عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں کیس چلنے کا امکان

سینئر صحافی اور تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا ہے کہ آج کل اسلام آباد میں دوبارہ یہ افواہیں گرم ہیں کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں فوجی عدالت میں کیس چلانے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو ملک میں ایک نیا پنڈورا باکس کھل سکتا ہے۔
اپنے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے منیب فاروق کا کہنا تھا کہ پاکستانی ریاست نے سیاسی جماعتوں کے لیے اپنی حدود واضح کر دی ہیں اور اب کسی کو سرخ لکیر عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکا کہنا تھا کہ بار بار کے ناکام احتجاجوں اور لانگ مارچز کے نتیجے میں تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے ہدف سے بہت دور نکل چکی ہے۔ منیب فاروق نے کہا کہ عمران کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا امکان 9 مئی اور فیض حمید کیس کی تحقیقات سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم ایسا کوئی فیصلہ ملک میں سیاسی بے چینی اور عدم استحکام میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2022 میں حکومت کی تبدیلی، 2024 کے متنازع انتخابات اور اس کے بعد تشکیل پانے والے مخلوط نظام کے ذریعے موجودہ سیاسی بندوبست مرحلہ وار اپنے اہداف کی جانب بڑھ رہا ہے اور اسے بظاہر کوئی بڑی رکاوٹ درپیش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود تحریک انصاف عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور ان کی گرفتاری کے بعد سے مؤثر مزاحمت نہیں دکھا پائی اور اس کے تمام احتجاج ناکام ہوئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پارٹی کی قیادت انقلاب برپا کرنے اور نظام کو اکھاڑ پھینکنے کے دعوے کرتی رہی، لیکن عملی طور پر اس کے پاس چند سیاسی بیانیوں اور تقاریر کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔
منیب فاروق کے مطابق موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں کی سیاسی شناخت بھی اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ وہ فوج اور اسکی قیادت کے کتنے قریب ہیں، کیونکہ وہ اسی نظام کے سہارے اقتدار میں آئی ہیں جس پر ماضی میں عمران خان تنقید کرتے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب میں تحریک انصاف مزید کمزور ہوئی تو اگلے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے سامنے کوئی سیاسی حریف باقی نہیں رہے گا۔
منیب فاروق کے بقول تحریک انصاف کی بقا کا ایک ممکنہ راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی موجودہ حکمت عملی پر نظرثانی کرتے ہوئے خود کو سمیٹے اور ایک فرمانبردار سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر دھڑے بندیاں واضح ہو چکی ہیں، خصوصاً خیبرپختونخوا میں مختلف رہنما ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ مشال یوسفزئی کے بیانات، بیرسٹر سیف کا معاملہ، علی امین گنڈاپور کا الگ موقف اور بیرسٹر گوہر خان کو ان کے بقول مناسب اہمیت نہ ملنا اس اندرونی انتشار کی نمایاں مثالیں ہیں۔ پارٹی میں یہ بحث جاری ہے کہ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے متبادل حکمت عملی کس کے پاس تھی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی متبادل منصوبہ موجود ہی نہیں تھا۔
انہوں نے شیخ وقاص اکرم کے اس بیان کو بھی تحریک انصاف کی قیادت کی سیاسی کوتاہ بینی قرار دیا کہ پارٹی کو اندازہ نہیں تھا کہ احتجاجی مارچ کے نتیجے میں حکومت چلی جائے گی۔ منیب کے مطابق تحریک انصاف اپنے بنیادی سیاسی اہداف سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کوٹ لکھپت جیل میں قید شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور سرفراز چیمہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کے باعث ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے، اس لیے حکومت کو اپوزیشن ختم کرنے کے بجائے مفاہمت اور قومی اتحاد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
تاہم منیب فاروق کے مطابق حکومتی حلقوں کا موقف اس کے برعکس ہے اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ تحریک انصاف کا سیاسی باب بند ہونے کے بعد اس کا وجود ختم کرنے کے اگلے مرحلے کی بات کر چکے ہیں۔
منیب فاروق نے بیرون ملک مقیم تحریک انصاف کے حامیوں اور یوٹیوبرز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں موجود کارکنوں کو انقلاب کے نام پر سڑکوں پر نکلنے کی ترغیب دی، لیکن خود کسی قسم کا نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کے بقول بعض لوگوں نے دعوے کیے کہ عوام باہر نکلیں گے تو فوج بھاگ جائے گی اور سپہ سالار ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے، جبکہ کچھ عناصر نے بیرون ملک سے پاکستان ترسیلات زر بھیجنے کی مخالفت تک کی۔ ان کا الزام تھا کہ ان لوگوں نے عمران خان کے نام اور سیاسی بیانیے کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنایا، جبکہ عملی طور پر سختیوں اور قید کا سامنا عمران خان، ان کی اہلیہ اور کوٹ لکھپت جیل میں بند پارٹی رہنماؤں کو کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک بیٹھے بعض عناصر خفیہ معاہدوں، عمران خان کی کامیابی اور جیل سے ان کی ممکنہ رہائی کے دعوے کرتے رہے، لیکن ان میں سے کوئی بات حقیقت ثابت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق موجودہ صورت حال میں ریاست پوری طاقت کے ساتھ اپنا طے شدہ نظام نافذ کر رہی ہے اور قومی سلامتی و رابطہ کاری کے ادارے کے نئے سربراہ کی آمد کے بعد سخت گیر ریاستی پالیسی مزید واضح ہو رہی ہے۔ اب سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے لیے صرف اتنی ہی گنجائش باقی ہے جتنی ریاست نے مقرر کر رکھی ہے، جبکہ سرخ لکیر عبور کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے صوبوں میں گورنر راج نافذ ہونے کی خبروں کو بھی بے بنیاد قیاس آرائیاں قرار دیا۔
سہیل آفریدی کے خلاف کرپشن کی تحقیقات شروع
منیب فاروق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حقیقی سیاسی تبدیلی کے لیے کروڑوں عوام کا بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنا ضروری ہے، لیکن مقدمات، گرفتاریوں اور ماضی کے احتجاجوں میں ہونے والے نقصانات نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ کارکن لاٹھیاں کھانے، گاڑیاں تڑوانے، روزگار سے محروم ہونے اور جیلیں کاٹنے کے تجربات سے گزر چکے ہیں، اس لیے اب وہ دوبارہ ایسا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔ خود تحریک انصاف کے بعض رہنما بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ جب عوام عمران کی خاطر باہر نہیں نکلے تو کسی دوسرے رہنما کے لیے کیسے نکلیں گے۔ ان کے مطابق ریاست نے مستقبل کی سیاست کے لیے سخت ضابطہ اور حدود مقرر کر دی ہیں اور اب سیاسی جماعتوں کو اسی دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بامعنی مذاکرات کے امکانات کو بھی محدود قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فی الحال سنجیدہ سیاسی مفاہمت کے بجائے رسمی ملاقاتوں اور انتخابی کمیشن جیسے محدود معاملات تک بات چیت رکھنا چاہتی ہے۔ ممکن ہے تحریک انصاف کے بعض اراکین اسمبلی کے لیے ایوانوں میں واپسی کی راہ ہموار ہو جائے، لیکن مجموعی طور پر حکومت اپنے طے شدہ اہداف کی جانب بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے آگے بڑھ رہی ہے۔

One Comment