کامران اکمل نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں سہولتوں اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے لیا
سابق وکٹ کیپر نے نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے جدید اقدامات کو سراہا، عاقب جاوید نے 19 پچز اور پشاور ہائی پرفارمنس سینٹر کے منصوبے پر بریفنگ دی۔

سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر کامران اکمل نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا دورہ کیا، جہاں ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے انہیں اکیڈمی کے مختلف شعبوں، جاری ترقیاتی منصوبوں اور کھلاڑیوں کی تربیت و صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بنائے گئے ماڈل کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا۔
دورے کے دوران کامران اکمل کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور کھلاڑیوں کے لیے فراہم کی جانے والی جدید سہولتوں کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ انہوں نے باب ولمر انڈور اسکول میں نصب جدید بولنگ مشین دیکھی اور ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جاری ترقیاتی کاموں کو بھی سراہا۔
کامران اکمل نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ اب کام انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کیا جا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج پاکستان کرکٹ کو حاصل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو جدید سہولتیں اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ بہتر تربیت حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں گے اور بعد میں ریجنز اور ڈیپارٹمنٹس کی سطح پر کھیلنے کے قابل ہوں گے۔
انہوں نے اکیڈمی میں بائیو مکینکس لیب کے قیام اور ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جدید ڈریسنگ رومز کی تعمیر کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہر سطح پر جاری کاموں میں بھرپور معاونت کر رہا ہے اور ملک کی کرکٹ کو اس وقت ایسی ہی سہولتوں کی ضرورت تھی۔ نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا بھی اہم ہے۔
اس موقع پر عاقب جاوید نے بتایا کہ ایل سی سی اے گراؤنڈ میں 19 مختلف پچز تیار کی گئی ہیں، جہاں کھلاڑیوں کو مختلف کنڈیشنز میں کھیلنے اور اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کے مواقع میسر آئیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہر پیر کو پریکٹس کے لیے ایک نئی وکٹ تیار کی جاتی ہے، جو اگلے پانچ روز تک کھلاڑیوں کو مختلف نوعیت کے تجربات فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ انڈر 15 کے بہترین کھلاڑیوں کے لیے لیول ون کوچنگ کورس بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد مستقبل کے کھلاڑیوں کے ساتھ نوجوان کوچز کی تربیت بھی یقینی بنانا ہے۔
عاقب جاوید کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ بہت جلد ہائی پرفارمنس سینٹر پشاور کا افتتاح کرے گا، جس سے ملک میں کرکٹ کے ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے اور کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
