پاکستان میں امپورٹڈ گاڑیاں کتنی سستی ہونے والی ہیں؟

پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کر دی گئی ہے، جس کے تحت تجارتی بنیادوں پر درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر عائد پانچ سالہ عمر کی حد ختم کر دی گئی ہے۔ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل اس فیصلے کے بعد اب درآمد کنندگان پانچ سال سے زیادہ پرانی استعمال شدہ گاڑیاں بھی پاکستان لا سکیں گے۔ تاہم، اس فیصلے کے بعد ایک اہم سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ کیا پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں واقعی کم ہوں گی یا اس تبدیلی کے اثرات صرف آٹو مارکیٹ کے مقابلے اور گاڑیوں کے معیار تک محدود رہیں گے؟
خیال رہے کہ وزارتِ تجارت کے آفس میمورنڈم کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی کابینہ اور کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے منظور شدہ فیصلوں کے تحت کیا گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی 23 اکتوبر کی درخواست کے جواب میں وزارتِ تجارت نے واضح کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر پانچ سالہ پابندی یکم جولائی 2026 سے ختم ہو چکی ہے۔ اس طرح 30 جون 2026 کے بعد تجارتی درآمد کے لیے گاڑی کی زیادہ سے زیادہ عمر پانچ سال ہونے کی شرط برقرار نہیں رہی۔ تاہم، حکومت نے تاحال گاڑیوں کی درآمد کے لیے عمر کی کوئی نئی یا متبادل حد مقرر نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق پالیسی میں تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ اب ہر پرانی گاڑی بلاشرط پاکستان درآمد کی جا سکے گی۔ درآمد کنندگان کو وزارتِ صنعت و پیداوار اور انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے طے کردہ ماحولیاتی، حفاظتی اور دیگر تکنیکی معیارات پر عمل کرنا ہوگا۔ حکومت نے گاڑیوں کے معیار اور درآمدی ضوابط کی پابندی کو برقرار رکھا ہے، جبکہ پری شپمنٹ انسپکشن سمیت متعلقہ شرائط بھی اہم ہوں گی۔ اس کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ حادثے کا شکار، غیر معیاری یا تکنیکی طور پر تبدیل شدہ گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی کی جائے اور صارفین کو محفوظ گاڑیاں فراہم کی جا سکیں۔
معاشی و صنعتی تجزیہ کاروں کے مطابق پانچ سالہ حد ختم ہونے سے پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں مقابلے کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے۔ اب درآمد کنندگان نسبتاً پرانی گاڑیاں بھی لا سکیں گے، جن کی بیرون ملک قیمت عموماً نئی گاڑیوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اس سے صارفین کے لیے مختلف قیمتوں اور ماڈلز کے انتخاب کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم، گاڑی کی اصل قیمت کا تعین صرف اس کی عمر سے نہیں ہوگا بلکہ درآمدی ڈیوٹیز، ٹیکسوں، شپنگ اخراجات، کرنسی کی شرح اور دیگر حکومتی محصولات کا بھی اس میں اہم کردار ہوگا۔
پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری پر نظر رکھنے والے ماہر میاں شعیب کے مطابق اس فیصلے کے ملکی آٹو مارکیٹ پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی 2019 میں سابق سیکریٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا کے دور میں شروع ہونے والے پالیسی عمل کا نتیجہ ہے، جو ستمبر 2026 میں سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم کے دور میں اپنے موجودہ مرحلے تک پہنچا۔ ان کے مطابق درآمد کنندگان اور ڈیلرز کی مسلسل کوششوں کے بعد یہ پالیسی تبدیلی ممکن ہوئی ہے۔ میاں شعیب کا کہنا ہے کہ پاکستانی صارفین گاڑی کو محض سفری ضرورت نہیں بلکہ ایک اثاثہ بھی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق بیرون ملک استعمال کے بعد گاڑیوں کی قیمت میں کمی آ چکی ہوتی ہے، اس لیے پرانی گاڑیوں کی درآمد سے مقامی خریداروں کو نسبتاً کم قیمت پر بہتر سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی والی گاڑیاں دستیاب ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام یا کمی کا انحصار درآمدی اخراجات اور طلب و رسد کی صورت حال پر بھی ہوگا۔ان کے مطابق حکومت کی جانب سے پری شپمنٹ انسپکشن اور حفاظتی معیارات کی پابندی سے حادثے کا شکار گاڑیوں اور میٹر میں ردوبدل کے ذریعے فروخت ہونے والی گاڑیوں کی درآمد روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر ان شرائط پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا گیا تو صارفین کو گاڑی خریدتے وقت معیار اور شفافیت کے حوالے سے بہتر تحفظ حاصل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین اس پالیسی کے ممکنہ معاشی اثرات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور جاری کھاتے کے خسارے میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ درآمدات میں اضافے اور زرمبادلہ کے اخراج کے درمیان توازن برقرار رکھے۔اس پالیسی تبدیلی کا ایک اہم ممکنہ اثر مقامی گاڑیاں تیار کرنے اور اسمبل کرنے والی کمپنیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ درآمدی گاڑیوں کے انتخاب میں اضافے سے مقامی صنعت کو قیمت، معیار، حفاظتی سہولیات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں زیادہ مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میاں شعیب کے مطابق اس مقابلے کے نتیجے میں جاپانی اور چینی گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں سمیت مقامی اسمبلرز کو اپنی مصنوعات کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت محسوس ہوگی، جس کا فائدہ بالآخر صارفین کو پہنچ سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کے بقول پانچ سالہ عمر کی پابندی ختم ہونے کو گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری اور یقینی کمی کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ زیادہ پرانی گاڑیوں کی درآمد سے مارکیٹ میں نسبتاً کم قیمت والے ماڈلز کی دستیابی بڑھ سکتی ہے، لیکن ٹیکسوں، ڈیوٹیز، درآمدی لاگت اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث حتمی قیمتوں پر اثر مختلف ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی اہم ہوگا کہ درآمدی گاڑیوں کے معیار اور حفاظتی شرائط پر کس حد تک سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر حکومت کا یہ فیصلہ پاکستان کی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے، لیکن اس کا اصل فائدہ یا نقصان آنے والے مہینوں میں آٹو مارکیٹ کی صورت حال سے واضح ہوگا۔ صارفین کے لیے زیادہ انتخاب، مقامی صنعت کے لیے بڑھتا ہوا مقابلہ اور ملکی معیشت کے لیے زرمبادلہ کے ممکنہ دباؤ، یہ تینوں پہلو اس پالیسی کے اثرات کا تعین کریں گے۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا درآمدی گاڑیوں کے نئے انتخاب سے عام خریدار کو حقیقی مالی ریلیف ملے گا یا اضافی درآمدی اخراجات اس فائدے کو محدود کر دیں گے؟
