مفرور مسٹر پتلو پکڑا گیا، پولیس مقابلے کے خدشات

ڈسکہ میں اپنی شادی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد مفرور ہونے والے معروف ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کو اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرین سے گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کہیں اسے بھی جعلی پولیس مقابلے میں پار نہ کر دیا جائے۔ خیال رہے کہ پنڈی کے بعد اسلام آباد میں بھی اب ماورا یا عدالت پولیس مقابلوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ مسٹر پتلو نے بھی مفروری کے دوران ایک ویڈیو پیغام میں خود کو قتل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اس حوالے سے ایک انٹرویو میں معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے مسٹر پتلو کو ڈسکہ حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے انعامات کا لالچ دے کر لوگوں کو شادی کی تقریب میں جمع کیا، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچی اور دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر پتلو نے سیالکوٹ میں اپنی شادی کی تقریب کے دوران لوگوں کو موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور دیگر انعامات کا جھانسا دے کر جمع کیا۔ ان کے مطابق کسی شخص کی شادی یا مہندی کی تقریب نجی خوشی کا معاملہ ہے، اسے عوامی اجتماع اور انعامات کی تقسیم کا ذریعہ بنا کر لوگوں کو اس انداز میں بلانا مناسب نہیں تھا۔ اگر مسٹر پتلو اپنی مقبولیت کے باعث لوگوں کو مدعو کرنا چاہتے تھے تو انہیں تقریب کی نوعیت اور انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کرنا چاہیے تھا۔
جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ مسٹر پتلو نے محفلِ سماع کے انعقاد کی اجازت حاصل کی تھی، لیکن اس اجازت کو ایک بڑے عوامی اجتماع اور انعامات کی قرعہ اندازی میں تبدیل کر دیا گیا۔ انکے مطابق اجازت نامے میں پارکنگ، سی سی ٹی وی کیمروں، ریکارڈنگ اور سیکیورٹی سمیت مختلف شرائط شامل تھیں، جبکہ تقریب کے دوران لوگوں کی غیر معمولی تعداد جمع ہو گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب تقریب کا انعقاد ایک مخصوص اجازت کے تحت ہونا تھا تو اسے اس انداز میں کیوں تبدیل کیا گیا اور لوگوں کو جمع کرنے کے ممکنہ نتائج کا پہلے سے اندازہ کیوں نہیں لگایا گیا۔
معتوف صحافی کا کہنا تھا کہ مسٹر پتلو کی جانب سے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں جیسے انعامات کا اعلان لوگوں کے لیے ایک بڑی ترغیب بن گیا اور اسی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ تقریب میں پہنچے۔ انہوں نے اسے سستی شہرت حاصل کرنے کا طریقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی فنکار یا سوشل میڈیا شخصیت کو اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے ایسے حربے استعمال نہیں کرنے چاہئیں جن سے عوامی ہجوم بے قابو ہونے کا خطرہ پیدا ہو۔ ان کے مطابق پاکستان میں غربت اور ٹک ٹاک کی مقبولیت کے باعث ایسے انعامات کے اعلانات لوگوں کو بڑی تعداد میں کھینچ سکتے ہیں۔ جاوید چوہدری نے اس مؤقف سے اختلاف کیا کہ مسٹر پتلو لوگوں کو قتل کرنے یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلا رہے تھے اور بھگدڑ ایک حادثہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی عمارت میں ہزاروں لوگوں کو جمع کر دیا جائے اور عمارت گرنے سے لوگ ہلاک ہو جائیں تو اسے محض حادثہ قرار دے کر ذمہ داری سے بری نہیں ہوا جا سکتا۔ ان کے مطابق مسٹر پتلو کو اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ ایک نجی شادی کی تقریب میں غیر معمولی تعداد میں لوگوں کو بلانے اور انعامات کا لالچ دینے سے کیا صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں دو افراد اپنی جان سے گئے جو کسی کے بیٹے، بھائی اور باپ تھے اور انہیں صرف حادثے کے اعدادوشمار سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جاوید چوہدری کے مطابق انسانی زندگی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور کسی بھی تقریب کے انعقاد میں اس کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مغربی ممالک میں ہونے والے بڑے کنسرٹس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں نجی سیکیورٹی کمپنیوں، حفاظتی انتظامات اور طے شدہ ضابطوں کے تحت اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں اور مطلوبہ شرائط پوری ہونے کے بعد ہی تقریب کی اجازت دی جاتی ہے۔
جاوید چوہدری نے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ چونکہ ماضی میں جلسوں اور دیگر عوامی اجتماعات میں بھگدڑ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، اس لیے مسٹر پتلو کی تقریب میں ہونے والے واقعے کو بھی معمول کا حادثہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے واقعے کی مثال دے کر لوگوں کو اس طرح جمع کرنے کے طریقے کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر پتلو کو اپنی خوشی منانے اور شادی کی تقریب منعقد کرنے کا پورا حق تھا، لیکن انہیں اس مقصد کے لیے مناسب جگہ، سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا بندوبست کرنا چاہیے تھا۔
انٹرویو کے دوران جاوید چوہدری نے اس مؤقف سے بھی اختلاف کیا کہ حادثے کی تمام ذمہ داری انتظامیہ پر ڈال کر مسٹر پتلو کو بری الذمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی کوتاہی کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں، تاہم تقریب کے منتظم کی حیثیت سے مسٹر پتلو بھی اپنے فیصلوں اور انتظامات کے جواب دہ ہیں۔
