’’لیٹر آف کریڈٹ‘‘ معاشی بحران کیسے بڑھا رہا ہے؟

بیرون ممالک سے اشیا منگوانے کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو رقم کی ادائیگی کی ضمانت کے طور پر بینک سے ’’لیٹر آف کریڈٹ‘‘ یا ایل سی  بنوا کر بھیجا جاتا ہے جوکہ غیرملکی کمپنیوں کو رقم کی ادائیگی کی ضمانت فراہم کرتا ہے، تاہم پاکستانی بینکوں کی جانب سے اس لیٹر کو جاری کرنے سے انکار سے ملک میں معاشی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ پاکستان میں ڈالر نایاب ہونے کے بعد ایک جانب تو بینکوں نے نئے لیٹر آف کریڈٹ جاری کرنا بند کر دیئے ہیں تو دوسری جانب پہلے سے جاری شدہ ایل سیز کے تحت جو سامان پاکستان پہنچ چکا ہے، اس کو بھی سیٹل نہیں کیا جا رہا۔

اس لیے کراچی کی بندرگاہ پر ہزاروں کنٹینرز کو پھنسے ہوئے کئی ہفتے گزر گئے ہیں، ان کنٹینرز میں کھانے پینے کی اشیا، خوردنی تیل، دالیں، ادویات، صنعتوں کی مشینری، اور گاڑیوں کے پرزوں سمیت کئی اقسام کی اشیا شامل ہیں جو بندرگاہ پہنچ چکی ہیں لیکن ایل سی کے تحت انکی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے، اس لیے یہ اشیا بندرگاہ پر پڑی ہوئی خراب ہو رہی ہیں۔

یاد ریے کہ لیٹر آف کریڈٹ یا ایل سی درآمد میں استعمال ہونے والی انتہائی اہم دستاویز ہے جو بینک جاری کرتا ہے، جب بھی کوئی فرد یا کمپنی بیرون ملک سے کوئی اشیا درآمد کرنا چاہتی ہے تو اسے بیرون ملک سے اشیا پاکستان بھیجنے والی کمپنی ان اشیا کی ادائیگی کی ضمانت مانگتی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ سامان بھیج دیں اور یہاں سے اس کی ادائیگی نہ ہو۔ عالمی قوانین کے تحت یہ ایل سی بینک کی جانب سے بیرون ملک سے سامان بھیجنے والے فرد یا کمپنی کو بینک کی گارنٹی ہوتی ہے کہ پاکستان میں درآمد کرنے والے افراد یا کمپنی سامان کی ادائیگی کریں یا نہ لیکن بینک آپ کو اس سامان کی ادائیگی کرے گا، بیرون ملک کمپنی رقم کی ادائیگی پر بینک کے جانب سے گارنٹی یا ایل سی کو دیکھنے کے بعد ہی آرڈر کی گئی اشیا روانہ کرتی ہیں۔

اگلے روز اسی معاملے پر گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد کے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے دوران چیمبر کے ارکان نے سٹیٹ بینک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ گورنر سٹیٹ بینک سے میٹنگ کے دوران چیئرمین ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان زبیر موتی والا نے کہا کہ بینکوں کی جانب سے ایل سی کے اجرا میں تاخیر کے باعث ہماری صعنتی سرگرمیوں میں 25 سے 30 فیصد تک کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل سی کے اجرا کے بعد امپورٹ بند ہونے اور کاروبار پر منفی اثرات ہونے کے باجود ایف بی آر نے ٹیکس وصولی کو گذشتہ ٹیکسوں کے حساب سے جاری رکھا ہے، یہ کہنے کے بعد انہوں نے علامتی طور پر کراچی چیمبر آج کامرس کی باکس میں بند چابیاں گورنر سٹیٹ بینک کو دیتے ہوئے کہا کہ اب آپ ہی چیمبر سنبھالیں۔۔بعد میں کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر طارق یوسف نے گورنر سٹیٹ بینک سے علامتی احتجاج پر معذرت بھی کی، چیئرمین ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان زبیر موتی والا کے مطابق ’ایل سی کے اجرا میں تاخیر کے باعث مختلف ممالک سے پاکستان آنے والی اشیا کے 6000 کنٹینر کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔

 آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز اور امپورٹرز مرچنٹ ایسوسی ایشن کے عہدیدار وحید احمد کے مطابق ’کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے کنٹینرز میں 250 کنٹینر پیاز کے ہیں، جس کی قیمت تقریباً بیس لاکھ ڈالرز ہے، اس کے علاوہ تقریباً سوا آٹھ ہزار ڈالر مالیت کے 63 کنٹینر ادرک اور 25 لاکھ ڈالر کے 104 کنٹینر لہسن کے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چھ لاکھ میٹرک ٹن سویابین تیل کے کنٹینرز بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

Back to top button