عمران یا شہباز، کس نے قومی خزانے کو بڑا ٹیکا لگایا؟

پاکستان میں کفایت شعاری کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی عمر ہے۔ کفایت شعاری کا یہ سفر ہر حکومت کے دور میں ہی جاری رہا لیکن حیران کن طور پر جہاں بچت کے دعوے کیے جاتے رہے وہیں حکومتی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ ملک کے تقریباً تمام سرکاری ادارے خسارے میں چلنے لگے۔پی آئی اے، ریلوے، واپڈا، سٹیل ملز اور دیگر کئی ادارے کے دہائیوں سے خسارے میں چلنے کے بعد اب ان میں کچھ کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد وفاقی کی سطح پر مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی حکومت نے بھی ایک بار پھر کفایت شعاری کے تحت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ حکومت نے سب سے پہلے صدر، وزیراعظم اور کابینہ نے تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ماضی کے کچھ فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے وفاقی وزرا اور سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں کو محدود کر دیا ہے۔
اس سے قبل سنہ 2022 میں بھی شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اخراجات میں کٹوتی کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے سالانہ ایک ہزار ارب روپے کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے جامع اقدامات تجویز کیے تھے، لیکن اس کمیٹی کی بیشتر تجاویز کو نظرانداز کر دیا گیا تھا۔
تاہم حکومت نے سرکاری افسران اور کابینہ کے ارکان کو ملنے والے پیٹرول کے کوٹے میں 40 فیصد کمی کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران اور وزرا کے ’غیر ضروری‘ غیرملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے علاوہ سرکاری سطح پر گاڑیاں خریدنے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ ان میں سکول بسیں، ایمبولینس یا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی گاڑیاں شامل نہیں تھیں۔
اس کے باوجود پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی کے باوجود کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے پروٹوکول ڈیوٹی کے لیے کروڑوں روپے کی لگژری گاڑیاں درآمد کرنے اور خریدنے کا انکشاف ہوا جبکہ کئی ایک وفاقی وزرا کو قانونی طور پر 1800 سی سی کی کار کے بجائے لینڈ کروزر اور بلٹ پروف گاڑیاں بھی استعمال کے لیے دی گئیں۔
اس کے علاوہ کفایت شعاری کے اعلانات کے باوجود ایک برس کے دوران 25 وفاقی وزرا نے چھ کروڑ 52 لاکھ روپے غیرملکی دوروں پر خرچ کیے۔ ان میں سب سے زیادہ ایک کروڑ سے زائد روپے عبدالقادر پٹیل نے بطور وفاقی وزیر صحت خرچ کیے۔
وفاقی وزیر سرمایہ کاری چوہدری سالک حسین پر 37 لاکھ ،وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان پر 49 لاکھ، وزیر مواصلات اسعد محمود پر 18 لاکھ، نوید قمر پر 59 لاکھ، وزیر دفاعی پیداوار محمد اسرار ترین پر 26 لاکھ، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف پر 31 لاکھ، خرم دستگیر پر 26 لاکھ، وزیر مملکت مصدق ملک پر 35 لاکھ، اسحاق ڈار پر 24 لاکھ روپے اور دیگر پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے۔ ان میں پی ٹی آئی دور حکومت کے دو وزرا زبیدہ جلال اور عمر ایوب بھی شامل ہیں۔ دونوں پر بالترتیب نو لاکھ اور 15 لاکھ خرچ ہوئے۔
تاہم وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بیرون ملک سرکاری دوروں کے اخراجات بھی خود برداشت کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مارشل لا ادوار کے بعد پاکستان میں دو سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں رہی ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کی جانب سے اداروں میں سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے قومی خزانے پر بوجھ پڑا اور کفایت شعاری کے تمام تر دعوؤں اور وعدوں کے باوجود ملک کی معاشی صورت حال ابتر ہوئی۔
سنہ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو انہوں نے بھی کفایت شعاری اور بچت مہم کا اعلان کرتے ہوئے کئی بڑے اعلانات کیے۔ تاہم ان کی حکومت کے خاتمے بعد معلوم ہوا کہ پی ٹی آئی نے ملکی تاریخ میں قرضے لینے کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے اور ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچا ہوا تھا۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کے بجائے وزیراعظم ہاؤس میں ہی موجود ملٹری اتاشی کے لیے مخصوص رہائش گاہ میں قیام کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم ہاؤس میں رکھی گئی بھینسوں اور گاڑیوں کی نیلامی بھی کی گئی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور این ایچ اے سمیت کئی دیگر وزارتوں اور محکموں کی گاڑیاں نیلام کی گئیں۔ پہلے مالی سال کے اختتام پر کئی ایک وزارتوں کی جانب سے بجٹ سرنڈر کرنے اور بچت کے دعوے کیے گئے۔
ابتدا میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم تین ماہ تک کوئی غیرملکی دورہ نہیں کریں گے۔ اور وزیراعظم اور وزیر خارجہ کمرشل پروازوں سے بیرون ملک جایا کریں گے لیکن بعد ازاں اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔
عمران خان کی حکومت نے ایک طرف تو کفایت شعاری کے نام پر مختلف اداروں کے بجٹ میں کٹوتی کی لیکن اپنے دوسرے بجٹ میں ہی خود ہی دستاویزات کے ذریعے بتایا کہ حکومت نے مالی سال 20-2019 میں 544 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس حاصل کیں۔
عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان بھی کیا لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے اقتدار کے 1240 دنوں میں سے 47 دن بیرون ملک گزارے ہیں۔ اوسطاً 22 افراد وزیراعظم کے غیرملکی دوروں میں ان کے وفود کا حصہ رہے۔ عمران خان نے ساڑھے تین برس میں 31 غیرملکی دورے کیے جن پر 20 کروڑ 37 لاکھ 67 ہزار روپے خرچ ہوئے۔عمران خان کے دور حکومت میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے 31 کروڑ روپے بچائے جبکہ کابینہ ڈویژن کے مطابق یہ رقم دراصل 9 کروڑ روپے تھی۔

Back to top button