عمران نے استعفے دینے کے بعد رونا کیوں شروع کر دیا؟

قومی اسمبلی میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی جنگ آگے بڑھانے کی بجائے استعفے دینے اور پھر دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے دونوں ہاتھ خود ہی کاٹے۔ لیکن اب جب سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے عمران خان کے ساتھیوں کے استعفے قبول کیے جارہے ہیں تو وہ بلبلا اٹھے ہیں اور اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے کی خاطر واپس قومی اسمبلی جانے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ مستعفی ہونا ہی نہیں چاہتے تھے تو پھر استعفے کیوں دیے۔ خان صاحب اپنے اسی طریقہ سیاست کی وجہ سے نہ تو نئے آرمی چیف کی تعیناتی میں کوئی کردار ادا کر سکے اور نہ ہی فوری انتخابات کا مطالبہ منوا سکے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں معروف لکھاری وجاہت مسعود ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گزشتہ 11 ماہ میں عمران خان نے مون واک سیاست کا اچھا نمونہ پیش کیا ہے لیکن وہ یہ فراموش کر گئے کہ چاند پر چہل قدمی کا نتیجہ بے وزنی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یعنی چھلکا سڑک پر تھا، اور ٹانگیں ہوا میں تھیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، پاکستان کے عوام امریکہ سے بے حد نفرت کرتے ہیں۔ اس میں دائیں بازو کے قدامت پسند طبقے اور بائیں بازو کے ترقی پسند طبقے کی تمیز نہیں۔ قدامت پسند پاکستانی امریکہ کو اخلاق باختگی اور اسلام دشمنی کا مرکز قرار دیتے ہیں۔ ہمیں شکوہ ہے کہ امریکہ نے کشمیر حاصل کرنے میں پاکستان کی مدد نہیں کی۔ دوسری طرف ترقی پسند پاکستانی امریکہ کو عالمی سامراج اور سرمایہ دارانہ استحصال نیز چھوٹی قوموں کے خلاف سازشوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ہمیں مسئلہ فلسطین پر عربوں کے مقابلے میں اسرائیل کی امریکی حمایت بھی ناپسند ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام پاکستانی شہری بلا امتیاز امریکی سفارتخانے کے باہر ویزے کی درخواست لئے یکساں ذوق و شوق سے قطار میں کھڑا ہوتے ہیں۔ بیماری کا علاج کرانا ہو یا بچوں کی تعلیم یا پھر ریٹائرمنٹ کے بعد نامعلوم ذرائع سے حاصل اثاثوں کے بل پر خوشگوار شام زندگی کا خواب ہو، امریکہ ہی کا رخ کرتا ہے۔ 60اور 80 کی دہائیوں اور پھر موجودہ صدی کے پہلے عشرے میں امریکی ڈالروں کی بارش پر اہل پاکستان پھولے نہیں سماتے تھے۔ ان تین ادوار میں بالترتیب ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف پاکستان پر مسلط تھے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ اب دنیا بدل رہی ہے۔ ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بھارت کے امریکہ سے خصوصی تعلقات ہیں۔ دوسری طرف چین اور امریکہ میں تجارت کا حجم 760 ارب ڈالر کے ہندسے کو چھو رہا ہے۔ بھارت اور چین کے بیچ پاکستان معاشی بدحالی کا ایک منطقہ بن کے رہ گیا ہے جس کے زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے نہیں بڑھتے۔ برآمدی شعبے میں پاکستان کا انحصار ٹیکسٹائل مصنوعات پر رہا ہے لیکن اب وہاں بھی پانی مر رہا ہے۔ ایسی ناقابل رشک معاشی صورتحال میں ملکی سیاست مسلسل بے یقینی کا شکار ہے۔ دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل ہو چکیں اور وفاقی حکومت آئندہ موسم گرما میں عام انتخابات کے انتظار میں ہے۔ سچ یہ ہے کہ سیاسی بحران کی بنیادی ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے عدم اعتماد کے مسلمہ پارلیمانی طریقہ کار سے انکار کر کے ملک کو مفلوج کر رکھا ہے۔
انکا کہنا یے کہ گیارہ ماہ کی سیاست میں عمران خان نے مون واک کا ایک اچھا نمونہ پیش کیا ہے۔ جھگڑا تو سادہ تھا۔ عمران نومبر 2022ء میں اپنی مرضی کا فوجی سربراہ مقرر کر کے جمہوری سیاسی قوتوں کو ملیامیٹ کرنا چاہتے تھے لیکن معاشی، سیاسی اور سفارتی سطح پر کارکردگی صفر تھی۔ عمران خان کے نقارچی حالیہ مہینوں میں دعویٰ کر رہے ہیں کہ 2022ء کی ابتدا میں عمران خان تیزی سے غیر مقبول ہو رہے تھے لیکن وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد ان کی مقبولیت بڑھ گئی ہے۔ سوال ہے کہ کیا ان اصحاب نے عمران حکومت کے آخری مہینوں میں کسی تحریر یا بیان میں عمران کی عدم مقبولیت کا اعتراف کیا تھا؟ یہ جھوٹ وہ اب اس لئے بول رہے ہیں کہ اپریل میں عدم اعتماد کو جمہوری قوتوں کی غلطی قرار دیا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں پراجیکٹ عمران کی ٹھیکریاں چوراہے میں بکھری ہوئی ہیں۔ عمران نے تحریک عدم اعتماد کا خیر مقدم کیا لیکن جب حکومت جاتی نظر آئی تو سائفر نامی کاغذ کا ایک پرزہ نکال لائے اور پھر اس نام نہاد سازش سے بھی پیچھے ہٹ گئے۔ تحریک عدم اعتماد کے عمل کو طول دینے کی پوری کوشش کی۔ قومی اسمبلی تحلیل کرنا چاہی۔ جب کوئی بس نہ چلا تو قومی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کر کے باہر چلے آئے۔ دستور کا کوئی حوالہ دیے بغیر فوری انتخابات کا مطالبہ کیا۔ 25 مئی کو عدالتی حکم کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے ریڈ زون تک جا پہنچے۔پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنا کر پنجاب پر قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ وزیر آباد حملے کو قانونی طریقہ کار کی بجائے سیاسی رنگ دینے کے لئے بے بنیاد الزام تراشی کی لیکن اپنی صوبائی حکومت سے ایف آئی آر تک درج نہ کرا سکے۔ جولائی میں پنجاب کے ضمنی انتخابات اور پھر 17 اکتوبر کو قومی اسمبلی کی چھ نشستوں پر کامیابی سے حوصلہ پا کر دو تہائی اکثریت کے دعوے کئے۔ 29 نومبر کی نشان زد تاریخ سے صرف چار روز قبل لانگ مارچ لے کر پنڈی پہنچے لیکن شرکا کی تعداد سے مایوس ہو کر صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کر کے لوٹ آئے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ سپیکر قومی اسمبلی نے گیارہ استعفے منظور کئے تو اسے تسلیم کر کے خان صاھب نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا۔ لیکن جب عین اسی طریقہ کار کے مطابق دو مرحلوں میں کل ملا کر 80 استعفے مذید قبول کئے گئے تو بلبلا اٹھے۔ اب موصوف قومی اسمبلی واپس جا کر اپنا اپوزیشن لیڈر بنوانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں قومی اسمبلی کی اہمیت کا احساس تب ہوا جب وہ اپنی دو صوبائی اسمبلیاں اور حکومتی تحلیل کر چکے تھے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ خان صاحب سڑک پر پڑے کیلے کے چھلکے سے پھسل کر منہ کے بل گرنے والے ہیں۔
