کیا تحریک انصاف عدلیہ کو دبانے میں کامیاب ہوگئی ہے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ھے کہ عدلیہ کو انتظامیہ اور ایجنسیوں کے دبائو سے آزاد کرانے کے’’ مقدس مشن ‘‘کے نام پر، تحریک انصاف ، عدلیہ کے لئے سب سے سنگین دبائو کی سفاک علامت بن چکی ہے۔ برس ہا برس سے اس کا کمالِ فن یہی ہے کہ وہ جب بھی عدالتی کٹہرے میں آئے، پروپیگنڈے کے زور پر عدالت ہی کو کٹہرے میں کھڑا کرلیتی اور خود مسندِ انصاف پر بیٹھ کر احکامات صادر کرنے لگتی ہے۔ آج بھی پی۔ٹی۔آئی اپنی اسی روایت اور مہارت کے مطابق کچھ یوں جنگ آزما ہے جیسے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جج صاحبان نے وکالت نامہ اسے تھما رکھا ہو۔ اپنے ایک کالم میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ 8 فروری کے انتخابات سے حیاتِ نو پانے اور 9 مئی کی حدّت بڑی حد تک کم ہوجانے کے باوجود پی۔ٹی۔آئی کو خاصا مشکل لگ رہا تھا کہ وہ اپنے بانی چیئرمین کو اڈیالہ جیل سے باہر کس طرح لائے جن کے مقدمات کے فیصلے بس چند قدم کی دوری پر تھے۔ اس کیلئے ضروری تھا کہ عدلیہ کو بے چہرہ کردینے اور قانون وانصاف کی پوشاک پر سیاہی تھوپنے کا کوئی موقع ہاتھ آ جائے۔ جانے یہ پی۔ٹی۔آئی کی آرزو کا کرشمہ تھا یا کسی ساحر کی معجزہ کاری، عین اُنہی دنوں، جب رمضان المبارک کا عشرۂِ مغفرت شروع ہوچکا تھا، آمدِ بہار کی ایک سہانی صبح، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ معزز جج صاحبان کے دِلوں میں دَرد کی ایک کسک جاگی اور اُن پر انکشاف ہوا کہ انتظامیہ اور ایک ایجنسی، مطلوب فیصلوں کے لئے دبائو ڈال رہی ہیں۔ ان جج صاحبان میں سے ہر ایک کی عمر لگ بھگ پچاس برس سے زائد تھی۔ سب نے قواعد کے مطابق کم ازکم دَس برس اعلیٰ عدالتوں میں وکالت کی تھی۔ سب برسوں سے انصاف کی مسندوں پر تشریف فرما تھے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ کسی ایک کو بھی ماضی میں اِس طرح کے دبائو سے پالا نہیں پڑا تھا۔ یہاں تک کہ شوکت عزیز صدیقی کو خاموش صحرا میں دھکیل کر، جنرل فیض حمید کی ’’دوسالہ محنت‘‘ کو عمدگی سے پایۂِ تکمیل تک پہنچانے کا اقدام بھی ان کا رضاکارانہ اور عادلانہ فیصلہ تھا۔
عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ چھ می سے ہر جج نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا اور کہا ۔’’مجھے کچھ معلوم نہیں کہ یہ دبائو کیا ہوتا ہے اور اگر پڑے تو کیا کرنا چاہیے؟ اجتماعی فیصلہ ہوا کہ اپنے بڑوں کو خط لکھ کر پوچھتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ سرحد پہ کھڑا ایک نیم خواندہ سپاہی بھی جانتا ہے کہ کوئی قدم اُس کی مقدس سرزمین پر پڑے تو کیا کرنا ہے؟ وہ مورچہ چھوڑ کر دوڑتا ہوا اپنے ’او۔سی‘ کے پاس نہیں جاتا کہ اب میں کیا کروں؟ وہ دشمن کا سینہ چھلنی کردیتا یا خود شہید ہوجاتا ہے۔ چھ جج صاحبان کے سامنے بھی دو تازہ مثالیں موجود تھیں۔ قاضی فائز عیسٰی نے عدلیہ کی آزادی کی خاطر کمال بہادری سے گروہِ دشمناں کا مقابلہ کیا اور اس کا سینہ چھلنی کردیا۔ شوکت عزیز مردانگی سے لڑتا ہوا شہید ہوگیا۔ لیکن عالی مرتبت چھ نے مخالف کو للکارنے کے بجائے بذریعہ خط رہنمائی لینا زیادہ مناسب خیال کیا۔ یہ خط، عدلیہ پر دبائو کے حوالے سے پی۔ٹی۔آئی کے بیانیے کے حق میں نہایت معتبر ’’بیان حلفی‘‘ کا درجہ اختیار کرگیا۔ شناسائی کی بات کُوبہ کُو پھیلتی چلی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے، سائفر ہی کی طرح اس محبوب کے خط سے کھیلتے ہوئے تحریکِ انصاف نے سماں باندھ دیا۔ وہ ہمیشہ مقدمات کی حقیقت یا ’میرٹ‘ کو ایک طرف رکھتے ہوئے، جلسوں، جلوسوں، دھرنوں، لانگ مارچوں، وکلاء کی موشگافیوں اور سوشل میڈیا کی کرتب کاریوں سے کام لیتی ہے۔ اسی ہُنر کے سبب وہ سپریم کورٹ کی طرف سے لایعنی اور بے معنی قرار دی گئی پٹیشن کو مقدس صحیفہ بنا کر سرِ میزانِ عدل لے آئی تھی اور سہولت کاروں کی مدد سے پانامہ سے اقامہ کشید کرلیا تھا۔ پی۔ٹی۔آئی کے اس ہُنر کی کرشمہ سامانیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ کوئی ہے اس وطن عزیز میں جسے پیشی کے لئے عدالت بلائے اور وہ ہزاروں کا جتھہ لئے، سڑک پر کھڑی گاڑی سے نہ اترے اور عدالت خود پیشی بھرنے اس کی خدمت میں حاضر ہوجائے؟ کوئی ہے جو ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہو، اس کے لئے سرشام سب سے بڑی عدالت آراستہ ہو، کہا جائے اُسے مرسڈیز گاڑی میں لائو، ’’گُڈ ٹو سی یو‘‘ کہہ کر اُس کا استقبال کیاجائے، ایک پُرتعیش بنگلہ اس کے لئے مخصوص کردیاجائے اور صدر مملکت انواع واقسام کے کھانوں کے طشت اٹھائے اُس کے ہاں حاضری دیں؟کوئی ہے جو پی۔ٹی۔وی کی گردن دبوچ کراُسے خاموش کردے لیکن قانون وانصاف کو جھرجھری تک نہ آئے؟ کوئی ہے جو اشتہاری مفرور ہوتے ہوئے کورٹ روم نمبر ایک کی صف اوّل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے، قہقہے لگائے اور کوئی جج آنکھ اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھ بھی نہ سکے؟ کوئی ہے جسے ایک لحظے میں بیسیوں ضمانتیں مل جائیں اور یہ فرمان بھی جاری ہوجائے کہ آئندہ دَس دِن میں یہ جو کچھ بھی کرے، اسے اُس مقدمے میں بھی ضمانت پر سمجھا جائے؟ کوئی ہے جرم وانصاف کی پوری تاریخ میں جو سزا یافتہ قیدی ہو اور جیل انتظامیہ کیساتھ، مساوی حیثیت میں مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرے؟ کوئی ہے جسے جیل میں لامحدود سہولتیں اور مراعات حاصل ہوں؟
عرفان صدیقی کے مطابق یہ سب کچھ کسی اصول، قاعدے یا قانون کے تحت نہیں، پی۔ٹی۔آئی کے فتنہ وفساد اور عدلیہ پر ہمہ پہلو دبائو کا نتیجہ ہے۔ چھ جج صاحبان کے خط نے پی۔ٹی۔آئی کو اپنے بانی چیئرمین کے فیصلوں کے قریب پہنچے مقدمات کے حوالے سے عدلیہ پر دبائو ڈالنے کا سنہری موقع فراہم کردیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فل کورٹ کے دو اجلاس بلائے۔ خط لکھنے والے ججوں کو ایک ایک کرکے بلایا۔ اُن کا موقف سنا۔ وزیراعظم سے مشاورت کی۔ طے پایا کہ جامع تحقیقات کا کام انتہائی نیک نام اور روشن کردارسابق چیف جسٹس، تصدق حسین جیلانی کو سونپ دیا جائے۔ جیلانی صاحب آمادہ بھی ہوگئے۔ چھ ججوں نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا لیکن پی۔ٹی۔آئی نے الزام و دشنام کی ایسی سنگ باری کی کہ وہ مردِ شریف عزتِ سادات بچا کر گوشۂِ عافیت میں جابیٹھا۔ پی۔ٹی۔آئی کے بارُدوپاشی کے فن کا یہ عالم ہے کہ آج پاکستان کا کوئی باعزت شخص اس طرح کی ذمہ داری کے لئے دستیاب نہیں ہوگا۔ اسی دبائو میں سات رکنی بینچ نے (3)184 کی کارروائی شروع کی۔ اسی دبائو کا نتیجہ ہے کہ بات ایک بار پھر فل کورٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اُدھر عدلیہ کو ہر دبائو سے آزاد رکھنے کے لئے رہنمائی کے متمنّی جج صاحبان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو کہے کہ کوئی جماعت ہمارے عشق میں ہلکان ہوکر اپنے سیاسی مقاصد کیلئے عدلیہ پر دبائو نہ ڈالے۔ سو جوں جوں عمران خان کے سنگین مقدمات، عدالتی فیصلوں کی طرف بڑھ رہے ہیں توں توں ججوں پر پی۔ٹی۔آئی کے دبائو میں اضافہ ہورہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج یہ دبائو، حکومتی یا ایجنسیوں کے دبائو سے کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ اسی دبائو کا نمونہ ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل، لاہور ہائی کورٹ میں کھڑا عمران خان کو حاصل خصوصی مراعات کی طویل فہرست پڑھ رہا ہے اور اسلام آباد کے چھ مکتوب نویسوں میں سے ایک معزز جج ، وکیل سے سوال کررہا ہے۔ ’’اگر جیل سے باہر سیاست پر بات کرنا جرم نہیں، تو جیل کے اندرکسی قیدی پر یہ پابندی کیسے لگائی جاسکتی ہے کہ وہ سیاست پر بات نہ کرے۔‘‘ ہے کوئی افلاطون جو اِس معصوم سے سوال کا جواب دے ؟

Back to top button