مڈ ٹرم الیکشن میں ٹرمپ کو ممکنہ شکست کا سامنا

امریکی مڈ ٹرم الیکشن میں حکمران ری پبلکن پارٹی کو ممکنہ شکست کا سامنا ہے جس کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے باقی ماندہ صدارتی مدت عزت کے ساتھ پوری کرنا کافی مشکل ہو جائے گا۔ اکثریت کھونے کی صورت میں ٹرمپ کے لیے قانون سازی پر عمل درآمد کروانا ممکن نہیں ریے گا اور وہ ایک ایسے صدر بن کے رہ جائیں گے جس کے پاس صدارتی ویٹو کا اختیار تو ہو گا لیکن کانگریس سے اپنے من پسند قوانین منظور کرانے کی طاقت نہیں ہو گی۔
بین الاقوامی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق ان کا ایران سے جنگ کا فیصلہ سیاسی طور پر ایک مہنگا سودا ثابت ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس غیر ضروری پنگے کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی بے یقینی نے صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ موجودہ مڈ ٹرم الیکشن میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں پر ہونے والے مقابلے کو ٹرمپ کی صدارت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں برتری حاصل ہے، تاہم ڈیموکریٹس اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر کے ٹرمپ کے لیے قانون سازی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان محاذ آرائی میں شدت آنے کا امکان ہے۔
مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی مشکلات میں اضافے کی بڑی وجہ ایران کے خلاف جنگ ہے، جو اب ان کے گلے پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ مؤقف لینا بھی مشکل ہو رہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی امریکی عوام کے مفاد میں تھی، کیونکہ رائے عامہ کے مختلف جائزوں میں بڑی تعداد نے اس جنگ کو غیر ضروری اور امریکی مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کا ایک اہم سبب عام امریکی شہریوں کی معاشی مشکلات بھی ہیں۔ اشیائے خورونوش، رہائش اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، جبکہ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ تجارتی محصولات اور ایران جنگ کے معاشی اثرات نے بھی ان کے خلاف ناراضی میں اضافہ کیا ہے۔ حالیہ عوامی جائزوں میں ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے اور ڈیموکریٹس کو کانگریس کے انتخابات میں برتری حاصل ہونے کے امکانات بھی بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر سکتے ہیں۔ مختلف حکومتی فیصلوں، پالیسیوں اور انتظامی اقدامات پر کانگریس کی کمیٹیاں سماعتیں کر سکتی ہیں، حکام کو طلب کیا جا سکتا ہے اور سرکاری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس طرح ٹرمپ کو اپنی باقی ماندہ مدت میں قانون سازی سے زیادہ وقت سیاسی دفاع اور کانگریس کے ساتھ محاذ آرائی میں صرف کرنا پڑ سکتا ہے۔
موجودہ مڈ ٹرم الیکشن میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت ملنے کی صورت میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا امکان بھی ہے، تاہم وسط مدتی انتخابات میں شکست کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ صدر کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ مواخذے کی منظوری ایوانِ نمائندگان دیتا ہے، لیکن صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں بھی مطلوبہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے سیاسی دباؤ اور مواخذے کی کارروائی کے باوجود ٹرمپ اپنی صدارتی مدت جاری رکھ سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ڈیموکریٹس سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ٹرمپ کے لیے اعلیٰ سرکاری عہدوں، سفیروں اور وفاقی ججوں کی تقرریاں منظور کرانا بھی مشکل ہو جائے گا۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس ان نامزدگیوں کو روکنے یا ان کی منظوری میں تاخیر کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے، جس سے انتظامیہ کے لیے حکومتی معاملات چلانا مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے مابین مسلسل سیاسی کشمکش پیدا ہو سکتی ہے۔
تاہم ایسی صورت حال میں ٹرمپ کے پاس صدارتی ویٹو کا اختیار بدستور موجود رہے گا جسکے ذریعے وہ کانگریس سے منظور ہونے والے قوانین کو مسترد کر سکتے ہیں۔ تاہم کانگریس میں دو تہائی اکثریت حاصل ہونے پر قانون ساز صدر کے ویٹو کو بھی مسترد کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں مضبوط پوزیشن حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ کی قانون سازی کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے اور وہ عملاً ’’مسٹر ویٹو‘‘ بن کر رہ جائیں گے، یعنی ان کے پاس قوانین روکنے کا اختیار تو ہو گا لیکن اپنی مرضی کے قوانین منظور کرانے کی طاقت کم ہو جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وسط مدتی انتخابات میں شکست ٹرمپ کے لیے صرف فوری سیاسی دھچکا نہیں ہو گی بلکہ اس کے اثرات 2028 کے صدارتی انتخابات تک بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کے اندر ان کی قیادت اور سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کو آئندہ صدارتی انتخاب کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع ملے گا۔ ایران جنگ، معاشی مشکلات اور گرتی ہوئی مقبولیت پہلے ہی ٹرمپ کے لیے چیلنج بن چکی ہیں اور اگر کانگریس میں بھی ان کی جماعت اکثریت کھو دیتی ہے تو ان کی باقی ماندہ صدارت کا بیشتر حصہ سیاسی مزاحمت اور اختیارات کی کشمکش میں گزر سکتا ہے۔
