مفرور ٹک ٹاکر پتلو کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے منت ترلہ

سیالکوٹ میں اپنی شادی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے دو افراد کی موت کا ذمہ دار انصر محمود عرف مسٹر پتلو تاحال پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا اور ابھی تک مفرور ہے۔ تاہم اب موصوف نے روتے دھوتے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپنی جان بخشی کی اپیل کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈسکہ میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک حادثہ تھا، اس میں اس کا کوئی قصور نہیں اور اسے اس واقعے کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں مسٹر پتلو نے کہا کہ وہ اس حادثے پر انتہائی افسردہ ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے درخواست کرتا ہے کہ اس کو اس واقعے میں ملوث نہ کیا جائے۔ پتلو کا دعویٰ ہے کہ وہ حادثے کے وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کچھ ایسا کیا تھا جس سے سٹیڈیم میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس نے مزید کہا کہ طبیعت بہتر ہونے کے بعد وہ خود پولیس کے سامنے پیش ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ سیالکوٹ پولیس نے شادی کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے دو افراد کی موت اور متعدد کے زخمی ہونے پر مسٹر پتلو سمیت نو نامزد ملزمان اور 45 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے، جبکہ اب تک چھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مقدمے میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی اجتماع سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق مسٹر پتلو سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص ریحان بھی اتوار کو لاہور کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا، جس کے بعد اموات کی تعداد دو ہو گئی۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ٹک ٹاکر اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرکے قانون کو بے اثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ مسٹر پتلو نے مزید کمائی کے لیے انعامات کی تقسیم کا ڈراما رچایا اور علاقے کے غریب عوام کی غربت کا مذاق بنایا۔ ان کے بقول دو کروڑ روپے نقد، ایک کار اور 50 موٹر سائیکلوں سمیت قیمتی انعامات کی تشہیر دراصل لوگوں کو بڑی تعداد میں جمع کرنے کے لیے کی گئی تھی، جبکہ اس ہجوم میں بھگدڑ مچنے سے دو انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے بے لگام سوشل میڈیا کو معاشرے اور ریاست کے لیے زہر قاتل قرار دیتے ہوئے ٹک ٹاکرز کی آمدن اور ٹیکس قوانین کے تحت ان کی نگرانی کا معاملہ بھی اٹھایا۔
پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق ہفتے کی شام ڈسکہ روڈ پر واقع فراز سپورٹس سٹیڈیم میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب جاری تھی، جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے دو کروڑ روپے نقد، ایک کار، 50 موٹر سائیکلوں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی انعامات تقسیم کرنے کی تشہیر کی گئی تھی۔ اس اعلان کے نتیجے میں سیالکوٹ کے علاوہ گوجرانوالہ، گجرات، وزیر آباد، منڈی بہاؤالدین اور نارووال سے بھی ہزاروں افراد تقریب میں پہنچ گئے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق مسٹر پتلو نے اسٹیج پر آکر لوگوں کو فوری طور پر گراؤنڈ میں داخل ہونے کا کہا، جس پر اچانک بھگدڑ مچ گئی اور عقیل نامی شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
واقعے کے عینی شاہدین نے بھی انتظامات اور سکیورٹی کی ناقص صورتحال کو بھگدڑ کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ زخمی ہونے والے محمد رفیق کے مطابق لوگوں میں یہ تاثر پھیل گیا تھا کہ جو شخص پہلے گراؤنڈ میں داخل ہوگا اسے انعام ملے گا، جس کے باعث گیٹ کھلتے ہی سب نے اندر جانے کی کوشش کی۔ ایک اور عینی شاہد عبدالرشید نے الزام لگایا کہ منتظمین کی جانب سے کبھی انعامات کی تقسیم مؤخر کرنے اور کبھی پروگرام منسوخ ہونے کے اعلانات کیے جا رہے تھے، جس سے لوگوں میں بے چینی اور غصہ بڑھا، جبکہ سکیورٹی گارڈز کے لاٹھی چارج نے صورتحال مزید خراب کر دی اور بھگدڑ کے نتیجے میں کئی افراد پیروں تلے روندے گئے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے مطابق مسٹر پتلو کو فراز سپورٹس سٹیڈیم میں نجی تقریب منعقد کرنے کے لیے این او سی جاری کیا گیا تھا، تاہم شرائط کی خلاف ورزی پر ایونٹ شروع ہونے سے پہلے ہی اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اجازت نامے کے تحت تقریب نماز عشا کے بعد شروع ہونا تھی، لیکن منتظمین نے شام چار بجے ہی انتظامات میں خلاف ورزیاں شروع کر دی تھیں، جس پر ڈپٹی کمشنر نے این او سی منسوخ کر دیا۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں بھی منتظمین پر حفاظتی ایس او پیز اور اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ٹک ٹاکر مسٹر پتلو شادی شدہ نکلا، بیوی سامنے آ گئی
یاد رہے کہ مسٹر پتلو کا اصل نام انصر محمود ہے اور ان کا تعلق ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے گاؤں سیدے والی سے ہے، تاہم وہ اب سیالکوٹ کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائش پذیر ہیں۔ ٹک ٹاک پر لائیو نشریات اور لوگوں سے براہ راست گفتگو کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے مسٹر پتلو کے لاکھوں فالوورز ہیں اور اسے پاکستان کے معروف اور زیادہ آمدن والے ٹک ٹاکرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے انٹرویوز میں مزدوری کرنے اور رکشا چلانے سمیت اپنی ابتدائی زندگی کی مشکلات کا ذکر بھی کر چکا ہے تاہم شادی کی تقریب میں انعامات کی تقسیم کے اعلان کے نتیجے میں پیش آنے والے سانحے نے اب اسے پولیس مقدمے اور گرفتاری کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
