کپتان کے ساتھیوں نے پنجاب میں سیاسی بحران سنگین کر دیا

ایوان صدر اور گورنر ہائوس لاہور میں براجمان سابق وزیراعظم عمران خان کی بچی کھچی ٹیم کئی روز سے نئے حکومتی اتحاد کو تگنی کا ناچ نچانے میں مصروف ہے جسکے باعث پنجاب میں سیاسی بحران شدید تر ہو گیا ہے اور اب یہ تاثر دیا جارہا ہے جیسے صوبے میں ایک نہیں بلکہ دو وزیراعلیٰ موجود ہیں۔

کپتان کے یوتھیے ساتھی گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے نئے وزیرِ اعلیٰ حمزہ شہباز کو حلف دینے سے انکار کیا تو وزیر اعظم نے انہیں برخاست کرنے کے لیے صدر علوی کو خط لکھ دیا، لیکن صدر نے گورنر پنجاب کو اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی جس کے بعد اب حمزہ شہباز نے لاہور ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان حالات میں صوبہ پنجاب عملی طور پر یکم اپریل سے وزیر اعلیٰ کے بغیر ہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے استعفیٰ کے بعد تحریک انصاف کی صوبے میں حکومت ختم ہو چکی ہے جبکہ کئی طرح کے پاپڑ بیلنے کے بعد ن لیگ کے حمزہ شہباز صوبے کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب ہو چکے ہیں۔ ایک طرف نو منتخب وزیراعلیٰ کو منصب کے اعتبار سے سکیورٹی اور پروٹوکول مہیا تو کر دیا گیا لیکن دوسری طرف حلف نہ اٹھا سکنے کے باعث وزیراعلیٰ کے دفتر میں ابھی تک عثمان بزدار ہی براجمان ہیں۔

آئینی طور پر نئے وزیر اعلیٰ کے حلف لینے کے بعد ہی سابق وزیراعلیٰ دفتر کا چارج ان کے حوالے کرنے کے پابند ہیں۔ اس غیر یقینی صورت حال میں تب اور بھی اضافہ ہو گیا جب گورنر پنجاب عمر چیمہ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو خط لکھ ایک قانونی رائے مانگی ہے کہ عثمان بزدار کا استعفیٰ وزیراعظم کے نام تھا گورنر کے نام نہیں اور وہ سابق گورنر نے منظور کر لیا کیا وہ اس غیر قانونی عمل کو واپس کر سکتے ہیں؟ اسی طرح انہوں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ سیکریٹری اسمبلی کی رپورٹ کے مطابق نئے وزیر اعلیٰ کا چناؤ قانون کے منافی ہوا ہے کیا وہ اسے بھی رد کر سکتے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے ابھی تک ان قانونی نکات پر جواب تو نہیں دیا ہے البتہ اس غیر معمولی تاخیر پر مسلم لیگ ن نے ایک دفعہ پھر عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ ’ہم کوئی نئی درخواست دائر نہیں کر رہے بلکہ پہلے سے موجود کیس میں ایک ضمنی درخواست دائر کر رہے ہیں۔ہمارا ماننا یہ ہے کہ گورنر اور سپیکر صوبائی اسمبلی کے اقدامات اور حلف نہ لینے کا رویہ غیر آئینی ہے اور ہائی کورٹ کے پہلے سے موجود حکم جس پر یہ انتخاب ہوا ہے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ یہ اصل میں توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

لہذا ہم عدالت سے رجوع کر رہے ہیں‘۔ اس ساری صورت حال میں انتظامی مشینری منقسم ہے اور اب تک واضح نہیں کہ اس وقت صوبہ کون چلا رہا ہے اور اس سوال کا جواب بھی کسی کے پاس نہیں کہ کیا اس وقت پنجاب میں دو وزرائے اعلیٰ کام کر رہے ہیں؟

آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ایسی صورت حال کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ اب عدالت ہی اس پر کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔ حال ہی میں مرکز میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب ن لیگ کے رہنما شہباز شریف کے وزیرِاعظم منتخب ہونے پر صدرِ پاکستان عارف علوی کو ان سے حلف لینا تھا۔ تاہم صدر علالت کی وجہ سے چھٹی پر چلے گئے۔ ان کی غیر موجودگی میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے نئے وزیرِاعظم سے حلف لیا۔ نئی وفاقی کابینہ سے صدر مملکت کے بجائے سینیٹ کے چیئرمین نےحلف لیا ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب میں بھی ایسا نہیں ہو سکتا۔

یعنی اگر گورنر پنجاب حلف نہ لینا چاہیں تو کیا کوئی دوسری شخصیت نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سے حلف لے سکتی ہے؟ اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو اس مسئلے کا حل کیسے ممکن ہو گا؟
قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق نئے وزیرِ اعلیٰ سے عہدے کا حلف لینے کے حوالے سے پاکستان کے آئین کے مطابق دو ہی صورتیں ہیں اور دونوں گورنر کے اختیار میں ہیں۔ قانونی ماہر اور وکیل سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ‘قانون میں یہی لکھا ہے کہ گورنر ہی کو نئے منتخب ہونے والے وزیرِ اعلیٰ سے عہدے کا حلف لینا ہوتا ہے۔

‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی وجہ سے گورنر ایسا کرنے کے قابل نہ ہوں یعنی اگر وہ علیل ہوں یا چھٹی پر ہوں تو اس صورت میں بھی گورنر کا اختیار ہے کہ وہ کسی دوسرے عہدیدار کو نامزد کریں جو نئے وزیرِ اعلیٰ سے حلف لے۔

پاکستان میں پارلیمانی ترقی کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بتایا کہ گورنر کی غیر موجودگی میں اسمبلی کے سپیکر ان کی جگہ پر ان کی طرف سے نامزد کیے جانے پر نئے وزیرِاعلیٰ سے حلف لے سکتے ہیں۔ تاہم پنجاب میں موجودہ صورتحال میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی خود ہی وزیرِ اعلیٰ کے امیدوار تھے۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اس صورت میں گورنر ڈپٹی سپیکر کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ حلف برداری کی تقریب کروائیں۔

لیکن اگر ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ نہ تو گورنر خود حلف لیتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کو اپنی جگہ حلف لینے کے لیے نامزد کرتے ہیں تو پھر واحد راستہ عدالت کے پاس جانے کا بچتا ہے۔ آئین میں اس حوالے سے کوئی واضح ہدایات موجود نہیں ہیں۔‘

احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اگر معاملہ عدالت کے پاس جاتا ہے تو عدالت کو آئین کی تشریح کرتے ہوئے اس پر فیصلہ دینا ہو گا۔ اگر گورنر خود حلف نہیں لیتے اور کسی دوسرے کو نامزد بھی نہیں کرتے تو اس صورت میں نئے منتخب ہونے والے وزیرِاعلیٰ سے حلف کون لے گا، اس حوالے سے وکیل سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ آئین کے اندر کوئی واضح ہدایات موجود نہیں ہیں اور اس لیے معاملہ عدالت کے پاس جائے گا۔

‘ایسی صورت میں عدالت آئین کو دیکھتے ہوئے تشریح کرے گی اور فیصلہ دے گی کہ حلف لینے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت اس پر حکم بھی دے سکتی ہے کہ کون ذمہ دار شخص حلف لینے کا پابند ہے۔‘

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عدالت گورنر پنجاب کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ نئے منتخب ہونے والے وزیرِ اعلیٰ سے عہدے کا حلف لیں۔ یا پھر ایسا کرنے کے لیے کسی دوسرے کو نامزد کریں۔ ‘یہ عدالت کی صوابدید ہو گی کہ وہ کیا حکم دیتی ہے۔’

سلمان اکرم راجا کے مطابق اگر گورنر اس کے باوجود بھی وزیرِ اعلیٰ سے عہدے کا حلف نہیں لیتے ‘تو وہ توہینِ عدالت کے مرتکب ہوں گے اور وہ یہ الزام ثابت ہونے پر عہدے سے فارغ بھی ہو سکتے ہیں۔’

وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے بعد گورنر پنجاب کے حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئیں کہ اسمبلی کے سیکریٹری کی طرف سے موصول ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد انھوں نے انتخابی عمل کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ آئینی طور پر گورنر کے پاس وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے عمل کے حوالے سے اعتراض اٹھانے کے اختیارات نہیں ہیں۔ ‘وہ صرف اس عہدیدار کے بھیجے گئے نتائج کو آگے بڑھائیں گے جس نے انتخابی عمل کروایا ہو۔’

حلف برداری تقریب پر دائر حمزہ شہباز کی درخواست نامکمل قرار

یاد رہے کہ اس صورتحال میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قائم مقام سپیکر کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کروایا۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق گورنر کے پاس اس قسم کے کوئی اختیارات نہیں کہ وہ انتخابی عمل پر اعتراض اٹھائیں یا اس پر کوئی اقدامات کریں۔ ’انھیں صرف کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے نئے وزیرِاعلیٰ سے عہدے کا حلف لینا ہوتا ہے۔‘

captain teammates exacerbated political crisis in Punjab video

Related Articles

Back to top button