بالی وڈ بادشاہ امیتابھ بچن سیاست میں کیوں ناکام ہوئے؟

بالی وڈ کے بادشاہ امیتابھ بچن نے فلمی دنیا میں مسلسل کامیابیاں سمیٹتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور شہرت کی بلندیوں کو چھوا، تاہم کانگریس کے پلیٹ فارم سے شروع ہونے والا ان کا سیاسی سفر مکمل مایوسی اور ناکامی پر منتج ہوا۔ پردۂ سیمیں پر بدعنوان نظام کے خلاف لڑنے والے ’اینگری ینگ مین‘ نے 1984ء میں الہ آباد سے ریکارڈ مارجن کے ساتھ پارلیمانی الیکشن جیتا، لیکن عملی سیاست کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو سکے اور محض تین برس بعد ایوان سے مستعفی ہو گئے۔ بوفورس سکینڈل میں راجیو گاندھی سے دوستی کی وجہ سے خود پر لگنے والے الزامات نے تو انہیں سیاست سے دل برداشتہ کیا ہی تھا لیکن بطور رکن پارلیمینٹ عوامی توقعات پوری نہ کر پانے سے بھی ان کی سیاسی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا چنانچہ انہوں نے سیاست کو خدا حافظ کہہ دیا۔
آج وہ بھارتی سیاست سے کافی ذیادہ فاصلہ رکھتے ہیں، حالانکہ چار دہائیاں قبل انکی زندگی کا یہ پہلو بالکل مختلف تھا۔ حال ہی میں بھارتی ٹی وی شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں امیتابھ بچن نے اپنے سیاسی دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بھاری اکثریت سے انتخاب جیت کر پارلیمان پہنچے تھے، لیکن وہاں چند روز گزارنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ سیاست ان کے لیے ایک مشکل میدان ہے۔ ان کے بقول، اس شعبے میں گفتگو کے ہر لفظ اور ہر تعلق کے بارے میں محتاط رہنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ان دو برسوں کو اپنی زندگی کا اہم تجربہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس دوران انہیں بھارتی دیہات کے لوگوں کی زندگی، ان کے مسائل اور انتخاب لڑنے والوں کے لیے ان کی محبت کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔
انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ان کا سیاست میں آنے کا فیصلہ جذباتی تھا، کیونکہ وہ اپنے دوست راجیو گاندھی کی مدد کرنا چاہتے تھے، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ سیاست صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ امیتابھ بچن کے سیاسی سفر کا پس منظر ان کے خاندانی اور ذاتی روابط سے بھی جڑا ہوا تھا۔ ان کے والد ہری ونش رائے بچن ہندی ادب کے ممتاز شاعر تھے اور جواہر لعل نہرو کے خاندان سے ان کے قریبی مراسم تھے۔ امیتابھ کی والدہ تیجی بچن کی اندرا گاندھی سے دوستی تھی، جبکہ ان کے بڑے بیٹے راجیو گاندھی سے امیتابھ بچن کے دوستانہ تعلقات تھے۔ اس کے باوجود امیتابھ ابتدا میں سیاست میں آنے کے خواہش مند نہیں تھے۔
1982ء میں فلم ’قلی‘ کی شوٹنگ کے دوران ایک بڑے حادثے کے بعد صحت یاب ہوئے تو ان کے دہلی کے دورے بڑھنے لگے اور ان کی ممکنہ سیاسی انٹری کی خبریں گردش کرنے لگیں، جن کی انہوں نے ابتدا میں تردید کی۔ جنوری 1984ء میں ان کی فلم ’انقلاب‘ ریلیز ہوئی، جس میں انہوں نے بدعنوان سیاسی نظام کے خلاف لڑنے والے شخص کا کردار ادا کیا۔ اس زمانے میں وہ فلمی دنیا میں ایسے ناراض نوجوان کی علامت بن چکے تھے جو ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ اسی سال اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی وزیراعظم بنے تو امیتابھ بچن نے دسمبر 1984ء کے عام انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر الہ آباد سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے مقابلے میں اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ہیم وتی نندن بہوگنا تھے، جو ایک تجربہ کار سیاست دان تھے۔ تاہم کانگریس کے حق میں موجود سیاسی فضا اور امیتابھ کی غیر معمولی مقبولیت نے انتخابی مقابلے کو خاصا دلچسپ بنا دیا۔ تاہم امیتابھ نے بہوگنا کو بڑے مارجن سے شکست دے کر پارلیمان میں جگہ بنا لی۔ اس کامیابی نے ثابت کیا کہ انکی فلمی مقبولیت انتخابی میدان میں بھی غیر معمولی اثر رکھتی تھی، لیکن یہ اثر دیرپا سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ ہو سکا۔ پارلیمان پہنچنے کے بعد انہیں جلد ہی اندازہ ہونے لگا کہ سیاست میں عوامی توقعات پوری کرنا اور نظام کے اندر رہتے ہوئے مؤثر کردار ادا کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔
بوفورس سکینڈل میں امیتابھ کے مبینہ روابط کے الزامات نے ان کی سیاسی زندگی کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا۔ اگرچہ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی، لیکن تنازع نے ان کی ساکھ کو متاثر کیا۔ بالآخر 1987ء میں انہوں نے پارلیمانی نشست سے استعفیٰ دے دیا اور عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ امیتابھ تب سیاست میں آئے جب وہ اپنے فلمی کریئر کے عروج پر تھے۔ پردۂ سیمیں پر وہ نظام بدلنے کے عزم سے سرشار ایک ناراض نوجوان کی علامت تھے، لیکن عملی سیاست میں وہ اس کردار کو حقیقی زندگی میں نبھانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
سیاست سے علیحدگی کے باوجود بچن خاندان کے سیاسی روابط برقرار رہے۔ بعدازاں جب امیتابھ مالی بحران سے دوچار ہوئے تو سماج وادی پارٹی کے رہنما اور ان کے دوست امر سنگھ نے ان کی مدد کی۔ 2004ء میں ان کی اہلیہ جیا بچن سماج وادی پارٹی کے کوٹے سے راجیہ سبھا کی رکن بنیں۔ امیتابھ بعض مواقع پر سوشل میڈیا کے ذریعے کانگریس کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے، تاہم گاندھی خاندان کے بارے میں عموماً خاموش رہے۔ جب ان سے اس خاموشی کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ دوستوں کے بارے میں اس طرح کی باتیں کیسے کی جا سکتی ہیں۔ یوں فلمی دنیا میں بے مثال کامیابی حاصل کرنے والے امیتابھ بچن کا سیاسی سفر مختصر ثابت ہوا۔
