امریکہ اور برطانیہ دہشت گرد تنظیم BLA کا ساتھ کیوں دینے لگے؟

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ لڑنے کے دعویدار امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے ایک ایسے وقت میں پاکستان اور چین کی مشترکہ کوشش کو تعطل کا شکار بنا دیا ہے جب بلوچستان میں خونریز حملوں، خودکش دھماکوں اور چینی مفادات پر حملوں میں ملوث بلوچ لبریشن آرمی اور اس کے خودکش ونگ مجید بریگیڈ کو اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق 1267 کمیٹی میں پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم سفارتی حلقوں کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس تجویز پر "ٹیکنیکل ہولڈ” لگا کر اس عمل کو فوری طور پر آگے بڑھنے سے روک دیا، جس کے بعد یہ معاملہ کم از کم چھ ماہ تک زیرِ غور رہ سکتا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان میں اس لیے بھی شدید بحث کا باعث بن گئی ہے کیونکہ بی ایل اے گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان میں سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، عوامی مقامات اور چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان حملوں میں ہزاروں شہری اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ اربوں روپے کے معاشی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بی ایل اے اور اس کے خودکش یونٹ مجید بریگیڈ کو اقوام متحدہ کی فہرست 1267 میں شامل کر لیا جاتا تو دنیا بھر میں اس تنظیم کے اثاثے منجمد ہو سکتے تھے، اس کے ارکان پر سفری پابندیاں لگ جاتیں اور اسلحے یا مالی معاونت کے تمام ممکنہ ذرائع محدود ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین اس نامزدگی کو دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے تھے۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی 1267 پابندیوں کی فہرست دنیا میں القاعدہ، داعش اور ان سے وابستہ افراد و تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے سب سے مؤثر عالمی نظام تصور کی جاتی ہے۔ اس فہرست میں شامل ہونے والی تنظیموں کے خلاف تمام رکن ممالک کو لازمی اقدامات کرنا پڑتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر ان کی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بی ایل اے نہ صرف ایک دہشت گرد تنظیم ہے بلکہ اس کے روابط کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بھی موجود ہیں۔ اسلام آباد کا استدلال ہے کہ چونکہ ٹی ٹی پی کے القاعدہ سے تعلقات عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، اس لیے بی ایل اے کو بھی اسی قانونی فریم ورک کے تحت عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے۔

پاکستانی حکام اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں بی ایل اے نے خاص طور پر چین پاکستان سی پیک پراجیکٹ سے متعلق منصوبوں، چینی انجینئرز اور سرمایہ کاری کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کا مقصد نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانا بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون کو بھی متاثر کرنا ہے۔ دوسری جانب امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا مؤقف یہ بتایا جا رہا ہے کہ بی ایل اے اور القاعدہ کے درمیان ایسے شواہد ابھی تک ان کے نزدیک کافی نہیں جو اسے اقوام متحدہ کی 1267 فہرست کے تحت نامزد کرنے کے لیے ضروری سمجھے جائیں۔ ان ممالک نے تنظیم کے دہشت گرد ہونے پر براہِ راست اختلاف نہیں کیا بلکہ قانونی بنیادوں اور طریقۂ کار پر مزید وضاحت طلب کی ہے۔

پاکستان کے سابق مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ منیر اکرم کے مطابق اصل تنازع اس بات پر نہیں کہ بی ایل اے دہشت گرد تنظیم ہے یا نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ اسے اقوام متحدہ کے کس قانونی میکانزم کے تحت فہرست میں شامل کیا جائے۔ تاہم ان کے مطابق ایسے معاملات میں عالمی سیاست اور بڑی طاقتوں کے مفادات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ممالک نے اقوام متحدہ میں اس تجویز پر ٹیکنیکل ہولڈ لگایا، انہی میں سے بعض خود ماضی میں بی ایل اے کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں۔ برطانیہ نے 2006 میں بی ایل اے کو کالعدم قرار دیا تھا جبکہ امریکہ نے 2019 میں اسے اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔ بعد ازاں اگست 2025 میں مجید بریگیڈ کو بھی امریکی حکام نے دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔

اسی طرح آسٹریلیا نے بھی حالیہ عرصے میں بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستانی حلقوں کا سوال ہے کہ اگر متعدد مغربی ممالک خود اس تنظیم کو دہشت گرد تسلیم کرتے ہیں تو پھر اقوام متحدہ کی سطح پر اس کی نامزدگی میں رکاوٹ کیوں پیدا کی جا رہی ہے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت نے دہشت گردی کے خلاف عالمی نظام کے اندر موجود تضادات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر اصولی مؤقف اختیار کرنے کے بجائے بعض اوقات بین الاقوامی فیصلے سیاسی اور جغرافیائی مفادات کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس فیصلے سے اسلام آباد کو مایوسی ہوئی ہے، تاہم بی ایل اے کی عالمی سطح پر نامزدگی کے لیے سفارتی کوششیں ترک نہیں کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور چین آئندہ مہینوں میں مزید شواہد اور دستاویزات فراہم کر کے رکن ممالک کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ سلامتی کونسل کے قواعد کے مطابق ٹیکنیکل ہولڈ کسی تجویز کو مستقل طور پر مسترد نہیں کرتا بلکہ مزید مشاورت اور شواہد کے جائزے کے لیے وقت فراہم کرتا ہے۔ اس لیے امکان موجود ہے کہ مستقبل میں یہ معاملہ دوبارہ زیرِ غور آئے اور کسی نئی پیش رفت کا راستہ ہموار ہو۔ فی الحال بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی عالمی سطح پر نامزدگی کا معاملہ تعطل کا شکار ہے، تاہم اس تنازع نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ واقعی یکساں اصولوں کے تحت لڑی جا رہی ہے یا پھر بعض معاملات میں عالمی طاقتوں کے سیاسی اور تزویراتی مفادات فیصلوں کی سمت متعین کرتے ہیں۔ پاکستان اور چین کی نظریں اب آنے والے مہینوں پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ بلوچستان میں خونریزی سے منسلک اس تنظیم کے خلاف عالمی برادری کوئی متفقہ اور مؤثر اقدام کرتی ہے یا نہیں۔

Back to top button