بہار کی آمد کا جشن ’’بسنت‘‘ خونی کھیل کیسے بن گیا؟

خزاں یا جاڑے کے موسم کے بعد موسم بہار کو دنیا کے کئی ممالک میں بڑے اہتمام کیساتھ منایا جاتا ہے، جہاں رنگا رنگ فیسٹیول منعقد ہوتے ہیں، پنجاب میں بھی اسی مناسبت سے ’’بسنت‘‘ کا تہوار منایا جاتا ہے، بسنت برصغیر کا صدیوں پرانا تہوار ہے، بہار کے خوشگوار موسم کا استقبال کرنے کے لئے ماگھ کے مہینے کی پانچ تاریخ کو ایک جشن کا اہتمام کیا جاتا تھا جوکہ ’بسنت پنچمی‘ کہلاتا۔پت جھڑ کے بعد ، جب درختوں پر ہریالی آتی ہے، پھولوں کی کلیاں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں، تب بسنت کاموسم آتا ہے جو دنیا بھر میں کسی نہ کسی روپ میں منایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں جب اسلام کی صوفی روایت نے زور پکڑا تو ہندو اور مسلمان مل کر یہ جشن منانے لگے، بتایا جاتا ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء اپنے بھتیجے کی وفات پر سخت غمزدہ تھے، موسمِ بہار نے انگڑائی لی تو حضرت امیر خسرو نے پیلے رنگ کا لباس پہنا‘ ہاتھ میں سرسوں کا پودا لیا جسکے پیلے پیلے پھول پورے جوبن پر تھے۔ جب وہ اس حُلیے میں حضرت نظام الدین اولیاء کے سامنے نمودار ہوئے تو حضرت مسکرا دئیے اور پھر کھلکھلا کے ہنسنے لگے اور اس طرح بسنت کے تہوار کو ،باقاعدہ منانے کی صوفی روایت کا آغاز ہوا۔جوکہ کسی نہ کسی شکل میں گزشتہ آٹھ صدیوں سے جاری ہے، بسنت کا تہوار یوں تو صدیوں سے منایا جا رہا ہے، لیکن پنجاب میں مقبولیت اسے انیسویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں ملی، جب پنجاب میں مہاراجہ کی حکومت کا سکہ چلتا تھا۔ بسنت اس دور میں پوری شان و شوکت سے منائی گئی تھی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ اور اس کی مہارانی مائی موراں پیلے رنگ کے پیرہن زیب تن کرتے اور لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے تھے۔ تب پنجابی فوج کے جوان پیلے رنگ کے لباس پر زِرہ بکتر سجائے اپنی شان دکھاتے تھے۔ امرتسر، قصور اور لاہور میں بسنت زور و شور سے منائی جاتی تھی، خوب پتنگ بازی ہوتی، مہاراجہ اور مہارانی خود پتنگ بازی کرتے اور عوامی میلوں کو اپنی شمولیت سے خوشی بخشتے تھے۔ یعنی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں پتنگ بازی کو بھی بسنت کے تہوار میں شامل کر دیا گیا اور صوبہ پنجاب میں اسے خاصی پذیرائی ملی۔ لیکن تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان میں بسنت کا تہوار محض پتنگ بازی سے مخصوص ہو کر رہ گیا۔ پنجاب میں آج سے بیس سال قبل تک بسنت کا تہوار خوب جوش سے منایا جاتا رہا۔ پتنگ بازی بھی ہوتی تھی، چھتوں سے بو کاٹا کی آوازین بلند ہوتی۔ لوگ بسنت کے تہوار کے لئے مہینہ پہلے ہی پتنگیں خریدنا اور ڈور بنوانا شروع کر دیتے تھے۔ اپنی پتنگ کٹنے سے بچانے اور دوسروں کی پتنگ کاٹنے کے لئے ایسی ڈور کا استعمال شروع ہوا جس پر کانچ کو پیس کر اُس کا پاؤڈر اس درجے پر لگایا جاتا ہے کہ ڈور تیار ہو کر چھری سے بھی تیز دھار ہو جاتی ہے۔ اسی لئے 2001 سے پاکستان میں دھاتی یا کیمیکل ڈور استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے، اس کی سزا 6 ماہ قید ہے۔مبینہ طور پر کچھ صحافیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے پاکستان میں اس خطرناک کیمیکل ڈور کی زیادہ تر سپلائی فیصل آباد کے ایک محلے مدن پورہ سے ہوتی ہے یہاں 100 سے 150 گھر کیمیکل ڈور بناتے ہیں۔ اگر ان گھروں سے کیمیکل ڈور بنانے والی مشینری اٹھا کر قبضے میں لے لی جائے اور ذمہ داروں کو گرفتار کر کے اُنہیں کڑی سزا دی جائے تو کیمیکل ڈور کی لعنت کا یقیناَ پورے پاکستان سے خاتمہ ہو سکتا ہے۔ دوسرے موٹر سائیکل سواروں سے بھی گزارش ہے کہ اپنی موٹر سائیکل کے آگے ایک سیفٹی راڈ ضرور لگائیں، گلے میں موٹا کپڑا لپیٹیں۔
