سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پاکستانی بینکرز کونسے ہیں؟

ملکی معاشی حالات سے ہر پاکستانی طبقہ متاثر ہوا ہے، لیکن بینکرز حضرات کے کھاتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، چند برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر بینکوں کی بیلنس شیٹس میں تاریخی اعتبار سے بلند شرح سود اور سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی وجہ سے حیران کن اضافہ ہوا ہے۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کے بینکنگ سیکٹر میں سی ای اوز بھی اچھا خاصا کما رہے ہیں، جاوید اقبال پاکستان کے بینکنگ شعبے میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے بینکر ہیں، وہ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے صدر اور سی ای او کے طور پر کام کرتے ہیں، اگر ان کی تنخواہ کی مد میں آمدنی کو دیکھا جائے تو وہ سالانہ 386 ملین روپے کماتے ہیں جوکہ اسی بینک کے گزشتہ چیف کی سالانہ آمدن سے 97 ملین روپے زیادہ ہے۔میزان بینک کے صدر اور سی ای او عرفان صدیقی پاکستان کے بینکنگ سیکٹر میں سب سے زیادہ سالانہ کمانے والے افراد کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کی تنخواہ کی مد میں سالانہ آمدن 359 ملین روپے ہے جبکہ ان کی گزشتہ سال کی آمدن 297 ملین روپے تھی۔وفاقی وزیر خزانہ بننے سے پہلے تک محمد اورنگزیب کو مہنگے ترین بینکر کا اعزاز حاصل رہا۔ اب وہ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ 2023 میں تنخواہ کی مد میں انہوں نے 352 ملین روپے کمائے جو کہ 2022 کی نسبت 49 ملین روپے زیادہ ہیں۔عاطف باجوہ کا شمار اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سی ای اوز میں ہوتا ہے۔ ان کی تنخواہ میں سال 2023 میں 28 فیصد اضافہ ہوا جوکہ 63 ملین روپے بنتے ہیں۔ 2022 میں ان کی سالانہ تنخواہ 225 ملین روپے تھی۔ اس حساب سے 2023 میں انہوں نے تنخواہ کی مد میں 288 ملین روپے کمائے۔ریحان شیخ نے 2023 میں تنخواہ کی مد میں 258 ملین روپے حاصل کیے۔ جبکہ 2022 میں ان کی سالانہ آمدن 244 ملین روپے تھی۔ یوسف حسین پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے اسلامی بینک کے صدر اور سی ای او ہیں، جن کی سالانہ تنخواہ 221 ملین روپے ہے۔ انہوں نے اپنے بینک سے سال 2022 میں 166 ملین روپے تنخواہ وصول کی تھی۔منصور علی خان نے 2023 میں سالانہ تنخواہ کی مد میں 209 ملین روپے کمائے جبکہ 2022 میں انہوں نے 166 ملین روپے تنخواہ وصول کی تھی۔ ظفر مسعود نے 2023 میں سالانہ تنخواہ کی مد میں 171 ملین روپے کمائے۔ ان کی سالانہ تنخواہ میں 10 ملین روپے کی کمی ہوئی جو کہ 2022 میں 181 ملین روپے تھی۔عاطف بخاری نے 2023 میں سالانہ تنخواہ کی مد میں 144 اعشاریہ 5 ملین روپے کمائے جبکہ سال 2022 میں انہوں نے بینک سے تنخواہ کی مد میں 96 ملین روپے سے زائد رقم وصول کی تھی۔شعیب ممتاز نے 2023 میں تنخواہ کی مد میں 126 ملین روپے کمائے جبکہ سال 2022 میں ان کی مجموعی سالانہ تنخواہ 104 ملین روپے رہی تھی۔

Back to top button