ن لیگ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کیوں اپنانے والی ہے؟

سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپناتے ہوئے ماضی میں اپنے ساتھ کی گئی زیادتیوں کے ذمہ دار جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے اگلے مرحلے میں سابق فوجی ترجمان آصف غفور کا نام بھی شامل کر لیا جائے گا جو اس وقت کور کمانڈر کوئٹہ تعینات ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں صافی کہتے ہیں کہ روزِ اول سے ہم دہائی دیا کرتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی بنائی اور اسے اقتدار بھی دلوایا لیکن کوئی اس بات پر کان دھرنے کو تیارنہ ہوتا، الٹا ہمیں یہ حقیقت بیان کرنے پر بدترین اور سزائیں ملتی رہیں، تاہم اب تو کوئی بات خفیہ نہیں رہی۔ سب اقرار کرنے لگے ہیں کہ عمران خان کو اقتدار اسٹیبلشمنٹ اور بالخصوص جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے دلوایا۔ جنرل باجوہ خود اعتراف کرچکے ہیں کہ عمران کو اقتدار دلوانے میں ان کا ہاتھ تھا جبکہ عمران بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کی حکومت اور پارلیمینٹ جنرل باجوہ، فیض حمید اور آصف غفور وغیرہ چلاتے رہے ۔ لیکن پھر جب ایک سٹیج پر جنرل باجوہ نے محسوس کیا کہ ان کے ادارے کا امیج ناقابل برداشت حد تک تباہ ہو رہا ہے اور معیشت دیوالیہ ہونے جارہی ہے تو وہ نیوٹرل ہو گے اور یوں عمران خان کی حکومت دھڑام سے گرگئی۔ ردعمل میں عمران خان نے نہ صرف اپنی حکومت کی رخصتی کو جنرل باجوہ اور ان کے ساتھیوں کے گلے میں ڈال دیا بلکہ آرمی چیف اور فوج کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی بدترین دشمن سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ دوسری طرف پی ڈی ایم اور بالخصوص مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نتھی ہو گئیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو 28 نومبر تک بالخصوص اور اس کے بعد بالعموم یہ شکایت رہی کہ اسٹیبلشمنٹ اب بھی ان کے ساتھ گیم کھیل رہی ہے یا پھر پی ٹی آئی کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ ان کی رائے کی بنیاد یہ ہے کہ وہ یہ دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ وہ سختی نہیں کی جارہی جو ماضی قریب میں ان کے ساتھ ہوتی رہی ہے۔ اسی طرح وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو سیدھا کرنے کیلئے عدلیہ، میڈیا اور الیکشن کمیشن وغیرہ کے بازو اس طرح نہیں مروڑ رہی جس طرح نواز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان اور دیگر کو ٹھکانے لگانے کیلئے مروڑتی رہی۔ غور سے دیکھا جائے تو عملاً مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اور جے یوآئی کا رویہ اسٹیبلشمنٹ سے متعلق اسی طرح تابعدارانہ ہے جس طرح پی ٹی آئی کا تھا لیکن زبانی طور پر وہ اسٹیبلشمنٹ کی عمران دور حکومت کی طرح ہمنوائی کررہی ہے اور نہ ہی اس کا دفاع۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل اگرچہ دل و جان سے عمران سے نالاں اور پی ڈی ایم کی حکومت کی کامیابی کے متمنی ہیں لیکن وہ پی ڈی ایم حکومت کی کارکردگی سے بھی پوری طرح مطمئن نہیں۔ وہ معیشت کے حوالے سے پریشان ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اسحاق ڈار کے آنے کے بعد اس طرح سخت فیصلے نہیں کیے جارہے جیسے کہ حالات اور آئی ایم ایف وغیرہ تقاضا کررہے ہیں۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ نے آئی ایس پی آر کو سیاست سے مکمل دور کردیا ہے لیکن دوسری طرف حکومت کی میڈیا پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے بلکہ میڈیا پالیسی نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں ۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ دوسری طرف پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں اور بالخصوص مسلم لیگ(ن) ایک بڑے مخمصے سے دوچار ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے مقبول بیانیہ چھوڑدیا۔نواز شریف، مریم نواز حسبِ روایت چھٹی پر چلے گئے جبکہ ان کے ہمنوا پرویز رشید جیسے لوگ غائب ہوگئے۔ خواجہ آصف جیسے اسٹیبلشمنٹ کے درپردہ حامی چھا گئے۔ مقبول اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو عمران خان نے اچک لیا اور مسلم لیگ(ن) ، پیپلز پارٹی یا جے یو آئی عوام کی نظروں میں دوسری مسلم لیگ (ق) بن گئیں، یوں اس کی مقبولیت زمین پر آن گری۔ مسلم لیگ (ن) کو یہ بھی احساس ہے کہ آصف زرداری اور مولانا اس کے ساتھ گیم کھیل رہے ہیں اور اقتدار میں استحقاق سے زیادہ حصہ لینے کے باوجود حکومتی اقدامات کے دفاع اور ذمہ داری میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے۔ چنانچہ ایسا لگتا ہے کہ اب مسلم لیگ(ن) دوبارہ ماضی کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ مریم نواز کو آگے کرنے اور نواز شریف کے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے خلاف بیانات سے لگتا ہے کہ اب نون لیگ بالخصوص نواز شریف ماضی کی طرف لوٹ کر دوبارہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ وہ سردست اپنی تنقید جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید تک محدود رکھ رہے ہیں اور جنرل آصف غفور کا نام بھی نہیں لے رہے لیکن جلد وہ ان کا نام بھی لینا شروع کردیں گے۔ دوسری طرف عمران صرف جنرل باجوہ کا نام لے رہے ہیں اور باقی دو کا نہیں ۔ظاہر ہے کہ موجودہ عسکری قیادت جس طرح اپنے سابق چیف جنرل باجوہ کے خلاف عمران کی تنقید پر خوش نہیں، اسی طرح وہ نون لیگ کی تنقید پر بھی خوش نہیں ہوگی بلکہ نون لیگ کے اس عمل کو پچھلے سال کے دوران قولی اور عملی طور پر کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا جائے گا۔اس سے اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ نون لیگ کے دل میں کینہ یا پھر عسکری اداروں سے اسکور برابر کرنے کی سوچ اب بھی موجود ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی طرف سے اس بیانیے کو دوبارہ اپنانے کی وجہ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں کی طرف سے عسکری قیادت پر بھی اسی طرح دبائو آئے گا جس طرح جنرل باجوہ پر آیا تھا۔ اب اگر نون لیگ معیشت اور ریاست بچاکر سیاست کو قربان کرنے کا رویہ برقرار نہیں رکھتی تو اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں سے ماضی کی طرح وعدہ خلافی کرتی ہے اور اگر سیاست کو ترجیح بناتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں کو امتحان میں ڈالے گی ۔ دوسری طرف عمران خان ماضی کی طرح دوبارہ لاڈلا بننے کیلئے رابطے کر رہےہیں اور ہر طرح کی گارنٹیاں دینے کی کوششوں میں مگن ہیں لیکن انہوں نے ماضی قریب میں جو کچھ کیا اور کررہے ہیں، اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ مقبول ہونے کے باوجود دوبارہ انہیں کسی بھی صورت اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں کے ہاں قبولیت نہیں مل سکتی۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ پریشانی بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے رہتی ہے لیکن حسبِ عادت مسلم لیگ(ن) کو ان میں کوئی دلچسپی نہیں۔ پختونخوا کو انہوں نے جے یو آئی، بلوچستان کو مولانا اور قوم پرستوں اور سندھ کو پیپلز پارٹی کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ یوں اسٹیبلشمنٹ بھی سردست معیشت کے بارے میں پریشان، افغانستان اور پختونخوا کے بارے میں سرگردان جبکہ بلوچستان اور سندھ کے حالات کے بارے میں پریشان ہے۔ اب اگر عمران خان کے ناقابل قبول ہونے کے بعد پی ڈی ایم بھی ناقابل قبول بن جاتی ہے تو پھر اس کے پاس کیا راستہ بچے گا؟۔اسٹیبلشمنٹ کا بھی المیہ یہ ہے کہ وہ عمران اور اس کے ہمنوا میڈیا اور عدلیہ سے تو پریشان ہے لیکن ان سب کو سر چڑھانے والے اپنے بندوں کو بچانا چاہ رہی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا؟۔

Back to top button