سہیل آفریدی کی قید لمبی ہونے کا امکان کیوں بن گیا؟

 

 

 

تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رکھنے کا اعلان ان کو لمبا عرصہ قید میں رکھنے کا باعث بن سکتا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ نے بانی چیئرمین عمران خان کی حمایت اور اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے پر برقرار رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

 

یاد رہے کہ صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد آفریدی تقریباً تین ہفتوں سے لاپتا ہیں اور انکے بھائی نے انکی بازیابی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ سہیل آفریدی کو بطور وزیراعلی برقرار رکھنے کے نوٹیفکیشن نے علی امین گنڈاپور کی امیدوں پر تو پانی پھیر دیا ہے لیکن پارٹی حلقوں میں اس فیصلے کو آفریدی کے مستقبل کے لیے ایک بری خبر قرار دیا جا رہا ہے، وجہ یہ ہے کہ ان کی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وہ پہلے ہی حفاظتی حراست میں ہیں اور ان کے خلاف ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

 

تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ کے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حمایت اور اعتماد کے باعث سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برقرار رہیں گے اور اسی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔ پارٹی کے تمام عہدیداران، پارلیمنٹیرینز اور ذمہ داران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کسی متبادل امیدوار کی نامزدگی، تبدیلی یا اس حوالے سے کسی اجلاس اور بحث کا حصہ نہ بنیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعلیٰ کے لیے کسی دوسرے امیدوار کی نامزدگی یا اس فیصلے میں تبدیلی کا اختیار صرف عمران خان کو حاصل ہے اور ان کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ تاہم پارٹی کے اس اعلان نے سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل کے ساتھ ان کی ممکنہ رہائی کے معاملے کو بھی مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 

سہیل آفریدی کی مشکلات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں ان کے وارنٹ گرفتاری کا اجرا ہے۔ پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے کے مقدمے میں سہیل آفریدی سمیت تحریک انصاف کے پانچ رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ دیگر رہنماؤں میں کامران بنگش، تیمور جھگڑا، عرفان سلیم اور عامر خان شامل ہیں۔ عدالت کے تحریری حکم کے مطابق مقدمے میں نو ملزمان تاحال مفرور ہیں، جن کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 204 کے تحت وارنٹ جاری کیے گئے ہیں، جبکہ پراسیکیوشن اپنا چالان بھی عدالت میں جمع کرا چکی ہے۔ عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 4 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

 

اس پیش رفت کے بعد یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ سہیل آفریدی کو موجودہ حفاظتی حراست ہی میں باقاعدہ گرفتار کرکے ان کے خلاف ٹرائل شروع کر دیا جائے۔ وہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے حفاظتی تحویل میں ہیں اور ان کے بھائی نے ان کی بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ دوسری جانب خیبر پختون خوا حکومت کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وارنٹ جاری ہوئے ہیں تو سب کچھ قانون کے مطابق ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں لیکن وہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نہیں بچ سکیں گے۔ ان کے اس بیان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس مقدمے میں قانونی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔

 

ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سہیل آفریدی کی نامزدگی کا معاملہ پہلے بھی قانونی اختلافات کا شکار رہا ہے۔ مارچ 2026 میں سرکاری اسپیشل پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ دستیاب ویڈیو شواہد انہیں ملزم نامزد کرنے کے لیے کافی نہیں، تاہم 25 ستمبر 2026 کو پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا کی رپورٹس کی روشنی میں تفتیشی افسر نے انسداد دہشت گردی عدالت میں انہیں اور چار سابق صوبائی وزرا کو ملزم نامزد کرنے کی تصدیق کی تھی۔ ویڈیوز اور تصاویر کے جائزے کے علاوہ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر کی جانب سے بھی حملہ آوروں کی شناخت کیے جانے کے بعد عدالت نے ضمنی چالان جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ دسمبر 2025 میں سہیل آفریدی کی زیرصدارت صوبائی کابینہ نے سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیے گئے مقدمات واپس لینے اور ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی تحقیقات صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اپریل 2026 میں وفاقی آئینی عدالت کے حکم امتناع کے باعث مقدمہ ختم نہیں ہو سکا۔

عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں کیس چلنے کا امکان

سہیل آفریدی کے خلاف قانونی مشکلات صرف ریڈیو پاکستان حملہ کیس تک محدود نہیں ہیں بلکہ حالیہ لانگ مارچ کے دوران ریاست مخالف تقاریر کے حوالے سے بھی ان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی اطلاعات ہیں۔ تحریک انصاف کے منحرف رہنما شیر افضل مروت نے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں علی امین گنڈاپور کے استعفے اور اس کے بعد سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے قانونی طریقۂ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ان کی نامزدگی اور انتخاب کے دوران قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اس درخواست پر فیصلہ سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ کی قانونی حیثیت کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مختلف مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے ان کی پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی کوششیں بھی ان کے قانونی مستقبل کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔

 

دوسری جانب سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کو برقرار رکھنے کے تحریک انصاف کے فیصلے اور ان کی رہائی کے لیے پارٹی کی عملی کوششوں کے درمیان واضح تضاد بھی دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے بھائی عدالت سے بازیابی کی درخواست کر چکے ہیں، لیکن پارٹی کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے کسی مؤثر پیش رفت کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ اب انہیں وزیراعلیٰ برقرار رکھنے کے باضابطہ اعلان نے اس سیاسی مؤقف کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ تحریک انصاف انہیں عہدے سے ہٹانے یا کسی متبادل نام پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج چھ ماہ بعد بھی جاری رہ سکتا ہے، اگرچہ حکومت اس دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ ان کا الزام ہے کہ سابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون نہیں کر رہی تھی اور سہیل آفریدی آپریشنز کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ اس صورت حال میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کا سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے کا فیصلہ ان کی رہائی کے بجائے انہیں طویل عرصے تک حراست میں رکھنے اور مختلف مقدمات میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

Back to top button