نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟ تحریر: عامر خاکوانی

تحریر: عامر خاکوانی
بشکریہ:وی نیوز

’وی نیوز‘ پر گزشتہ روز سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کا ایک ایکسکلیوسیو انٹرویو شائع ہوا ہے جو نئے صوبوں کی بحث میں دلچسپی رکھنے والوں کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

فواد چودھری کا دعویٰ ہے کہ دسمبر تک آئینی ترمیم یا ریفرنڈم کے حوالے سے پیشرفت ہو سکتی ہے اور سینیٹ انتخابات سے پہلے نئے صوبوں کا معاملہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق مقتدر حلقوں کی سوچ واضح ہے کہ گورننس بہتر بنانے کے لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہیں، اور اس معاملے پر عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں۔

فواد چودھری نے ایک اور دلچسپ بات کہی۔ ان کے بقول اگر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت ترمیم کی مخالفت بھی کرتی رہے ، تب بھی ضروری نہیں کہ ان کے تمام ارکان اسمبلی قیادت کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کن حالات میں اسمبلیوں تک پہنچے۔

ان کے خیال میں اصل رکاوٹ شریف اور زرداری خاندانوں کے سیاسی مفادات ہیں۔ دونوں میں غیر اعلانیہ بندوبست چلا آ رہا ہے کہ پنجاب ن لیگ کا اور سندھ پیپلز پارٹی کا۔ نئے صوبے یہ بندوبست ہلا دیں گے، اسی لیے دونوں اس بحث کو مختلف اینگل دے رہے ہیں۔

فواد چودھری کی پیش گوئیوں سے آپ اتفاق کریں یا نہ کریں، دسمبر میں کچھ ہوتا ہے یا یہ معاملہ بھی پچھلے وعدوں کی طرح لٹک جاتا ہے، یہ وقت بتائے گا۔ میں مگر اس بحث کے اصل نکتے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ کیا نئے صوبے واقعی بننے چاہئیں؟ میرا جواب ہے، ہاں، اور جتنی جلد بنیں اتنا اچھا ہے۔

آغاز اسی دلیل سے کرتے ہیں جو بارہا دی جا چکی اور اب پرانی سی لگتی ہے، مگر اس کا وزن آج بھی پہلے جتنا ہے۔

ذرا سوچیں، پنجاب کی آبادی جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ملکوں سے زیادہ ہے۔ اتنی بڑی آبادی کو لاہور میں بیٹھا ایک وزیر اعلیٰ اور ایک سول سیکرٹیریٹ چلا رہا ہے۔ راجن پور، رحیم یار خان یا اٹک کے کسی گاؤں کا آدمی اگر کسی کام سے صوبائی دارالحکومت جانا چاہے تو اسے آٹھ دس گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہی حال خیبر پختون خوا اور سندھ کا ہے۔ پختون خوا کے دور افتادہ اضلاع سے پشاور اور سندھ میں تھرپارکر وغیرہ سے کراچی جانا کوئی معمولی کام نہیں۔

بلوچستان کا معاملہ تو اس سے بھی سنگین ہے۔ ملک کا لگ بھگ آدھا رقبہ اکیلے کوئٹہ سے چلایا جا رہا ہے۔ گوادر، تربت یا دیگر دور واقع علاقوں سے صوبائی دارالحکومت تک پہنچنا ہی ایک مہم ہے۔

دنیا اس مسئلے کو کیسے حل کرتی ہے؟ ہمسایہ ملک بھارت کی مثال لے لیں۔ دو ہزار میں ایک ہی سال کے اندر اتراکھنڈ، جھاڑکھنڈ اور چھتیس گڑھ کی ریاستیں بنیں، دو ہزار چودہ میں آندھرا پردیش کو توڑ کر تلنگانہ بنا دیا گیا۔ آج وہاں اٹھائیس ریاستیں ہیں۔ ہمارے ہاں پچیس کروڑ لوگوں کے لیے صرف چار صوبے ہیں۔

خاکسار کا تعلق احمد پور شرقیہ سے ہے، اس لیے یہ بات کتابی نہیں، آنکھوں دیکھی لکھ رہا ہوں۔ صوبائی دارالحکومت پر جس غیر متناسب انداز سے فنڈز خرچ ہوتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، انڈر پاسز، فلائی اوورز، بڑے منصوبوں میں ترجیح ہمیشہ لاہور کو ملی۔ سوال مگر یہ ہے کہ تونسہ، روجھان، صادق آباد ،احمد پورشرقیہ، لیاقت پور وغیرہ کے لوگوں کا کیا قصور ہے؟

اس کی وجہ واضح ہے۔ ہر صوبائی حکومت کا وزن دارالحکومت کے اردگرد ہوتا ہے۔ میڈیا، بیوروکریسی اور طاقتور لوگ سب وہیں ہیں، دور کے اضلاع کی آواز وہاں تک پہنچتی ہی نہیں۔ چھوٹا صوبہ بنے گا تو اس کا اپنا بجٹ ہوگا، اپنا سیکرٹیریٹ، اپنی اسمبلی، اپنا ہائیکورٹ۔ بہاولپور کا پیسہ بہاولپور میں لگے گا، ملتان کا ملتان میں۔

فواد چودھری نے جو بات کہی، میں سمجھتا ہوں وہ اس بحث کا اہم ترین نکتہ ہے۔ ہمارے بڑے صوبے دراصل بڑی سیاسی جاگیریں بن چکے ہیں۔ جو جماعت پنجاب جیت لے، وہ عملی طور پر مرکز بھی جیت لیتی ہے۔ جو جماعت سندھ کے دیہی علاقوں پر قابض ہو، وہ کراچی اور حیدرآباد کی رائے کو بھی روند ڈالتی ہے۔ ایک ہی خاندان، باپ کے بعد بیٹا، بھائی کے بعد بیٹی، صوبے پر حکمران۔

نئے صوبے بنیں گے تو یہ اجارہ داری ٹوٹے گی۔ ہر نئے صوبے میں نئی قیادت ابھرے گی، مقامی سیاستدانوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔ کوئی ایک جماعت پھر پورے نظام کو یرغمال نہیں بنا سکے گی۔

یہی وجہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں اس معاملے پر ہمیشہ ٹال مٹول کرتی رہیں۔ دو ہزار بارہ میں پنجاب اسمبلی نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبوں کی قراردادیں منظور کیں، پھر کیا ہوا؟ ہر الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ آتا ہے اور الیکشن کے بعد غائب ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی سو دن میں صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا، بات ایک سیکرٹیریٹ سے آگے نہ بڑھ سکی۔

اب اس نکتے پر آتا ہوں جو میرے نزدیک نئے صوبوں کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ ہماری سیاست میں سندھ کارڈ، پختون کارڈ، پنجابی کارڈ بار بار کھیلا جاتا ہے۔ یہ کارڈ اسی لیے چلتا ہے کہ ہمارے صوبے لسانی شناخت پر کھڑے ہیں۔ نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر بنیں تو یہ کارڈ اپنی موت آپ مر جائے گا۔

پنجاب کو لے لیں۔ عام طور پر جنوبی پنجاب کے نام سے ایک صوبے کی بات ہوتی ہے۔ میری رائے میں اس کی جگہ دو صوبے بننے چاہئیں۔ ایک بہاولپور صوبہ، جو ون یونٹ سے پہلے الگ انتظامی اکائی تھا اور جہاں کے لوگوں کا آج بھی گلہ ہے کہ ون یونٹ ٹوٹنے پر ان کی سابق حیثیت بحال کرنے کے بجائے انہیں پنجاب میں ضم کر دیا گیا۔ دوسرا صوبہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز پر مشتمل ہو۔ اسی طرح سنٹرل پنجاب یعنی لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژنز کا الگ صوبہ ہو اور اپر پنجاب یعنی راولپنڈی، سرگودھا وغیرہ کا الگ۔

اس صورت میں مستقبل میں سرائیکی کارڈ بھی استعمال نہیں ہو سکے گا، کیونکہ کوئی ایک صوبہ پورے سرائیکی وسیب کی نمائندگی کا دعوے دار نہیں ہوگا، اور پنجابی کارڈ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں خود سرائیکی ہوں، مگر سمجھتا ہوں کہ سرائیکی وسیب کے لوگوں کے لیے تعلیم، علاج، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی زیادہ ضروری ہے، اور پاکستان کی بہتری کے لیے لسانی کارڈز کا خاتمہ لازمی ہے۔

خیبر پختون خوا کی مثال اس سے بھی دلچسپ ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت، ٹانک، شمالی اور جنوبی وزیرستان جیسے جنوبی اضلاع کو ملا کر ایک صوبہ بنے تو پشاور، مردان اور صوابی میں بیٹھی پختون اشرافیہ کیا اعتراض کرپائے گی؟ یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ پختونوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے، کیونکہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور وزیرستان پختون علاقے ہی ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان میں البتہ سرائیکی بولنے والے اکثریت میں ہیں، مگر ان میں بھی بہت سے پشتون نسل کے قبائل ہیں، جیسے علیزئی، ملیزئی، خاکوانی،بارک زئی، بامو زئی، سدوزئی وغیرہ۔ ہزارہ صوبہ بھی الگ سے بن سکتا ہے۔

سندھ میں کراچی الگ صوبہ ہو، جبکہ اندرون سندھ کے دو یونٹ بن سکتے ہیں۔ اس کے بعد نہ کوئی یہ نعرہ لگا سکے گا کہ سندھی دھرتی کسی اور کو دے دی گئی، نہ کراچی والے یہ کہہ سکیں گے کہ ان پر باہر سے حکومت ہو رہی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ نئے صوبوں سے اخراجات بڑھیں گے۔ نئے گورنر، نئے وزرائے اعلیٰ، نئی اسمبلیاں۔ یہ اعتراض وزن رکھتا ہے مگر اس کا حل موجود ہے۔ کابینہ چھوٹی رکھیں، گورنر ہاؤس کا ٹھاٹ باٹ ختم کریں، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں پہلے سے موجود عمارتیں استعمال کریں۔ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو حل نہ ہوسکے۔

دوسرا اعتراض یہ کہ اس سے ملک کمزور ہوگا۔ میں پوچھتا ہوں، کیا بھارت اٹھائیس ریاستوں سے کمزور ہوا؟ ملک تب کمزور ہوتا ہے جب لوگوں میں محرومی پلتی ہے۔ مشرقی پاکستان کا سانحہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ جب کسی علاقے کے لوگوں کو لگے کہ ان کا پیسہ کہیں اور خرچ ہو رہا ہے اور ان کی آواز سنی نہیں جا رہی تو وہاں نفرت جڑ پکڑ لیتی ہے۔ نئے صوبے اس محرومی کا علاج ہیں۔

تیسرا اعتراض شناخت کا ہے۔ بھائی، شناخت زبان، ثقافت اور تاریخ سے بنتی ہے، انتظامی لکیروں سے نہیں۔

چوتھا اعتراض یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ نئے صوبوں کی یہ ساری بات اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ہو رہی ہے۔ یہ بات درست نہیں۔ میرے جیسے لوگ تو برسوں سے نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے حامی رہے ہیں۔ ہم جنوبی پنجاب صوبے کی آواز تب سے اٹھا رہے ہیں جب اس پر مقتدر حلقے بھی ناراض ہو جاتے تھے اور مسلم لیگ ن کے حامی تو باقاعدہ آگ بگولا ہو جاتے۔

ایک زمانے میں یہ بات کہنا کسی کو خوش کرنے کا نہیں، ناراض کرنے کا سودا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں فہمیدہ اور سنجیدہ حلقے اور اہل دانش کی ایک بڑی تعداد ہمیشہ نئے صوبوں کے حق میں رہی ہے۔ رکاوٹ ہمیشہ سیاسی اشرافیہ بنی۔ قراردادیں منظور ہوئیں، بل آئے، وعدے ہوئے، مگر عملی قدم کبھی نہ اٹھایا گیا، اور آج بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہی اس کے راستے میں کھڑی ہیں۔ اب اگر اسٹیبلشمنٹ بھی اسی نتیجے پر پہنچی ہے تو اس سے دلیل غلط نہیں ہو جاتی۔ درست بات کسی کے منہ سے بھی نکلے، درست ہی رہتی ہے۔

اگر اس بار واقعی اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف دونوں نئے صوبوں کے حق میں ہیں تو شاید پہلی بار یہ خواب حقیقت بن جائے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ریفرنڈم اپنی جگہ، آئین کے تحت کسی صوبے کی حدود بدلنے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری بھی چاہیے۔ اصل امتحان یہیں ہوگا، خاص کر سندھ اسمبلی میں۔

میری مگر ایک گزارش ہے۔ یہ کام جلد بازی یا محض سیاسی سودے بازی کے طور پر نہ ہو۔ ایک قومی کمیشن بنے، ہر علاقے کے لوگوں کی رائے لی جائے، حد بندی انتظامی اور معاشی بنیادوں پر ہو اور این ایف سی ایوارڈ میں نئے صوبوں کا حصہ طے کرنے کا شفاف فارمولا بنایا جائے۔ ایک اور بات۔ بہاولپور یا ملتان کو دارالحکومت بنا دینے سے لیاقت پور اور روجھان کا مسئلہ خود بخود حل نہیں ہوگا۔ نئے صوبوں کے ساتھ بااختیار بلدیاتی ادارے بھی چاہئیں، ورنہ لاہور والی مرکزیت کسی نئے شہر میں منتقل ہو جائے گی۔

نئے صوبے کوئی جادو کی چھڑی نہیں کہ ادھر بنے اور ادھر سب ٹھیک ہو گیا۔ یہ مگر وہ دروازہ ضرور ہیں جس سے گزر کر بہتر گورننس اور لسانی سیاست سے نجات کی طرف جایا جا سکتا ہے۔ چند خاندانوں کی سیاست اگر رکاوٹ بن رہی ہے تو اسے ہٹانا چاہیے ۔

اللہ کرے اس بار یہ بحث ماضی کی طرح وعدوں کی نذر نہ ہو، اور تونسہ، ٹانک، تھرپارکر اور خضدار کے عام آدمی کو بھی وہ بنیادی سہولتیں ملیں جو ہر پاکستانی کا حق ہیں۔ آمین۔

Back to top button