عاشق و محبوب

عاشق و محبوب
تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
یہ لیلیٰ مجنوں، ہیررانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال یا مرزا صاحباں والا پرانا عشقیہ قصہ نہیں، یہ زمانہ حال کی کہانی ہے۔ عشق ومحبت ، وفا اور جفا اس کہانی میں بھی ہے۔ عاشق ومعشوق کا یہ رشتہ پیچیدہ ، نازک اور حساس ہے۔ اس قصے کا عاشق دیسی اور محبوب پر دیسی ہے، عاشق رجائی ہے تو محبوب ہرجائی ہے ،عاشق محبوب کی لمبی عمر کی دعا کرتا ہے اور محبوب عاشق کے جلد خاتمے کی تمنا، عجیب رشتہ اور دلچسپ محبت ہے کہ جذبات دونوں طرف ہیں مگر ایک طرف نرمی ہے تو دوسری طرف سختی۔اگر عاشق ناہنجار ہے تو محبوب مکمل شعلہ بار ہے۔

قصے کو طول کیا دینا راز کھول دینے میں حرج ہی کیا ہے۔ میرا محبوب اوورسیز ہے، میری امیدوں کا واحد سہارا، اثاثہ اور سرمایہ۔ وہ میرے دل کا ٹکڑا ہے اس کے ماں باپ نے پیارومحبت سے اسے پال پوس کر بڑا کیا دیس میں زندگی مشکل تھی، محبت تو بہت تھی مگر معیشت کمزور تھی۔ لخت جگر کوسات سمندر پار بھیجنا مشکل فیصلہ تھا مگر والدین نے دل پر پتھر رکھ کر بہتر مستقبل کیلئےاسے اوورسیز بھیج دیا۔پاکستان میں تھا تو محبوب تھا باہر گیا تو اور بھی محبوب ہوکر معشوق ہوگیا۔ پہلے پہل عاشق ومعشوق کا رشتہ بہت مضبوط تھا روزانہ فون اور رابطہ رہتا تھا پھر محبوب کی جیب بھاری ہونے لگی ،مصروفیت بڑھی رابطے کم ہوگئے۔ آنکھ سے دور ہوں تو رشتے بھی کمزور ہوجاتے ہیں۔ میرا محبوب دولتمند ہوا تو اور بھی خوبصورت ہوگیا پہلے، اپنے عاشق کو عقل مند سمجھتا تھا اس سے ہر مشورہ کرتا تھا اپنی تکالیف بیان کرتا تھا پھر وہ خود عقل مند ہوگیا اتنا عقل مند کہ نہ صرف ذاتی مشورے دینے لگا بلکہ پوری قوم کو نصیحتیں کرنے لگا ،پہلے وہ اسی دیسی مٹی سے مہکتا تھا وہاں جاکر چمکنے لگا تو پردیسی رِیتوں کا خوگر ہوگیا ،پہلے انہی کیچڑوں میں چل کرچلنا سیکھا تھا اب وہاں دودھ جیسی سڑکوں پر چلنے لگا تو کیچڑ برا لگنے لگا۔پہلے عاشق کے دامن میں اسے سکون ملتا تھا اب اسے پردیس کی ہواؤں میں حسن نظر آنے لگا ۔ شاعر نےغالباً اسی صورتحال پرکہا تھا۔

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

وہ تیرگی جو میرے نامئہ سیاہ میں ہے

عاشق ومحبوب میں جدائی کے سال بڑھ گئے اس دوران پُلوں سے بہت سا پانی بہہ گیا۔ عاشق کی معاشی، سیاسی اور ذاتی حالت بھی اچھی نہ رہی پہلے پہل تو معشوق نے مالی مدد بھی کی، اسے بڑا بھی بناتا رہا، اسکا ادب واحترام بھی کرتا مگر سات سمندروں کا کھارا پانی کچھ بے وفائی اور کچھ بے اعتنائی سے بھرا ہوا ہے۔ اب محبوب نے ہاتھ کھینچنا شروع کردیا۔محبوب کے بیوی بچے اسکے نئے معشوق بن گئے اور وہ اپنےپرانے اور وفادار عاشق کو بھلانے لگا۔ عاشق اورمحبوب میںدوریاں کیا ہوئیں خیالات میں بھی تضاد آنے لگا، گلے شکوے بڑھنے لگے، محبوب کو اپنے عاشق میں سوبرائیاں نظر آنے لگیں مگر عاشق کیا کرتا اسکا تو ایک ہی محبوب تھا وہ پردیسی کیا ہوا پردیس کا ہی ہورہا۔

اب عاشق کرے کیا؟ عاشق کا محبوب ہرمعشوق کی طرح نہ صرف نازک ہے بلکہ مزاج کا بھی تنک ہے۔ محبوب ہمیشہ ہرجائی اور عاشق ہمیشہ سے رجائی ہوتے ہیں، عاشق کے پاس رجائی رہنے کے علاوہ چارہ ہی کیا ہے؟ عاشق محبوب کو اپنا اثاثہ سمجھتا ہے وہ اسکی امید وںکا محور ومرکز بھی ہے جبکہ محبوب عاشق سے ناامید ومایوس ہے، عاشق نے تاحال ہمت نہیں ہاری وہ آئے دن محبوب کے حسن وانداز کی تعریفیں کرتا نہیں تھکتا مگر محبوب جواباً وہ بے نقط سناتا ہے کہ الامان والحفیظ!!۔ عاشق بہانے بہانے سے اپنے محبوب کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے جبکہ محبوب عاشق کے جسم وجان میں کیڑے نکالتا رہتا ہے۔ عاشق کو پردیسی محبوب کے آنے کی خبر ہوجائے تو نہ صرف وہ بلکہ اسکے دوست بھی پلکیں بچھاتے ہیں، وہ آجائے تو عاشق کیلئے عید کا سماں ہوتا ہے، ہر ملنے والا محبوب کی دعوتیں کرتا ہے اسکو رِجھانے اور لبھانے کی کوشش کرتا ہے، ستم رسیدہ عاشق جب اپنے محبوب کو سامنے دیکھتا ہے تو ماضی کے قصے چھیڑ کر معشوق کے سوئے ہوئے جذبوں کو جگانے کی کوشش کرتا ہے مگر یہ سب بے سود جاتا ہے، محبوب کی ناک ہی اتنی اونچی ہوچکی ہے کہ اسے دیس کا کچھ بھی پسند نہیں آتا اور اسے پردیس میں سب کچھ اچھا لگتا ہے ۔وہ بوٹی تو دیسی باغ کی تھی مگر ولایتی قلم نے اسکے پھل کو بھی ولایتی بنادیا ہے۔

عاشق ومحبوب میں فاصلہ دوریاں اور ناراضیاں ایسے ہی نہیں بڑھیں ان ناراضیوں میں کچھ سچ ہے اور کچھ فیک بیانیہ۔ محبوب کو عمومی شکایت یہ ہےکہ عاشق کے دیس میں ظلم کا بازار گرم ہے نہ انصاف ہےنہ مساوات، یہ شکایت قیدی اور سیاست کے بدلاؤ میںنہ صرف بڑھی ہےبلکہ اس میں شدت ہے مگر جب محبوب کو بتایا جائے کہ سیاست میں یہ ظلم تو ہر سیاسی بدلاؤ کے ساتھ آیا ہے تو معصوم محبوب جواباً کہتا ہے کہ ایسا ظلم تو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔کوڑے ،پھانسیاں یا جیلوں کی سوپرانی کہانیاں بھی محبوب کو مطمئن نہیں کرتیں۔ محبوب کا گلہ ہے کہ عاشق کے دیس میں اس کی زمین اور ملکیت پر قبضہ ہوچکا ہے۔ جب پوچھا جائے کہ قبضہ کس نے کیا تو جواب ملتا ہے دوستوں اور رشتہ داروں نے۔ پھر سوال کیا جائے کیا بھیجی گئی رقم کا دستاویزی ثبوت ہے یا پھر جس جائیداد پر قبضہ ہوا وہ آپکے نام ہے یا مشترکہ کھاتہ ہے تو عموماً جواب یہی ملتا ہے کہ رشتہ دار نے قبضہ کیا ہے مگر دستاویزی ثبوت ندارد ہیں۔ پھر محبوب کی پسندیدہ کہانی ہے کہ فلاں بندہ وطن کی محبت سے مجبور ہوکر سرمایہ دیس میں لیکرگیا مگر لٹ لٹاکر واپس آگیا۔ تفصیل پوچھیں تو کاروبار کی مس مینجمنٹ یا پلاننگ زیادہ بڑی وجہ نکلتی ہے محبوب لاجواب توہو نہیں سکتا اس لئے کہتا ہے کہ دیس میں سب نوسر باز ہیں ،سیاستدان سارے چور ہیں ،صحافی سارے لفافہ ہیں ،پولیس ساری مجرم ہے اس دیس میں کچھ بھی ٹھیک نہیں۔ محبوب کو منطق اور دلائل سے جتنا بھی قائل کریں وہ نہیں مانتا۔ محبوب کا محبوب مشغلہ اپنے عاشق اور اپنے ہی دیس کو برا بھلا کہنا ہے شاید یہی پردیسی کی ہجرت کے غم کا کِتھارسس ہے۔

عاشق مغموم ہے پریشان ہے اور حیران بھی کہ محبوب کو کیسے رام کرے اسے کیسے خوش رکھے ۔وہ چینی اوورسیز کو دیکھتا ہے تو ٹیکنالوجی کے چینی انقلاب کے ان چینی محبوبوں کو دیکھتا ہے جو اپنے عاشق چین پر صدقے واری جاتے ہیں، وہ شمالی کوریا کو دیکھتا ہے کہ دنیا بھر میں اکیلا، امریکہ کو للکارتا ہوا ایٹمی ملک کس طرح سے زندہ سلامت اور خوشحال ہے تو نظر آتا ہے کہ شمالی کوریا کے جاپان میں مقیم اوورسیز کورین گولڈن رنگٹ بھیج کر نہ صرف اپنے ملک کو معاشی استحکام دے رہے ہیں بلکہ انہوں نے اسے دفاعی استحکام بھی دے رکھا ہے۔عاشق تو سمجھتا ہے کہ وطن کے اندرقید بھی پردیس کی آزادی سے کہیں بہتر ہے مادر وطن کی مٹی کبھی بڑے سے بڑے مجرم کو بھی دیس نکالا نہیں دے سکتی۔ ماں بیمار ہوجائے یااسکی قمیض پھٹ جائے تو بیماری کو ٹھیک کرتے ہیں اورسِترپوشی کا مکمل انصرام کرتے ہیں باقی محبوب سو بے وفا ہوجائے یا بے اعتناہوجائے اس نے رہنا تو محبوب ہی ہے…!

 

Back to top button