کیا واقعی امریکہ ایران پر بڑا فضائی حملہ کرنے والا ہے؟

پاکستان اور قطرکی جانب سے ثالثی کی کوششیں تیز کرنے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر ممکنہ فوجی تصادم کی طرف بڑھتی فکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کا امکان زیر غور ہے۔ اس دوران خلیجی عرب ممالک کو ممکنہ حملوں اور ایران کی جوابی کارروائی کے خطرات سے خبردار کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم فوجی منصوبہ بندی اور عملی تیاریوں کی بازگشت کے باوجود یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ نے حملے کی حتمی منظوری دے دی ہے یا نہیں۔

امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے واشنگٹن میں مشرق وسطیٰ سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی حکام نے قانون سازوں کو ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ مرفی کے مطابق اس منصوبے کو محدود مدت کی کارروائی کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن ان کے خیال میں اس کے نتائج خطے اور امریکہ کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مجوزہ منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے جنگ میں شدت آ سکتی ہے، تنازع طویل ہو سکتا ہے اور قانون کی حکمرانی سے متعلق امریکی مؤقف بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

سینیٹر کرس مرفی کا کہنا تھا کہ انہیں یہ یقین نہیں کہ فوجی حکام خود اس منصوبے کی کامیابی کے بارے میں کتنے پُراعتماد ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف ایک اور فوجی مہم امریکی سلامتی کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ امریکی عوام طویل فوجی تنازعات سے بیزار ہو چکے ہیں اور نئی جنگ شروع کرنے کے بجائے سفارتی راستوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ واضح رہے کہ یہ بیانات سینیٹر کی جانب سے پیش کیے گئے خدشات اور سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے حتمی فیصلے کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق ممکنہ امریکی کارروائی سے متعلق اطلاعات صرف کرس مرفی کے بیان تک محدود نہیں۔ متعدد امریکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی فوجی تیاریوں، ممکنہ اہداف اور خلیجی اتحادیوں کو دی گئی اطلاعات کے حوالے سے رپورٹس شائع کی ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے سینٹرل کمانڈ کو ایران میں بڑے فوجی آپریشن کی تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ مشترکہ کارروائی کے منصوبوں اور فوجی مشقوں میں اضافے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم ان اطلاعات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ حملے کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہے۔

ممکنہ فوجی کارروائی کے اہداف کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں ایران کی توانائی کی تنصیبات، اہم بنیادی ڈھانچے اور جوہری مقامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ان اہداف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود رہنے کے بجائے پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے، بحری راستوں کو خطرات لاحق ہونے اور خطے میں امریکی تنصیبات پر ممکنہ جوابی حملوں کے خدشات سے عالمی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے خلیجی عرب ممالک کو مبینہ طور پر خبردار کیے جانے کی اطلاعات بھی اس معاملے کی اہمیت بڑھاتی ہیں۔ ان ممالک کو ممکنہ حملوں کے ساتھ ساتھ ایران کی جوابی کارروائی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔ خلیجی خطہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے کسی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں تیل اور گیس کی فراہمی، سمندری تجارت اور علاقائی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گزشتہ ہفتے ایک انتخابی اجتماع میں ایران کے خلاف ایک اور محدود فوجی کارروائی کے امکان کا ذکر کیا تھا اور اس کے ساتھ ایران کے معاہدے پر آمادہ ہونے کا راستہ بھی بیان کیا تھا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی دباؤ اور ممکنہ مذاکرات دونوں امکانات زیر بحث ہیں، لیکن اس سے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ واشنگٹن کے لیے اصل سوال یہ ہوگا کہ آیا فوجی کارروائی کے ذریعے ایران کو کسی معاہدے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے یا اس کے برعکس کشیدگی میں اضافہ سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک امریکہ کے لیے ایران کے خلاف نئی کارروائی کا معاملہ محض فوجی طاقت کے استعمال تک محدود نہیں۔ اس میں علاقائی اتحادیوں کی سلامتی، امریکی فوجیوں کے تحفظ، توانائی کی عالمی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود تنازعات کے اثرات بھی شامل ہیں۔ محدود کارروائی کا تصور بظاہر جنگ کے دائرے کو محدود رکھنے کی کوشش ہو سکتا ہے، لیکن کسی بھی حملے کے بعد مخالف فریق کے ردعمل اور جوابی اقدامات کی نوعیت کا اندازہ پہلے سے لگانا مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر فوجی آپریشن بھی طویل تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایران پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ اپنے دفاع کے لیے جواب دے گا۔ اگر امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے نئی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو ایران کے ممکنہ ردعمل اور اس کے نتیجے میں مزید حملوں کا خطرہ علاقائی صورت حال کو غیر یقینی بنا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں خلیجی ممالک، اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی اضافی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اب توجہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کے فیصلوں پر مرکوز ہے۔ کیا ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی آپشن اختیار کرے گی، کیا فوجی تیاریوں کو سفارتی دباؤ کے طور پر استعمال کیا جائے گا، یا دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے؟ فی الحال ان سوالات کے حتمی جواب سامنے نہیں آئے۔ تاہم امریکی سینیٹر کے بیان اور فوجی تیاریوں سے متعلق رپورٹوں نے یہ بحث ضرور تیز کر دی ہے کہ ایران کے خلاف ایک نئی جنگ کا امکان خطے کی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے کس نوعیت کے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

Back to top button