ناراض لیگی رہنماؤں کو مریم نواز سے کیا تکلیف ہے؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کو واضح طور پر اپنا سیاسی جانشین مقرر کرتے ہوئے انہیں پارٹی کا چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر بنانے کے بعد سے نواز لیگ میں موجود پرو اسٹیبلشمنٹ دھڑے کے قائدین اکھڑے اکھڑے نظر آتے ہیں اور کچھ رہنماؤں کے پارٹی چھوڑنے کی افواہیں بھی گردش میں ہیں۔ ناراض لیگی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ میاں صاحب نے اتنا بڑا فیصلہ کرتے وقت پارٹی قیادت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا حالانکہ وہ ان کی غیر موجودگی میں اکیلے جدوجہد کرتے رہے ہیں اور جیلیں بھی کاٹی ہیں۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور خواجہ آصف سمیت کئی مرکزی قائدین مریم نواز کے طاقتور اور با اختیار ہو جانے کو پسند نہیں کر رہے۔
دوسری جانب مریم نواز اس مہینے کے آخر میں وطن واپس آکر نہ صرف پارٹی کی نئی تنظیم سازی کرنے والی ہیں بلکہ ممکنہ طور پر اس کی مرکزی صدر بھی بننے والی ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم واپس آ کر پارٹی کو متحرک کریں گی اور میاں صاحب کی واپسی کا راستہ بھی ہموار کریں گی تاکہ اگلے انتخابات میں دونوں باپ بیٹی مل کر کر نون لیگ کی انتخابی مہم کی قیادت کر سکییں۔ مریم نواز کی پارٹی پر گرفت مضبوط ہونے کا سلسلہ نواز شریف کی آخری وزارت عظمی کے دور میں شروع ہوا تھا جب انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھنا شروع کیا تھا اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو گئی تھیں۔ اس کے ردعمل میں نواز شریف کے دست راست سمجھے جانے والے پارٹی کے اہم رہنما اور تب کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کھل کر مریم نواز کی قیادت کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے مریم کو کل کی بچی قرار دے دیا تھا۔ انہوں نے وزیر داخلہ ہوتے ہوئے یہ بیان دیا تھا کہ ’مریم نواز کے تند وتیز بیانات کی وجہ سے پارٹی بند گلی میں آ گئی ہے۔ ایک اور بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ مریم نواز کی قابلیت صرف یہ ہے کہ نواز شریف کی بیٹی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے مریم نواز کو اپنی لیڈر کبھی تسلیم نہیں کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ آج پارٹی سے فارغ ہو کر بیٹھے ہیں اور ان کی سیاسی حیثیت بھی ختم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی اور پھر گرفتاری کے بعد مریم نواز نے جس بہادری سے سے ڈٹ کر اپنے والد کا ساتھ دیا اس کے نتیجے میں ان کا سیاسی قد کاٹھ آج پارٹی کے دیگر رہنماؤں سے بڑا ہو چکا ہے جس کی تکلیف شاہد خاقان عباسی جیسے رہنما محسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بن جانے کے باوجود اب بھی پارٹی کے اندر مزاحمتی اور مفاہمتی دھڑے موجود ہیں۔ مفاہمتی دھڑے کے سربراہ شہباز شریف جب کہ مزاحمتی دھڑے کے قائد نواز شریف قرار دیئے جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں مسلم لیگ ن پر جب برا وقت تھا اور تقریبا تمام قیادت جیلوں میں تھی تو اس وقت بھی پارٹی کے اندر دو بیانیوں اور دوگروپوں کی بات ہوتی تھی۔ ایک طرف شہباز شریف تو دوسری طرف نواز شریف۔ عتاب کے دنوں میں نواز شریف کے حق میں کھل کر بولنے والوں میں اسحاق ڈار، جاوید لطیف اور طلال چوہدری پیش پیش تھے جب کہ شہباز شریف کے ساتھ شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف جیسے لوگ کھڑے تھے۔ یاد رہے کہ یہ تینوں لیگی رہنما ماضی میں نیب کی جیل کاٹ چکے ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ مسلم لیگ نون کے اندر دونوں دھڑوں کی جنگ میں تب تیزی آگئی تھی جب مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنایا گیا۔ جب اس جنگ میں شدت آئی تو نواز شریف نے مفتاح اسماعیل کو وزارت خزانہ سے ہٹاکر اسحاق ڈار کو پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ تب سے شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور ان کے کئی ساتھی پارٹی سے ناراض ہیں اور خفا دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم انکے زیادہ تر ساتھی خاموش ہیں کیونکہ انہیں نثار علی خان کا حشر یاد ہے۔ ایسے تمام پارٹی لیڈروں کو شہباز شریف کے ’مکتبہ فکر‘ کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔ اب مریم نواز کو پارٹی کے اندر طاقت سونپے جانے کے بعد مسلم لیگ ن میں نئی صف بندیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے2021 میں ایک بیان دیا تھا کہ مریم ن لیگ کی وزیراعظم کی امیدوار نہیں جس پر پارٹی کے اندر بھی کافی آوازیں اٹھی تھیں۔ حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں ان سے جب میزبان نے پوچھا کہ کیا مریم نواز کے واپس آنے سے پارٹی کو فائدہ ہو گا؟ تو انہوں نے اس کا براہ راست جواب دینے کی بجائے یہ کہا کہ ’نواز شریف کے آنے سے فائدہ ضرور ہو گا۔‘ اسی طرح مفتاح اسماعیل نے بھی ایک ٹی وی ٹاک شو مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ن لیگ کی نوجوانوں کی تنظیم کا سربراہ بنائے جانے کے سوال کو ہنس کر ٹال دیا۔
ان سب باتوں سے ہٹ کر مریم نواز کو جب پارٹی کا چیف آرگنائزر بنایا گیا تو پہلے سے دستیاب قیادت کی طرف سے زیادہ گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا گیا البتہ اس کہانی میں پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ دونوں طرف یکساں منظور نظر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اس وقت وزیر داخلہ بھی ہیں نواز شریف اور مریم کے بھی بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن پارٹی کے اندر مریم نواز کی قیادت کے حوالے رہنماؤں کے اصل تحفظات کیا ہیں اس پر پارٹی قیادت کھل کر بات نہیں کر رہی۔
دوسری جانب مزاحمتی دھڑے سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنما میاں لطیف کہتے ہیں کہ ’یہ پارٹی نواز شریف کی ہے اور وہی ہو گا جو وہ چاہیں گے۔ اس لیے کسی کے چاہنے یا نہ چاہنے سے فرق نہیں پڑتا۔ جب مریم صاحبہ کو سینیئر نائب صدر بنایا گیا تو پارٹی سے مشاورت کی گئی اس وقت تو کوئی نہیں بولا۔‘ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے باپ کی قید کے دوران ان کا کیس پبلک میں لڑا اور بڑے جلسے کیے اگر پارٹی کو چہرہ چاہیے تو وہ نواز شریف کے بعد مریم ہی ہیں۔ تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں ’یہ درست ہے کہ جتنی تیزی سے پارٹی میں مریم نواز نے جگہ بنائی ہے اس کی ن لیگ کے اندر کوئی مثال نہیں۔ میرا نہیں خیال کہ پارٹی کے اندر کوئی بڑی دراڑ آنے والی ہے۔ جب نواز شریف واپس آئیں گے تو اس پارٹی کے بہت سارے مسائل ویسے ہی حل ہو جائیں گے اور پارٹی یکسو ہو کر ایک ہی پالیسی پر چلے گی۔
تاہم اس دوران ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ مریم نواز وطن واپس آنے والی ہیں جس کے بعد نواز شریف بھی پاکستان کا رخ کریں گے اور جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنائیں گے تاکہ اگلے الیکشن میں عمران خان کا موثر انداز سے مقابلہ کیا جاتا ہے۔
