گورنرراج میں نظراندازہونےپرمولانافضل الرحمان مایوس ہیں،وزیردفاع

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کاکہناہے کہ جے یوآئی کے سربراہ مولانافضل الرحمان خیبرپختونخومیں لگنے والے گورنرراج کے سیٹ اپ میں نظراندازہونےپرمایوسی کاشکارہیں۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا نجی ٹی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے نئے سیاسی سیٹ اپ کے عمل میں مولانافضل الرحمان کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور انہیں اس تمام معاملے سے بالکل باہر رکھا گیا۔
خواجہ آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی توقع تھی کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی اور اس سے جڑے سیاسی فائدے کا کچھ نہ کچھ حصہ انہیں بھی ملے گا، لیکن عملاً ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور صوبے میں سیاسی و حکومتی تبدیلی کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان اپنے سیاسی پتے درست اور مؤثر انداز میں نہیں کھیل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ مولانا فضل الرحمان ایک انتہائی تجربہ کار سیاستدان ہیں، تاہم اس مخصوص معاملے میں وہ کہیں نہ کہیں الجھن کا شکار ہو گئے اور ان سے سیاسی غلطی سرزد ہوئی۔
وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ گزشتہ 15 دن سے ایک ماہ کے دوران مولانا کا رویہ اور خصوصاً اپوزیشن و حکومت کے درمیان مفاہمت کے لیے حکومتی حلقوں سے رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ سیاسی محاذ آرائی کا حتمی فائدہ ان کی طرف آئے گا۔ لیکن جب نتائج ان کی توقعات کے برعکس نکلے تو ان کی مایوسی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
خواجہ آصف کے مطابق مولانا کی یہ شدید مایوسی قومی اسمبلی میں ان کی حالیہ تقریر اور گفتگو کے انداز سے بھی واضح طور پر جھلک رہی تھی۔
