بغاوت کیس، گرفتاریاں اور انعامات: آزاد کشمیر میں کشیدگی بڑھ گئی

آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں حکومت نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ حکومتی اقدامات کے بعد خطے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، تاہم مختلف شہروں میں معمولاتِ زندگی بڑی حد تک روٹین کے مطابق جاری رہے۔

خیال رہے مظفرآباد میں محکمہ داخلہ کی شکایت پر شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 124 اے (بغاوت) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان پر تقاریر اور تحریروں کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کا الزام ہے۔ ایف آئی آر میں ایک ہزار سے زائد نامعلوم افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس نے کیس کی وسعت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے چار مطلوب رہنماؤں،شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے ایک ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اطلاع دینے والے کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی، جبکہ آئی جی پولیس کو اس حوالے سے خصوصی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر کے مختلف شہروں مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ، باغ اور کوٹلی میں صورتحال مجموعی طور پر پرامن رہی۔ حکام کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کو عوام نے بڑی حد تک مسترد کر دیا، اور بازار، تعلیمی ادارے، دفاتر اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق کھلے رہے۔ شہریوں نے مختلف علاقوں میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی لاک ڈاؤن سے عام لوگوں، خصوصاً دیہاڑی دار طبقے کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق مسائل کا حل صرف مذاکرات اور پرامن سیاسی طریقوں سے ہی ممکن ہے۔ کئی شہریوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کو بھی خطے کے امن و امان کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

دوسری طرف صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب مظفرآباد میں سیکیورٹی اداروں نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات برآمد ہوئے، جن کے فرانزک تجزیے میں مشکوک روابط اور حساس نوعیت کا مواد سامنے آیا ہے۔ مزید برآں ایک ملزم کی نشاندہی پر اسلحے کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا، جس میں خودکار ہتھیار، دستی بم اور دیگر جنگی سامان شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حساس تنصیبات سے متعلق نقشے اور دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں، جبکہ بعض غیر ملکی خفیہ رابطوں کے شواہد کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق 6 جون کو سامنے آنے والی مبینہ آڈیو لیک اور راولاکوٹ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے درمیان ممکنہ تعلقات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ادارے اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا یہ واقعات کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ ہیں یا نہیں۔

اسی دوران بعض رہنماؤں کی جانب سے کالعدم ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کے اعلانات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں سید فیصل گیلانی سمیت دیگر افراد شامل ہیں، جنہوں نے کہا ہے کہ وہ پرتشدد واقعات اور موجودہ صورتحال سے خود کو الگ کرتے ہیں۔مزید برآں مبینہ طور پر افغانستان میں موجود ایک خارجی کمانڈر کی ویڈیو اور آڈیو گفتگو کے حوالے سے بھی دعوے کیے گئے ہیں، جن میں آزاد کشمیر کی صورتحال سے متعلق گفتگو اور مبینہ روابط کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ان معلومات کی مکمل تصدیق جاری ہے، تاہم ابتدائی طور پر انہیں خطے میں عدم استحکام کی کوششوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر آزاد کشمیر میں صورتحال ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف حکومتی سخت اقدامات اور سیکیورٹی کارروائیاں جاری ہیں، تو دوسری جانب سیاسی بیانیہ، عوامی ردعمل اور مذاکرات کی اپیلیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ خطہ کشیدگی کی طرف جاتا ہے یا سیاسی حل کی طرف پیش رفت ممکن ہوتی ہے۔

Back to top button