ن لیگ نئے صوبے بنانے پر مان گئی، سہیل وڑائچ کا دعوی

 

 

 

معروف صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ اتحادی حکومت کی سب سے بڑی سیاسی سٹیک ہولڈر مسلم لیگ (ن) نے تحفظات کے باوجود فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نئے صوبے بنانے کے فیصلے سے اتفاق کر لیا ہے، تاہم واحد شرط یہ رکھی گئی ہے کہ نئے صوبے 2029ء کے عام انتخابات کے بعد تشکیل دیے جائیں۔

 

انکے مطابق اس ڈیڈ لائن کا مقصد یہ ہے کہ اگلے ڈھائی برسوں میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنے ترقیاتی منصوبے مکمل کرتے ہوئے صوبے میں مسلم لیگ (ن) کے لیے ایسی سیاسی بنیاد اور گڈول قائم کر لیں کہ نئے صوبے بننے کے باوجود 2029 کے الیکشن میں پنجاب میں دوبارہ نون لیگ کی حکومت بن سکے۔

 

سہیل وڑائچ نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ بلاول بھٹو نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو فل سٹاپ لگ گیا ہے، جس پر ایک کارٹونسٹ نے بلاول بھٹو کو نئے صوبوں کی قبر پر کھڑے ہوئے دکھایا ہے۔ عمومی طور پر ان کے بیان سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ نئے صوبوں کی تجویز کا باب بند ہوگیا ہے، تاہم بلاول بھٹو شاید فل سٹاپ پہچاننے میں غلطی کر بیٹھے ہیں، کیونکہ یہ دراصل کاما ہے جسے وہ فل سٹاپ سمجھ رہے ہیں۔ نئے صوبوں کا معاملہ وقتی طور پر مؤخر ہوا ہے، مگر پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے لیے مارچ 2027ء سے پہلے اس حوالے سے قانون سازی کی ڈیڈ لائن برقرار ہے اور نئے صوبے بنانے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق پنجاب میں نئے صوبوں کی حتمی تعداد کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تاہم صوبے کو چار انتظامی و سیاسی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی تجویز عسکری حلقوں میں زیادہ مقبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں نئے صوبے بنانے پر کوئی اعتراض نہیں، بلکہ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف پہلے ہی جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کی الگ الگ صوبائی تنظیمیں تشکیل دے کر نئے صوبوں کے تصور کو عملاً تسلیم کرچکی ہیں۔ تاہم سندھ کی تقسیم کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے شدید تحفظات برقرار ہیں اور بلاول بھٹو بھی ان کا برملا اظہار کرتے ہوئے اس منصوبے کے ختم ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی کے بعض رہنما فوجی اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست تصادم کے بجائے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کے خواہاں ہیں۔ سینیئر صحافی کے مطابق اس درمیانی راستے کے تحت اسلام آباد، گوادر اور کراچی کو وفاقی علاقے قرار دینے کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ بھارتی شہر چندی گڑھ کی طرز پر کراچی میں سندھ کا دارالحکومت بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

 

یاد رہے کہ بھارتی پنجاب کی تقسیم کے بعد چندی گڑھ کو دو صوبوں کا مشترکہ دارالحکومت بنایا گیا تھا اور اسے وفاقی علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح دیہی سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے، تاہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ دونوں صوبوں میں پسماندہ علاقوں کے ساتھ ترقی یافتہ شہری علاقے بھی شامل ہوں۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق بلوچستان میں بھی نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے اور پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اس تجویز سے اتفاق کرچکے ہیں۔ بلوچستان کی ممکنہ تقسیم میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ ہر صوبائی یونٹ میں بلوچ اور پشتون آبادی کا مناسب امتزاج موجود ہو۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی موجودگی میں نئے صوبوں کے قیام کے خلاف کسی بڑی مزاحمت کا امکان دکھائی نہیں دیتا، تاہم صوبے کی دوسری بڑی انتخابی قوت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن فی الحال نئے صوبے بنانے کے لیے موجودہ وقت کو موزوں نہیں سمجھتے۔

 

سینیئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام کی دوسری بڑی سٹیک ہولڈر پیپلز پارٹی اس وقت شدید تذبذب کا شکار ہے، کیونکہ اگر وہ سندھ کی تقسیم پر رضامند ہوتی ہے تو اس کی صوبے میں سیاسی حیثیت اور مستقبل داؤ پر لگ سکتا ہے، جبکہ نئے صوبوں کی مخالفت جاری رکھنے کی صورت میں اسے طویل عرصے تک اقتدار سے باہر رہنے کے ساتھ ماضی کی طرح سخت احتساب کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے لیے اس معاملے پر کوئی واضح فیصلہ کرنا آسان نہیں رہا۔

گورنر راج، وزیر اعظم نے نون لیگی صوبائی قیادت کو جھنڈی کیسے دکھائی؟

سہیل وڑائچ کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر تحریک انصاف کا روایتی مؤقف اس منصوبے کی حمایت رہا ہے، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے قانون سازی کے لیے ووٹ نہ دیا یا تو کیا تحریک انصاف نئے صوبوں کے قیام میں تعاون کرکے عمران خان کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے کچھ سیاسی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے؟ ان کے مطابق تحریک انصاف کے ممکنہ کردار اور اس معاملے پر اس کے فیصلے کی بھی خاص اہمیت ہو گی۔ انکا کہنا ہے کہ رواں سال کے باقی دو ماہ اور اگلے سال کے ابتدائی تین ماہ نئے صوبوں کے منصوبے پر سیاسی جماعتوں کے ردعمل کے حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے۔ ان پانچ ماہ کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے رویے اور فیصلے مستقبل کی سیاست، 2029ء کے انتخابات، ممکنہ قومی یا نگران حکومت اور آئندہ حکمرانوں کے تعین پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

Back to top button