مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن صفدر کے بیان پر برہم کیوں؟

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے خواتین اور بریسٹ کینسر سے متعلق متنازع بیان پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دل خراش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس بیان نے ان کا دل توڑ دیا ہے۔ انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف کی جانب سے کیپٹن صفدر کی تقریر کا ویڈیو کلپ شیئر کیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ایک عورت اور بیوی بند دروازوں کے پیچھے کتنی خاموش جنگیں لڑتی ہے اور ٹوٹ جانے کے احساس کے باوجود خود کو مضبوط رکھنے کی ہمت کرتی ہے۔ ان کے بقول بعض لڑائیاں خاموشی سے لڑی جاتی ہیں اور کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتے۔
مریم نواز نے اپنے پیغام میں براہِ راست کیپٹن صفدر کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے الفاظ کو بظاہر شوہر کے حالیہ بیان پر ناپسندیدگی اور دل آزاری کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے شوہر کے کسی بیان پر اس انداز میں ردعمل دیا ہے۔ اس سے قبل 2023 میں ایک انٹرویو کے دوران مریم نواز نے کہا تھا کہ کیپٹن صفدر ایک آزاد شخصیت ہیں اور ضروری نہیں کہ ان کے خیالات ان کے اپنے سیاسی مؤقف یا نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہوں۔
کیپٹن (ر) صفدر کے متنازع بیان پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور بعض صارفین نے مریم نواز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ ان کے شوہر خواتین اور کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا مریضوں کے بارے میں اس نوعیت کی گفتگو کر رہے ہیں۔ ناقدین نے اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی کہ مریم نواز کی والدہ بیگم کلثوم نواز بھی کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں، اس لیے اس بیماری سے متعلق طنزیہ گفتگو زیادہ تکلیف دہ ہے۔
یاد ریے کہ یہ تنازع 29 اکتوبر کو چنیوٹ میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس سے شروع ہوا جہاں کیپٹن (ر) صفدر نے متعدد مذہبی شخصیات کے ہمراہ شرکت کی اور تقریب سے خطاب کیا۔ تقریباً 21 منٹ کی تقریر میں انھوں نے پاکستان کی احمدی کمیونٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ان کے عقائد اور خیالات کے باعث ان کے پارلیمان تک پہنچنے کا راستہ روکا گیا۔ تاہم ان کی تقریر کا ایک حصہ خواتین کے بارے میں گفتگو کے باعث خاص طور پر متنازع بن گیا۔
کیپٹن صفدر نے اپنی تقریر میں مولانا فضل الرحمن کے بارے میں اپنے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر انھیں ایک خاتون کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا تھا۔ خاتون کو جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر وہ کسی دارالعلوم میں پڑھی ہوتیں اور ان کا جسم ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوتا تو انھیں والد اور استاد کے یکساں مرتبے کا علم ہوتا۔
انکے اس تبصرے کو خواتین کے جسمانی حقوق اور خودمختاری سے متعلق نعرے ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ پر تنقید کے طور پر دیکھا گیا۔ انھوں نے اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے خواتین میں کینسر کی بیماری کا ذکر کیا اور کہا کہ جب خواتین بیمار ہوتی ہیں اور انھیں کینسر ہو جاتا ہے تو کوئی کہتی ہے کہ یہاں کا کینسر ہے اور کوئی کہتی ہے کہ وہاں کا کینسر ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر جسم اور مرضی اپنی ہے تو خواتین خود کو ٹھیک کر لیں، لیکن جب بیماری ٹھیک نہیں ہوتی تو مولوی صاحب سے دعا اور دم کیے ہوئے پانی کی درخواست کرتی ہیں۔ ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے اعتراض کیا کہ کینسر جیسی جان لیوا بیماری اور اس میں مبتلا خواتین کے دکھ کو طنز کا موضوع بنانا نامناسب ہے۔
کیپٹن صفدر نے اسی تقریر میں فروری 2018 میں انتقال کر جانے والی معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کے خلاف بھی نامناسب الفاظ استعمال کیے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ عاصمہ جہانگیر کی باقیات کے خلاف الیکشن لڑ رہے تھے۔
سوشل میڈیا پر کیپٹن صفدر کے بیان کے جواب میں متعدد صارفین نے کینسر سے متاثرہ خواتین کے تجربات اور اس بیماری کے باعث خاندانوں کو پہنچنے والے صدمے کا حوالہ دیا۔ ایک صارف نے کہا کہ مریم نواز کی والدہ بھی کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں، لیکن ان کے شوہر اسی مرض میں مبتلا خواتین کے بارے میں طنزیہ گفتگو کر رہے ہیں۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ کینسر نے بے شمار ذہین اور باصلاحیت خواتین کو خاموشی سے تکلیف سہنے پر مجبور کیا ہے، اس لیے کم از کم اس بیماری کا مذاق نہیں اڑایا جانا چاہیے۔
معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شمع جونیجو نے بھی مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے خاندان میں کینسر کے باعث ہونے والی اموات کا ذکر کیا۔ انھوں نے لکھا کہ اسی روز انھوں نے اپنی 39 سالہ کزن کو کینسر کے باعث کھو دیا، جو اپنے پیچھے چھ سالہ بچہ چھوڑ گئی ہیں۔ ان کے بقول یہ بیماری ان کے خاندان میں اس وقت سے موجود ہے جب ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ جیسی اصطلاح بھی متعارف نہیں ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا پر اس ردعمل کے بعد مریم نواز کا اپنے شوہر کے بیان کو دل خراش قرار دینا اس تنازع کا ایک اہم پہلو بن گیا ہے۔
