حکومت ’’ایکس‘‘ سے پابندی ہٹانے کیلئے کیوں تیار نہیں؟

پاکستان میں سب سے بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ تاحال بندش کا شکار ہے، ایکس کو رواں سال فروری میں بند کیا گیا تھا اور اب تک بندش کا شکار ہے، ’’ایکس‘‘ کو رواں سال فروری کی 17 تاریخ کو بند کیا گیا تھا تاہم حکومت کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی جا رہی تھی۔’ایکس‘ پر پابندی کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی اُٹھایا گیا تھا جہاں وزارتِ داخلہ کے حکام نے دورانِ سماعت چیف جسٹس عامر فاروق کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو انٹیلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹس پر بند کیا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس جواب کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو 17 اپریل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، حکومت ’ایکس‘ پر پابندی کے حوالے سے شدید تنقید کی زد میں ہے اور اب ان کی طرف سے اس پابندی کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی، پاکستان وہ پہلا ملک نہیں جہاں ’ایکس‘ کو بند کیا گیا بلکہ اس فہرست میں روس، ایران، چین، میانمار، ترکمانستان اور شمالی کوریا جیسے وہ ممالک بھی شامل ہیں جہاں یا تو آمرانہ نظام نافذ ہے یا پھر ان پر جمہوری اقدار کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ ’ایکس‘ پر ملک دشمنوں سے فنڈنگ لے کر ’ریاست کے مفادات کے خلاف‘ استعمال کیا جاتا ہے اور معیشت کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے، یہ پابندی میں سمجھتا ہوں کہ اصولی طور پر نہیں ہونی چاہئے، تجویز دی کہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین، صحافیوں اور یوٹیوبرز پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سوشل میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق مرتب کرے۔ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’بولو بھی‘ سے منسلک فریحہ عزیز نے وزیرِ اطلاعات کے ریمارکس پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی ایکس قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے تو اسے حکومت کیوں استعمال کرتی ہے؟ ان کے مطابق ضابطہ اخلاق یا اس پر پھیلنے والی ڈِس انفارمیشن یا مِس انفارمیشن پر پالیسی بحث تو ہوسکتی ہے لیکن سوشل میڈیا بشمول ایکس کے لیے پیمرا کی طرز پر ضابطہ اخلاق لاگو کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ان کے مطابق پاکستان میں ’پریوینشن آف کرائمز ایکٹ‘ (پیکا) پہلے سے موجود ہے جس کے تحت حال ہی میں صحافی اسد طور کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی تھی۔’مسئلہ قانون کے ہونے یا نہ ہونے کا نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں ان قوانین کا استعمال ناقدین کی زبان بندی کے لیے کرتی ہیں۔‘پاکستانی سیاست اور حکومتی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار ضیغم خان سمجھتے ہیں کہ ’ایکس‘ پر پابندی کا تعلق قومی سلامتی سے نہیں بلکہ ’پولیٹیکل مینجمینٹ‘ سے ہے۔انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ایکس‘ پر پابندی کی سب سے بڑی وجہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ہے۔ان کے مطابق ’اس پابندی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی سیاسی طور پر متحرک ہونے اور بیانیہ بنانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور اس میں ایکس پاکستان میں بہت اہم ہے۔ابھی پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کا تنازع بھی اپنی جگہ موجود ہے اور جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہو جاتا تب تک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ استعمال کرتے رہیں گے۔تجزیہ کار ضیغم خان نے یہ بھی کہا کہ انھیں ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے کسی ’فائر وال‘ کا انتظام کیا جائے تاکہ پورے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بجائے منتخب اکاؤنٹس کو بلاک کیا جا سکے۔
