ہفتوں سے یہ واضح ہو جائے گا کہ سابق اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں کی سیاست کس کروٹ بیٹھے گی۔ کیا ان کے لیے سختیاں بڑھ سکتی ہیں؟ اس کا سوال کا جواب فی الحال
غیر ملکی سفیر بھی جشنِ آزادی کے رنگ میں رنگ گئے
نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کے پاس ہی ہے۔
