پیپلز پارٹی نے اگلے الیکشن کی تیاری کیوں شروع کر دی؟

 

 

 

 

پیپلز پارٹی کی قیادت نے آئندہ عام انتخابات میں فارم 47 کے ذریعے دھاندلی کا امکان ختم کرنے کے لیے انتخابی اصلاحات متعارف کروانے کی کوشش تیز کر دی ہے، اسی لیے تحریک انصاف سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی دعوت بھی دے دی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کو خدشہ ہے کہ جس طرح ماضی میں انتخابی نتائج تبدیل کرنے کے الزامات سامنے آئے، اسی طرح آئندہ انتخابات میں بھی کوئی پوشیدہ قوت فارم 47 کے ذریعے نتائج اپنے حق میں تبدیل کرکے تحریک انصاف کو اقتدار میں لاسکتی ہے۔

 

دوسری جانب حکومت نے پیپلز پارٹی کے اس فیصلے کو اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کیا ہے تاکہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھایا جا سکے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے لیے جاری کوششیں اچانک تیز کرنے سے سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آیا پارٹی کو قبل از وقت انتخابات کا کوئی امکان دکھائی دے رہا ہے، یا پھر ملک میں کسی بڑی نظامی تبدیلی کی توقع ہے۔

 

تاہم پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری نے قبل از وقت انتخابات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا مقصد شفاف انتخابات کو یقینی بنانا ہے اور موجودہ وقت انتخابی اصلاحات کے لیے سب سے موزوں ہے۔

نیر بخاری کے مطابق اتحادی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت کے تقریباً تین سال مکمل کرنے کے قریب ہے اور اگر انتخابی اصلاحات کا عمل ابھی شروع نہ کیا گیا تو حکومت کے آخری سال میں سیاسی جماعتیں انتخابی مہمات میں مصروف ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ابھی ایک میز پر بیٹھ کر اتفاق رائے سے انتخابی اصلاحات متعارف کرانی چاہئیں تاکہ آئندہ انتخابات کے نتائج کو متنازع بنانے اور دھاندلی کے الزامات لگانے کی گنجائش کم سے کم رہ جائے۔ انہوں نے پارلیمانی کمیٹیوں کو قانون سازی اور جمہوری نظام کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کی جانب سے کمیٹی میں برابر نمائندگی کے مطالبے پر سوال اٹھایا کہ جب پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی برابر نہیں تو کمیٹی میں برابری کیسے ممکن ہے؟

 

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی پر زور دے چکے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے انہیں دیے گئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کو پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت کی ہدایت کریں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب پارلیمنٹ نے پیپلز پارٹی کی تحریک پر انتخابی اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اپوزیشن لیڈر کو بھی اپنا نمائندہ نامزد کرکے اس کا نام اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوانا چاہیے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی شرکت کے بغیر انتخابی دھاندلی، دہشت گردی، معیشت اور قومی سلامتی جیسے اہم معاملات پر مشاورت بے معنی ہوگی۔

ن لیگ نئے صوبے بنانے پر مان گئی، سہیل وڑائچ کا دعوی

اسی سلسلے میں پیپلز پارٹی کے وفود قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اور انہیں حکومت کے ساتھ انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما کے مطابق پارٹی کو خدشہ ہے کہ تحریک انصاف آئندہ انتخابات میں کسی پوشیدہ قوت کی مدد سے انتخابی نتائج اپنے حق میں تبدیل کروا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نہیں چاہتی کہ مستقبل میں فارم 47 کے ذریعے ایسی انتخابی انجینئرنگ ہو جس کے نتیجے میں تحریک انصاف اقتدار میں آ جائے، تاہم بلاول بھٹو کی انتخابی اصلاحات کے لیے کوششوں کا ایک حقیقی مقصد انتخابی نظام کو شفاف، منصفانہ اور تمام جماعتوں کے لیے قابل قبول بنانا بھی ہے۔

 

یہاں بتانا ضروری ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی مدت ملازمت ختم ہوئے دو سال گزر چکے ہیں، لیکن وہ اب بھی اپنے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری تک موجودہ عہدیدار کام جاری رکھ سکتا ہے، تاہم آئین کے مطابق وزیراعظم کو نئے چیف الیکشن کمشنر کے نام پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرنا ہوتی ہے۔ تاہم یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اپوزیشن لیڈر وزیراعظم کی جانب سے مشاورت کی دعوت قبول کیوں نہیں کر رہے۔

Back to top button