مولانا فضل الرحمان کیوں ناراض ہیں؟

تحریر: سلیم صافی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
مولانا فضل الرحمان کی پی ٹی آئی سے مخاصمت بہت پرانی اور گہری ہے۔ 2011ء میں جب اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے بڑے جتن کئے کہ مولانا فضل الرحمان اس (پی ٹی آئی) کیساتھ اتحاد کرلیں لیکن وہ نہ مانے۔ مولانا کو بڑے لالچ بھی دیے گئے اور اس کے فوائد بھی انکے سامنے رکھے گئے لیکن مولانا کا ان کو جواب یہی ہوتا تھا کہ ان کے کہنے پر وہ کسی بھی جماعت سے اتحاد کرلیں گے لیکن پی ٹی آئی سے نہیں کریں گے۔ مجھے پتہ چلا تو میں نے مولانا سے پی ٹی آئی کے بارے میں ان کے اس سخت رویے کے بارے میں پوچھا جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے جواب میں ہنری کسنجر سے اپنی ایک ملاقات کا حوالہ دے کر اور حکیم سعید وغیرہ کی مثالیں دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے بارے میں بیرونی سازشی تھیوری کی تفصیل بیان کی۔ وہ زبانی طور پر نہیں بلکہ دلی طور پر ان سازشی تھیوریز پر یقین کر رہے تھے۔ دوسری وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ پی ٹی آئی کے ہاں مشرقیت نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ عزت دینا جانتے ہیں اور نہ عزت ہضم کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ انتخابات کے بعد اپوزیشن میں رہنے کے باوجود وہ دوسری اپوزیشن یعنی پی ٹی آئی سے دور رہے۔ پی ٹی آئی کے پاس عوامی حمایت ہے لیکن حکمت عملی اور قیادت نہیں ہے اس لئے وہ ڈھائی سال میں حکومت کے خلاف کوئی قابل ذکر مشکل کھڑی نہ کرسکی۔ دوسری طرف مولانا کے پاس اسٹریٹ پاور اور دماغ ہے۔ اس لئے پی ٹی آئی والے پہلے دن سے بار بار مولانا کے در پر حاضر ہوتے رہے لیکن مولانا اتحاد کیلئے تیار نہ ہوئے تاہم کچھ عرصہ قبل ایک متنازعہ بیان دینے کے بعد حکومتی وزرا نے جس طرح قطار میں لگ کر مولانا کے خلاف سخت بیانات دیئے، انکی وجہ سے مولانا کا دل ٹوٹ گیا اور وہ پی ٹی آئی کے قریب جانے پر مجبور ہوئے۔ سردست انہوں نے پی ٹی آئی سے پارلیمنٹ کے اندر اتحاد کیا ہے لیکن یہ بھی انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر کیا ہے۔ میری دانست میں مولانا کو حکومت پر اس بات کا غصہ ہے کہ اس نے انہیں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد پر مجبور کیا ۔

عمران خان کی حکومت میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت جیلوں میں بند تھی لیکن کوئی ایک بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ تاہم مولانا نے یہ لڑائی اپنے سر لے لی اور عمران خان کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ جواب میں عمران خان بھی جلسوں اور پریس کانفرنسز میں مولانا کو ڈیزل ڈیزل پکار کر ان کی توہین کرتے رہے۔ آخر میں انہوں نے حکومت کے خلاف اسلام آباد تک لانگ مارچ بھی کیا اور اس کا فائدہ دونوں یعنی پیپلز پارٹی اور بالخصوص مسلم لیگ (ن) کو پہنچا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے بیزار ہوئی۔ چنانچہ ان کی حکومت ختم ہوئی اور میاں شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوئی جس میں مولانا کے پاس بھی اہم وزارتیں تھیں لیکن انتخابات کے دوران اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جو کچھ مسلم لیگ (ن) کیلئے کیا گیا، وہ مولانا کیلئے نہیں کیا گیا۔ مولانا اسے صرف اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ مسلم لیگ(ن) کی بے وفائی سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ کیونکہ بلوچستان میں ایک مخالف جماعت کے رہنما کو میاں نواز شریف کی سفارش پر اسٹیبلشمنٹ نے مولانا کے بندے کو ہروا کر جتوا دیا لیکن مولانا کو ڈی آئی خان اور ٹانک وغیرہ کی سیٹیں بھی نہیں دلوائی گئیں اور وہ بلوچستان کے علاقے پشین سے قومی اسمبلی میں پہنچے۔ وہ زبان پر نہیں لاتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی ان بے وفائیوں نے مولانا کو حددرجہ بددل کردیا ۔

حالیہ تلخیوں کی ایک اور وجہ اسٹیبلشمنٹ اور مولانا کے تعلقات کا نشیب و فراز ہے ۔ جب اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی سرپرستی کررہی تھی تو مولانا اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات بھی کشیدہ تھے۔ وہ گاہے گاہے اپنے جلسوں میں اشاروں کنایوں میں اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے رہے لیکن عمران خان کی حکومت کی رخصتی اور فوجی قیادت کی تبدیلی کے بعد تعلقات خوشگوار ہوئے ۔اسی تسلسل میں مولانا افغانستان بھی گئے اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی انہیں خیرسگالی کے پیغامات ملتے رہے لیکن انتخابی نتائج نے خوشگوار تعلقات کو کشیدہ بنا دیا۔ مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انکی جماعت ہاری نہیں بلکہ ہروائی گئی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اور پیسوں کے بہاؤ میں سب بہہ گئے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حلقے اپنی صفائی میں یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے مولانا کو ہروانا ہوتا تو پھر وہ بلوچستان میں کیسے جیتے ؟ لیکن بہر حال یہ تو حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے مولانا فضل الرحمان پر وہ عنایت نہیں کی جو اس نے مسلم لیگ (ن) پر کی۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا اسٹیبلشمنٹ سے نالاں ہیں اور وقتاََ فوقتاََ تقریروں میں اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

مولانا کی ناراضی کی ایک اور وجہ شاید پختونخوا کے گورنر ہیں ۔ علی امین گنڈا پور تو نئے نئے میدان میں آئے ہیں لیکن تاریخی طور پر مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں الیکشن گورنرفیصل کریم کنڈی اور ان سے قبل ان کے والد لڑا کرتے تھے ۔اب جب گورنر راج کے نفاذ کے بعد فیصل کریم کنڈی صوبے کے چیف ایگزیکٹو بھی بن گئے تو وہ حلقے میں مولانا کیلئے مشکلات بڑھاسکتے ہیں ۔ مولانا سوچتے ہوں گے کہ پہلے ان کے ایک مخالف یعنی علی امین گنڈا پور صوبے کے وزیراعلیٰ تھے اور اب دوسرے مخالف یعنی فیصل کریم کنڈی چیف ایگزیکٹیو بن گئے۔ اس کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد فیصل کریم کنڈی سب سیاسی لیڈروں مثلاً شیرپاؤ، ایمل ولی اور دیگر کے ہاں گئے لیکن وہ مولانا کے پاس نہیں آئے ۔

 

Check Also
Close
Back to top button