لائبہ اعجاز کیس: ملزم نعمان پر مانسہرہ کی مزید 3 خواتین سے لاکھوں روپے ہتھیانے کا الزام
پولیس ذرائع کے مطابق خواتین کو ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر رقم وصول کی گئی، ایک متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ اسے جعلی تقرری نامے بھی دیے گئے تھے۔

اعجاز کیس کے ملزم نعمان پر مانسہرہ کی تین خواتین کے ساتھ بھی مالی فراڈ کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے خواتین کو ملازمت دلانے کا وعدہ کرکے ان سے لاکھوں روپے وصول کیے۔ ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ نعمان نے 2025 میں اس سے 12 لاکھ روپے لیے اور ملازمت کے جعلی تقرری نامے فراہم کیے۔ خاتون کے مطابق ملازمت پر جوائننگ سے پہلے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی تو تمام کاغذات جعلی نکلے۔
ایک دوسری متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ ملزم کو قتل کرکے تمام شواہد ختم کر دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 2025 میں درج مقدمے کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو آج لائبہ زندہ ہوتی۔
یاد رہے کہ امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب فراڈ ثابت ہونے کے بعد شدید مالی نقصان اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنے والی لائبہ اعجاز نے گزشتہ ماہ مبینہ طور پر گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی تھی۔
بعد ازاں لائبہ اعجاز خودکشی کیس کا مرکزی ملزم نعمان پولیس حراست کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا۔
