خبردار! اے آئی کا غلط استعمال جیل بھی پہنچا سکتا ہے

چیٹ جی پی ٹی یا مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال آپ کو جیل بھی پہنچا سکتا ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر کی جانے والی سرچنگ، چیٹ جی پی ٹی اور جمنائے جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز سے حاصل کی جانے والی معلومات اور موبائل فون کی گیلری میں محفوظ تصاویر اور ویڈیوز اب سائبر جرائم کی تحقیقات میں اہم ثبوت بن سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا ایسا نظام فعال ہو چکا ہے جس کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق مشتبہ معلومات چند گھنٹوں میں متعلقہ ممالک کے اداروں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ این سی سی آئی اے کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں بھی حالیہ دنوں میں ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جن میں اے آئی ٹولز سے جرم کے طریقے معلوم کرنے، بچوں کے جنسی استحصال اور غیر قانونی ویڈیوز بنانے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔
حالیہ دنوں میں پاکستان سے سامنے آنے والی گرفتاریوں میں ایک نوجوان کی گرفتاری بھی شامل ہے جس نے مبینہ طور پر اپنے والد کو زہر دینے کا طریقہ چیٹ جی پی ٹی سے دریافت کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی طرح خودکشی کا طریقہ پوچھنے والی ایک لڑکی کو ڈارک ویب نیٹ ورک کے چنگل سے بازیاب کرانے، کراچی کے ایک نوجوان کی گرفتاری اور اسلام آباد و لاہور میں بچوں سے متعلق غیر قانونی مواد کے مقدمات میں کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات نے یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ اے آئی ٹولز اور انٹرنیٹ پر کی جانے والی سرگرمیوں کی نگرانی کس طرح ہوتی ہے اور امریکی تحقیقاتی اداروں سے پاکستان کے سائبر کرائمز کے اداروں تک معلومات کیسے پہنچتی ہیں؟
این سی سی آئی اے کے ذرائع کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ چیٹ جی پی ٹی، جمنائے، گوگل سرچ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مختلف نوعیت کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس میں تحریری مواد کے علاوہ تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد گوگل پر حساس اور غیر قانونی معلومات تلاش کرتے تھے، لیکن اس وقت مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان رپورٹنگ اور بین الاقوامی اداروں کے مابین معلومات کے تبادلے کا موجودہ نظام اتنا تیز نہیں تھا۔ اب گوگل، واٹس ایپ، فیس بک، ایکس اور انسٹاگرام سمیت بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اپنے نظام میں مصنوعی ذہانت اور خودکار نگرانی کے طریقے شامل کر لیے ہیں، جس کے باعث مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی اور رپورٹنگ کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں مختلف ممالک کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ، اسلحے کی غیر قانونی تجارت، کرنسی کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور دہشت گردی جیسے جرائم کے خلاف معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں کے معاہدے موجود تھے۔ ان جرائم میں ملوث گروہوں نے جب بین الاقوامی نیٹ ورک قائم کیے تو مختلف ممالک کے تحقیقاتی اداروں نے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ شروع کیا۔ تاہم، انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کے بعد سائبر جرائم کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اب کسی ایک ملک میں بیٹھا شخص دوسرے ملک کے شہری کو نشانہ بنا سکتا ہے، اسے بلیک میل کر سکتا ہے یا اس کی تصاویر اور ویڈیوز کو غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
این سی سی آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بچوں کے آن لائن جنسی استحصال اور چائلڈ پورنوگرافی کے واقعات میں اضافے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک نے اس مسئلے کو مشترکہ کارروائیوں کی ترجیح بنا لیا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بچے اکثر اپنی کم عمری اور ناتجربہ کاری کے باعث جرائم پیشہ افراد کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔ ایسے گروہ کبھی خواتین یا بچوں کی جعلی شناخت اختیار کر کے ان سے رابطہ کرتے ہیں، انہیں نامناسب سرگرمیوں پر آمادہ کرتے ہیں اور بعد ازاں تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرتے ہیں۔ بعض گروہ بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز بنا کر انہیں ڈارک ویب اور دیگر غیر قانونی آن لائن نیٹ ورکس پر فروخت بھی کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس عالمی نظام میں امریکی اداروں، خصوصاً ایف بی آئی اور بچوں کے تحفظ سے متعلق امریکی اداروں کا کردار اہم ہے۔ چونکہ دنیا کی بڑی اے آئی اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد امریکہ میں قائم ہے، اس لیے ان کمپنیوں پر متعلقہ قوانین کے تحت بچوں کے جنسی استحصال اور دیگر سنگین غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق مواد کی نشاندہی اور رپورٹنگ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مشتبہ مواد کی نشاندہی ہونے پر متعلقہ معلومات امریکی اداروں تک پہنچائی جاتی ہیں، جہاں سے قانونی طریقہ کار اور بین الاقوامی تعاون کے تحت دوسرے ممالک کے متعلقہ تحقیقاتی اداروں کو بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل میں مشتبہ شخص کے آئی پی ایڈریس، ای میل، موبائل نمبر، اکاؤنٹ کی تفصیلات اور دستیاب ڈیجیٹل مواد جیسی معلومات تحقیقات کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر متعلقہ ملک کے ادارے مزید چھان بین کرتے ہیں اور قانونی تقاضے پورے ہونے کی صورت میں کارروائی عمل میں لاتے ہیں۔ ماضی میں بین الاقوامی سطح پر معلومات کے تبادلے کے لیے وزارت خارجہ، وزارت داخلہ یا سفارتی ذرائع کے ذریعے تحریری مراسلت کی جاتی تھی، جس میں کئی ہفتے لگ جاتے تھے۔ تاہم، اب ڈیجیٹل نظام کے ذریعے متعلقہ معلومات نسبتاً کم وقت میں ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچ سکتی ہیں۔
این سی سی آئی اے کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں حالیہ کارروائیوں میں کراچی کے علاقے گلستان جوہر کی رابعہ سٹی میں قائم 3 کمپنیوں کے مالکان سمیت 38 افراد کی گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان پر الزام ہے کہ وہ بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے پاس بلاتے، ان کا جنسی استحصال کرتے اور اس دوران ویڈیوز بناتے تھے۔ ان ویڈیوز کو مبینہ طور پر امریکہ اور جرمنی کی ڈارک ویب سائٹس پر فروخت کیا جاتا تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزمان بچوں کو ویڈیوز بنانے کے عوض 6 ہزار سے 10 ہزار روپے تک دیتے تھے، جبکہ ایک ویڈیو کی فروخت سے انہیں ہزاروں ڈالر حاصل ہوتے تھے۔ اس معاملے میں گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور تحقیقات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس نوعیت کے جرائم میں متاثرہ بچوں کی شناخت اور تحفظ بنیادی ترجیح ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق موبائل فون میں محفوظ تصاویر اور ویڈیوز بھی سائبر جرائم کی تحقیقات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی جرم، جنسی تشدد، بلیک میلنگ یا کسی دوسرے غیر قانونی عمل کی ویڈیو بناتا ہے تو اسے محض موبائل کی گیلری میں محفوظ رکھنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ مواد ہمیشہ پوشیدہ رہے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کلاؤڈ اسکیننگ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بعض آن لائن خدمات پر محفوظ مواد کی جانچ کی جاتی ہے اور ممنوعہ مواد کی نشاندہی ہونے پر متعلقہ اداروں کو رپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اینڈرائیڈ اور آئی فون میں تصاویر اور ویڈیوز کی کلاؤڈ بیک اپ یا ہم آہنگی کی سہولت فعال ہونے کی صورت میں موبائل کی گیلری کا مواد گوگل فوٹوز، آئی کلاؤڈ یا دیگر کلاؤڈ سروسز پر منتقل ہو سکتا ہے۔ ان سروسز پر موجود مواد کی جانچ کے دوران اگر بچوں کے جنسی استحصال یا دیگر ممنوعہ سرگرمیوں سے متعلق مواد کی نشاندہی ہو تو متعلقہ کمپنی کے رپورٹنگ نظام کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد دستیاب معلومات متعلقہ امریکی اداروں تک پہنچ سکتی ہیں، جہاں سے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے پاکستان کے تحقیقاتی اداروں کو بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس نظام کے باعث ایسے افراد بھی قانون کی گرفت میں آ سکتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے غیر قانونی ویڈیو یا تصویر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپ لوڈ نہیں کی اور وہ صرف اپنے موبائل فون میں محفوظ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کلاؤڈ سروسز اور خودکار نگرانی کے نظام کی وجہ سے بعض صورتوں میں ایسا مواد بھی تحقیقات کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے کسی جرم کی ویڈیو یا تصویر اپنے پاس محفوظ رکھنا بھی سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً جب اس کا تعلق بچوں کے جنسی استحصال، تشدد یا کسی دوسرے غیر قانونی عمل سے ہو۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے دور میں انٹرنیٹ صارفین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اور جمنائے جیسے ٹولز معلومات، تعلیم، تحقیق اور روزمرہ مسائل کے حل کے لیے بنائے گئے ہیں، انہیں کسی کو نقصان پہنچانے یا جرم کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی کو زہر دینے، قتل کرنے، خودکشی پر اکسانے، بچوں کے استحصال، بلیک میلنگ یا غیر قانونی مواد کی تیاری کے طریقے تلاش کرنا محض ایک عام سرچنگ نہیں بلکہ ممکنہ مجرمانہ سرگرمی کی تحقیقات کا حصہ بن سکتا ہے۔
این سی سی آئی اے کے ذرائع کے مطابق سائبر جرائم کی دنیا میں اب سرحدوں کی اہمیت کم ہو چکی ہے، کیونکہ ایک ملک میں بیٹھ کر دوسرے ملک میں جرم کرنا ممکن ہے۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں کا نظام زیادہ تیز اور مربوط بنایا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان میں بھی انٹرنیٹ، اے آئی ٹولز اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانون کی حدود کا خیال رکھیں، بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنائیں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو کسی غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔
