بری ہونیوالے شہری کے  کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ایف آئی آرکا حوالہ نہ دینےکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمے سے بری ہونے والے شہری کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ایف آئی آر کا حوالہ نہ دینےکا حکم دیتے ہوئے بریت کے بعد ایف آئی آر کا کریکٹر سرٹیفیکیٹ میں حوالہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ایاز شوکت نے انیبہ عرفان کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو طریقہ کار وضع کرنےکی ہدایت کرتے ہوئےکہا ہےکہ قانون شہریوں کو جو حق دے چکا اس کے لیے عدالت آنا ضروری نہیں۔

عدالت نے پولیس کی جانب سے شہری کو جاری پہلا کریکٹر سرٹیفکیٹ غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کو ڈسچارج ظاہر کرکے اس کی قانونی حیثیت کو کم کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بری ہونے والے شہریوں کو اس ریلیف کے لیے عدالت آنے پر مجبور نہ کیا جائے، پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں حتمی بریت پر ختم ہونے والی ایف آئی آر کو ظاہر کرنےکی کوئی قانونی گنجائش نہیں ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پولیس اندرونی ریکارڈ اپنے پاس رکھ سکتی ہے لیکن بیرون ملک جانے والے شہری کے سرٹیفکیٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا، بری ہونے والے شخص کو مجرم کی طرح پیش نہیں کیا جاسکتا۔

Back to top button