مولانا کا سی ڈی اے پر خود کو ہراساں کرنے کا الزام

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی پر خود کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر تجاوزات کے خاتمے کا نوٹس سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایا ہے کہ ان کی جانب سے قومی اسمبلی میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے محض دو روز بعد انہیں تجاوزات کے نام پر سی ڈی اے کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا، جبکہ اسی گلی میں دیگر گھروں پر بھی اسی نوعیت کی تعمیرات اور سکیورٹی کیبن موجود ہیں، تاہم اسکے باوجود صرف ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ انہیں دباؤ میں لایا جا سکے۔
اس معاملے نے تب سیاسی رخ اختیار کر لیا جب مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس اہلکار بھی پہنچ گئے۔ جے یو آئی (ف) نے پولیس کی اس کارروائی کو بھی ہراساں کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو مولانا کی رہائش گاہ کے باہر دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ان کے بیٹے مولانا اسجد محمود نے کہا ہے کہ رات گئے پولیس اہلکاروں کا گھر پہنچنا قابل اعتراض اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے اس واقعے کو غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ایس پی سٹی خرم اشرف کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر انصار الاسلام کے کارکن بعض افراد کو روک کر ان کی تلاشی لے رہے ہیں۔ پولیس نے اسی اطلاع کی تصدیق کے لیے ٹیم کو متعلقہ گلی میں بھیجا تھا، تاہم وہاں ایسی کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر کسی نے حالات خراب کرنے اور پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی۔
پولیس اہلکاروں کی آمد کے بعد سی ڈی اے کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر تجاوزات کے خاتمے کا نوٹس بھی جاری کر دیا گیا۔ سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں گھر کے باہر لان میں غیر قانونی تعمیرات، سی ڈی اے کی اراضی پر گارڈ پوسٹس کی تعمیر اور جنریٹر کی تنصیب کو بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ نوٹس میں ہدایت کی گئی ہے کہ ان خلاف ورزیوں کو 15 روز کے اندر ختم کیا جائے، بصورت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
سی ڈی اے نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں جہاں بھی بلڈنگ قوانین یا منظور شدہ نقشوں کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے، وہاں بلاامتیاز نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق کارروائی کسی سیاسی شخصیت کو سامنے رکھ کر نہیں کی جاتی بلکہ شہر کے شہری اور مضافاتی علاقوں میں بھی ایسی خلاف ورزیوں پر متعلقہ افراد کو نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ نوٹس پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں عمارت کو سیل کرنے اور غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
تاہم جے یو آئی (ف) کے ترجمان محمد اسلم غوری نے سی ڈی اے کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر نوٹس اس وقت چسپاں کیا گیا جب انہوں نے پارلیمنٹ میں حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کے مطابق سیکٹر جی سکس فور کی اسی گلی میں دوسرے گھروں کے باہر بھی سکیورٹی گارڈز کے کیبن اور جنریٹر نصب ہیں، لیکن کسی دوسرے گھر کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک اسلام آباد بھر میں موجود تمام تجاوزات کے خلاف یکساں کارروائی نہیں ہوتی، مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر موجود تعمیرات نہیں ہٹائی جائیں گی۔
اسلم غوری نے اس معاملے کو وسیع تر سیاسی تناظر میں بھی پیش کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو اس بات پر تشویش ہے کہ جمعیت علمائے اسلام پنجاب میں بھی اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط کر رہی ہے۔ انہوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر دعویٰ کیا کہ ایک مخصوص پالیسی کے تحت پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی کردار کو مخصوص انداز میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ مدارس کے انتظامی معاملات سے جے یو آئی (ف) کا کوئی تعلق نہیں اور ان کی نگرانی وفاق المدارس اور متعلقہ تنظیمیں خود کرتی ہیں۔
یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان اور حکومت کے درمیان حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ قومی اسمبلی میں ہونے والی سخت سیاسی تنقید ہے۔ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کے اجلاس میں مولانا نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خارجہ کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ متعلقہ وزرا ایوان میں موجود ہیں، جبکہ وزیر داخلہ ایران میں بیٹھ کر دفاعی معاہدے کر رہے ہیں۔ انہوں نے خواجہ آصف کا ایک معروف جملہ دہراتے ہوئے کہا تھا کہ ’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔‘ مولانا نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت گورنر راج کے لیے صدر مملکت کا اس بات پر مطمئن ہونا ضروری ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور صوبائی حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق کام نہیں کر رہی۔
محمود خان اچکزئی کے خلاف PTI میں آوازیں کیوں اٹھنے لگیں؟
مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا تھا کہ خیبر پختون خوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق دستاویز میں صدر مملکت کے اطمینان کا واضح ذکر موجود نہیں، اس لیے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ان کی تقریر کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے جے یو آئی (ف) کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریاست کی جانب سے انہیں مزید اکاموڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جے یو آئی کی قیادت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اپنا حصہ مانگ رہی تھی۔ یوں پارلیمنٹ میں شروع ہونے والی لفظی کشیدگی اب مولانا کی رہائش گاہ پر پولیس کی آمد اور سی ڈی اے کے نوٹس کے معاملے تک پہنچ گئی ہے، جسے جے یو آئی (ف) حکومت کی تنقید کے جواب میں دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دے رہی ہے، جبکہ متعلقہ سرکاری ادارے اسے معمول کی انتظامی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔
