کشمیریوں کی پسندیدہ ڈش ’’گوشتابہ‘‘ کیسے تیار کیا جاتا ہے؟

کشمیریوں کی مرغوب غذا ’’گوشتابہ‘‘ کی رمضان المبارک کے دوران صبح سے ہی تیاری شروع کر دی جاتی ہیں، اور افطاری تک اس کو تیار کر لیا جاتا ہے، مظفر آباد میں اس کی لگ بھگ 50 دکانیں موجود ہیں۔کشمیری کھانوں کے لشکر وازوان میں گوشتابہ کو وازوان کا ’بادشاہ‘ مانا جاتا ہے۔ کشمیری وازوان میں کم از کم 26 سے 30 اور زیادہ سے زیادہ 120 ڈشز ہوسکتی ہیں۔وازوان میں کم از کم 30 ڈشز صرف گوشت سے تیار ہوتی ہیں اور اگر آپ کو کہیں کشمیری وازوان کھانے کا اتفاق خالصتاً کشمیری سٹائل میں ہو تو ایک گھنٹہ مختلف ڈشز کے چلنے والے کورس میں گوشتابہ کو سب سے آخر میں مہمانوں کے سامنے شاہانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے، وازوان پکانے والے ماہر کشمیری جنہیں ’وستہوازا‘ کہا جاتا ہے وہ بتاتے ہیں کہ گوشتابہ کا اصل ذائقہ اس میں استعمال کیے جانے والے بکرے کے گوشت سے مشروط ہے۔ گوشتابہ تیار کرنے والے ایک ماہر باورچی عابد عباسی نے گوشتابہ کی تیاری سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اصل میں گوشتابہ صرف چھوٹے گوشت یعنی بکرے کے گوشت سے تیار کیا جاتا ہے۔ عابد کے مطابق وہ صبح سویرے مارکیٹ جاتے ہیں جہاں چھان پھٹک کر ایسے بکرے کے گوشت کا انتخاب کرتے ہیں جو گوشتابہ کے لیے موزوں ہو۔ایسے بکرے کی ران کا گوشت خریدنے کے بعد دکان پر پہنچایا جاتا ہے جس کے بعد گوشت سے چربی الگ کر کے صاف کرنے کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔’گوشت کی صفائی کے بعد اسے بوٹیوں میں کاٹ کر پتھر کی سِل جسے ’کوٹ پتھ‘ (کوٹنے والا پتھر) کہا جاتا ہے، اس پر لکڑی کے ایک ہتھوڑے سے کوٹا جاتا ہے۔ ’پتھر کی سل پر اس ہتھوڑے کی مدد سے گوشت کو کوٹنے کا عمل کئی گھنٹوں اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک گوشت کا ریشہ الگ ہو کر مکمل قیمہ نہ بن جائے۔عابد کا کہنا ہے کہ ’گوشت میں مصالحہ ملانا بہت اہم حصہ ہے اگر گوشتابہ میں ملائے جانے والے مصالحہ کی مقدار کم یا زیادہ ہو جائے تو اس کا اثر گوشتابہ کے ذائقے پر پڑتا ہے، گوشت کو مصالحہ ملا کر کوٹنے کے بعد اس گوشت کے مخصوص سائز کے گولے بنانے کا عمل شروع ہوتا ہے۔عابد عباسی نے بتایا کہ ’اگر گوشتابہ کے گولے ٹھیک سائز میں نہ بنائے جائیں تو تیاری کے دوران یہ ٹوٹ جاتا ہے لہٰذا گولہ مخصوص سائز کا ہونا چاہئے۔ نہ بہت زیادہ بڑا نہ بہت زیادہ چھوٹا کیوںکہ اگر گوشتابہ بہت زیادہ بڑا ہو تو پکائی کے دوران اس میں کچہ پن رہنے کا خدشہ ہوتا ہے۔‘’تیار شدہ قیمہ کے مخصوص سائز میں گولے بنانے کے بعد ان گوشت کے گولوں یعنی گوشتابہ کو چولہے پر رکھے گرم پانی میں ابالہ جاتا ہے۔’ابلتے پانی میں بھی الائچی اور سونف پہلے سے ڈالے جاتے ہیں تا کہ گوشتابہ میں ابالتے وقت اس میں سے گوشت کی مخصوص بو کو ختم کیا جاسکے۔’ایک گھنٹہ تیس منٹ تک پانی میں ابلنے کے بعد گوشتابہ تیار ہوجاتا ہے جس کے بعد اسے پانی سے نکال کر کھلے برتن میں ٹھنڈا ہونے کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ ٹھنڈا ہونے کے بعد گوشتابہ فروخت کے لیے تیار ہے۔عابد عباسی کہتے ہیں کہ ’گوشتابہ کو پالک، نیدرو، میتھی کے ساتھ بھی پکایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ’پیلے سالن‘ یعنی پیاز ٹماٹر اور لہسن کے ساتھ بھی تیار کیا جاتا ہے لیکن وازوان میں اسے صرف دہی کی یخنی میں ہی تیار کیا جاتا ہے اور اسے ہی اصل ’کشمیری گوشتابہ‘ کہتے ہیں۔روائتی کشمیری کھانے بنانے والے غلام نبی وان جو کہ 45 سال سے مظفرآباد کے ایک مقامی ہوٹل پر کشمیری کھانے بنا رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ وزاوان کے بادشاہ گوشتابہ کو ’دہی کی یخنی میں تیار کرنا بھی ایک فن ہے۔’سب سے پہلے بھینس کے دودھ سے بنے دہی کو جوسر مشین یا مداہنی کی مدد سے اتنا پھینٹا جاتا ہے کہ اس کی ڈلی ٹوٹ جائے، اس کے بعد اس میں گھی، الائچی، کالی مرچ اور حسب ضرورت مصالحہ ڈال کر اسے ہلکی آنچ پر ڈیڑھ گھنٹہ پکایا جاتا ہے۔وان کا کہنا ہے کہ ’یخنی پر چڑھے دہی میں اس وقت گوشتابہ شامل کیا جاتا ہے جب گھی دہی کو چھوڑ دے۔ گوشتابہ ملانے کے بعد 30 منٹ ہلکی آنچ پر ابالا دینے کے بعد گوشتابہ کھانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے لیکن اس سارے پکائی کے عمل میں اس بات کا خاص دھیان رکھا جاتا ہے کہ دہی کی یخنی پتیلے سے نہ لگے اور نہ جلے جس کے لیے چمچے سے اسے ہلکی رفتار سے مسلسل ہلایا جاتا ہے۔‘
