عمران پنجاب کی بجائے وفاق کے قیدی کیوں بننے والے ہیں؟

 

 

 

اسلام آباد کی ماڈل جیل میں اپنی ممکنہ منتقلی کے بعد عمران خان حکومت پنجاب کی بجائے وفاقی حکومت کے قیدی بن جائیں گے، یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت سے سزا پانے کے باعث انہیں اسلام آباد کی اس نئی جیل میں منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی تصدیق کر چکے ہیں کہ عمران خان ان قیدیوں میں شامل ہیں جنہیں اسلام آباد کی ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ قیدی کے پاس اپنی مرضی سے جیل کا انتخاب کرنے کا اختیار نہیں ہوتا اور عمران خان بھی دیگر قیدیوں کی طرح اس جیل میں منتقل ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ عمران خان کرپشن کیسز میں سزائیں پانے کے بعد سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بند ہیں جو کہ حکومت پنجاب کے زیر انتظام چلتی ہے۔ تاہم اب اسلام اباد میں ایک ماڈل جیل تیار کی جا رہی ہے جہاں تقریبا ساڑھے سات سو قیدی رکھنے کی گنجائش ہو گی۔

 

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 16 میں موٹروے ایم ٹو پر لاہور جاتے ہوئے ٹول پلازہ سے پہلے دائیں جانب واقع یہ ماڈل جیل تقریباً 90 ایکڑ رقبے پر تعمیر کی جا رہی ہے، تاہم یہ منصوبہ 2009 میں شروع ہونے کے باوجود 17 برس گزرنے پر بھی صرف ایک تہائی مکمل ہو سکا ہے۔ جیل میں قیدیوں کے کمرے، بیرکس، انتظامی بلاکس اور دیگر بنیادی عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں، لیکن تمام مطلوبہ سہولتوں کی فراہمی اور اسے مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے ابھی مزید کام باقی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق وزیراعظم اس جیل کا افتتاح کریں گے، تاہم اس منصوبے کا ایک اہم انتظامی پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد میں ابھی تک اپنا محکمہ جیل خانہ جات ہی قائم نہیں ہوا۔

 

خیال رہے کہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں محکمہ جیل خانہ جات کا الگ انسپکٹر جنرل مقرر ہوتا ہے، لیکن اسلام آباد میں تاحال ایسا انتظام موجود نہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے جیل افسر علی اکبر ناصر کو اس ماڈل جیل کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا ہے اور وہ گزشتہ ایک سال سے اسلام آباد میں تعینات ہیں، جبکہ جیل کی سکیورٹی اور انتظامی امور کے لیے اسلام آباد پولیس کے ایک سو سے زائد اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ فی الحال اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو جیل کی سکیورٹی کا نگران مقرر کیا گیا ہے۔

 

جیل سپرنٹنڈنٹ علی اکبر ناصر کے مطابق اسلام آباد کے محکمہ جیل خانہ جات کے قیام کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر ہی محکمہ جیل خانہ جات کے امور کی نگرانی کریں گے۔

جیل حکام کے مطابق اس ماڈل جیل کے موجودہ تعمیر شدہ حصے میں 750 قیدی رکھنے کی گنجائش موجود ہے، جسے مزید تعمیراتی کام کے بعد بڑھا کر 1500 تک کیا جا سکتا ہے۔ جیل میں تین بڑی بیرکس تعمیر کی گئی ہیں اور ہر بیرک میں 260 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، جبکہ 12 بائی 18 فٹ کی 32 چھوٹی بیرکس بھی بنائی گئی ہیں۔ ان بیرکس میں سزائے موت کے قیدیوں کے علاوہ ایسے قیدیوں کو رکھا جا سکے گا جنہیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دوسرے قیدیوں سے الگ رکھنا ضروری ہو۔

 

عوامی سطح پر اس حوالے سے بھی بحث جاری ہے کہ اس نئی جیل کا پہلا قیدی کون ہو گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جب پوچھا گیا کہ کیا عمران خان کو اس جیل میں پہلا قیدی بنا کر منتقل کیا جائے گا تو انہوں نے واضح جواب دینے سے گریز کیا، تاہم طلال چوہدری نے عمران خان کی منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں موجود سہولتوں کے پیش نظر وہ یہاں منتقل ہونے پر خوش ہوں گے۔ اسلام آباد کی اس ماڈل جیل میں قیدیوں کے علاج معالجے کے لیے جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہسپتال بھی تعمیر کیا گیا ہے، جہاں جدید مشینری کے علاوہ آپریشن تھیٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ جیل حکام کا دعویٰ ہے کہ یہاں قیدیوں کو ایسی طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی جو بعض نجی ہسپتالوں میں بھی دستیاب نہیں ہیں۔

 

اسلام آباد کی ماڈل جیل میں قیدیوں کے لیے کھانا تیار کرنے کے نظام کو بھی جدید مشینری سے منسلک کیا گیا ہے۔ روٹیاں بنانے کے لیے آٹا گوندھنے سے لے کر روٹیاں پکانے تک کا تمام عمل مشینی انداز میں ہوگا اور حکام کے مطابق اس پورے نظام کو چلانے کے لیے صرف تین افراد درکار ہوں گے، جبکہ پنجاب کی جیلوں میں روٹیاں تیار کرنے کا کام قیدیوں سے لیا جاتا ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ علی اکبر ناصر کے مطابق اسوقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اسلام آباد کے مقدمات میں نامزد تقریباً 3500 قیدی موجود ہیں، جنہیں مرحلہ وار اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا۔ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر ہفتے تقریباً ایک سو قیدیوں کو اڈیالہ جیل سے یہاں منتقل کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں ان قیدیوں کی منتقلی ہوگی جن کے مقدمات اسلام آباد کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی منتقلی کے حوالے سے جیل سپرنٹنڈنٹ نے کوئی واضح تفصیل فراہم نہیں کی۔

 

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جیل کا تعمیر شدہ ایک تہائی حصہ مکمل ہونے کے باوجود سزائے موت کے قیدیوں کے لیے بیرکس تعمیر نہیں کی گئیں اور یہاں پھانسی گھاٹ بھی موجود نہیں۔ اسی طرح خواتین اور بچوں کے لیے بھی الگ بیرکس تعمیر نہیں کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیل کے اہم حصے ابھی منصوبے کے مطابق مکمل ہونا باقی ہیں۔

 

اس ماڈل جیل میں قیدیوں کے مقدمات کی سماعت کے لیے باقاعدہ کورٹ روم بھی تعمیر کیا گیا ہے، جبکہ ججز کے لیے الگ ریٹائرنگ رومز بھی بنائے گئے ہیں۔ اس انتظام کے تحت اسلام آباد کے جن قیدیوں کے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوتی رہی ہے، انہیں نئی جیل منتقل کیے جانے کے بعد ان کے جیل ٹرائل بھی اسی کورٹ روم میں ہوں گے۔ جیل عملے کی رہائش کے لیے بھی الگ جگہ مختص کی گئی ہے اور وہاں گھروں کی تعمیر کا کام آخری مراحل میں بتایا جاتا ہے۔ ملاقاتیوں کے لیے بھی ایک مختلف نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت قیدی اور ان سے ملاقات کرنے والے افراد الگ الگ باکس میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے اور انٹرکام کے ذریعے گفتگو کر سکیں گے، تاہم انہیں ایک دوسرے کو چھونے یا کسی چیز کا تبادلہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پاکستان کی بیشتر جیلوں میں اس نوعیت کا ملاقات کا نظام موجود نہیں ہے۔

عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں کیس چلنے کا امکان

جیل کی سکیورٹی کے لیے بھی جدید انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں ایسے خود کار کیمرے شامل ہیں جو جیل عملے اور اجنبی افراد کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قیدیوں کی بیرکس کے گرد کنکریٹ کی بلند دیواریں تعمیر کی گئی ہیں، جن کے اوپر بجلی کی تاریں نصب ہیں اور ان میں ہر وقت کرنٹ موجود رہتا ہے۔ جیل حکام کے مطابق تعمیر شدہ حصے میں سکیورٹی کی چھ مختلف تہیں قائم کی گئی ہیں، جنہیں عبور کرنا کسی بھی قیدی کے لیے انتہائی مشکل ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق جیل مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد یہاں رینجرز کے اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔

 

Back to top button