بغل میں چھری، منہ میں رام رام: افغان طالبان کی دوغلی پالیسی بے نقاب

افغان طالبان کی دوغلی پالیسی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی، عالمی برادری سے امن کے وعدوں کے برعکس شدت پسندوں کی سرپرستی کرنے کی وجہ سے افغان سرزمین پھر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گئی۔ مبصرین کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد عالمی برادری کو یہ یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور دہشتگرد تنظیموں کا خاتمہ ترجیحات میں شامل ہوگا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ متعدد بین الاقوامی رپورٹس اور سکیورٹی تجزیے ان دعوؤں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

حال ہی میں امریکی جریدے "یوریشیا ریویو” میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے افغان طالبان حکومت کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر مختلف شدت پسند اور دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے جبکہ طالبان حکومت ان گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج، القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں سے وابستہ غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ امریکی اور روسی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہزاروں جنگجو افغانستان میں مختلف نیٹ ورکس کے تحت سرگرم ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک میں عسکریت پسندوں کے تربیتی مراکز، محفوظ پناہ گاہیں اور لاجسٹک ڈھانچے کا برقرار رہنا اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ یا تو ریاست ان عناصر کے خلاف مکمل طور پر کارروائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی یا پھر ان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے میں سنجیدگی کا فقدان موجود ہے۔

علاقائی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اسلام آباد کئی بار کابل حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور سرحد پار دہشتگردی کے خطرے کو ختم کرے۔بین الاقوامی سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق اگر افغانستان دوبارہ بین الاقوامی دہشتگرد نیٹ ورکس کا مرکز بنتا ہے تو اس کے اثرات وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان حکومت اس وقت بین الاقوامی تنہائی، معاشی مشکلات اور داخلی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث وہ تمام مسلح گروہوں کے خلاف مکمل کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم ناقدین اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر طالبان واقعی عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔دفاعی ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان فرق ہے۔ اگر طالبان حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے دعوے کرتی ہے تو اس کے ثبوت بھی عالمی برادری کے سامنے آنے چاہئیں۔ صرف بیانات سے نہ تو خطے کے ممالک مطمئن ہوں گے اور نہ ہی افغانستان کی عالمی سطح پر قبولیت کا راستہ ہموار ہوگا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینے افغانستان کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔ اگر طالبان حکومت دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتی ہے تو اس سے علاقائی اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر موجودہ خدشات برقرار رہے تو افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دباؤ، سفارتی تنہائی اور سکیورٹی بحران کا سامنا کر سکتا ہے۔خطے کے امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو ہر قسم کی دہشتگرد سرگرمیوں سے پاک کرے، کیونکہ جنوبی اور وسطی ایشیا کا مستقبل مسلح گروہوں اور پراکسی جنگوں کی بجائے امن، اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط سے جڑا ہوا ہے۔

Back to top button