گلگت بلتستان انتخابات میں نون لیگ کیوں ہاری؟

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی شکست نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح برتری حاصل کی اور ن لیگ دوسرے نمبر پر رہی، لیکن اصل بحث یہ ہے کہ ایک بڑی اور حکومتی جماعت ہونے کے باوجود ن لیگ اس اہم انتخابی معرکے میں کامیاب کیوں نہ ہو سکی؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس شکست کی بنیادی وجوہات کسی ایک عنصر تک محدود نہیں بلکہ یہ تنظیمی کمزوری، قیادت کی محدود موجودگی، انتخابی مہم کی کمزوری اور سیاسی حکمت عملی کی خامیوں کا مجموعہ ہے۔ مبصرین کے بقول ن لیگ کی انتخابی مہم مجموعی طور پر کمزور اور غیر مربوط دکھائی دی اور لیگی قیادت نے مردہ دلی سے انتخابی مہم چلائی۔ زمینی سطح پر ووٹرز تک پہنچنے کے لیے جس منظم اور مسلسل مہم کی ضرورت تھی، وہ نظر نہیں آئی۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی نے مسلسل جلسوں، کارنر میٹنگز اور فعال میڈیا مہم کے ذریعے اپنا بیانیہ مضبوط رکھا۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو کی مسلسل موجودگی نے پارٹی کارکنوں کو متحرک رکھا، جبکہ ن لیگ کی مہم زیادہ تر درمیانی سطح کی قیادت کے سپرد رہی۔

ن لیگ کی شکست کی ایک بڑی وجہ مرکزی قیادت کی عدم تسلسل پر مبنی شرکت بھی قرار دی جا رہی ہے۔ نواز شریف کی مختصر موجودگی اور اس کے بعد بیرون ملک روانگی نے انتخابی مہم کو ایک واضح قیادت سے محروم کر دیا۔ اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف حکومتی ذمہ داریوں کے باعث فعال انتخابی کردار ادا نہ کر سکے۔مریم نواز اور حمزہ شہباز جیسے اہم سیاسی چہروں کی عدم موجودگی نے بھی پارٹی کے ووٹرز میں وہ جوش و جذبہ پیدا نہیں کیا جو کسی انتخابی مہم کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ن لیگ کا تنظیمی ڈھانچہ گلگت بلتستان میں اس سطح پر فعال نہیں تھا جس کی ضرورت ایک سخت انتخابی مقابلے میں ہوتی ہے۔ مقامی سطح پر قیادت کی کمزور موجودگی اور پارٹی یونٹس کی غیر فعالیت نے بھی نتائج پر اثر ڈالا۔پارٹی کی انتخابی مشینری کے مقابلے میں پیپلز پارٹی زیادہ منظم اور مربوط نظر آئی، جس نے ہر حلقے میں امیدواروں کو فعال سپورٹ فراہم کی۔

جدید انتخابات میں میڈیا اور سوشل میڈیا مہم بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میدان میں بھی ن لیگ پیچھے دکھائی دی۔ پارٹی کی سوشل میڈیا سرگرمی محدود رہی، جبکہ پیپلز پارٹی نے ایک منظم ڈیجیٹل مہم کے ذریعے نوجوان ووٹرز تک مؤثر رسائی حاصل کی۔یہ فرق انتخابی فضا پر واضح طور پر اثر انداز ہوا اور پیپلز پارٹی کا بیانیہ زیادہ مؤثر انداز میں عوام تک پہنچا۔کئی ذرائع یہ بھی اشارہ کرتے ہیں کہ انتخابی مہم کے لیے مالی وسائل کی دستیابی میں بھی ن لیگ کو مشکلات کا سامنا رہا۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی کی مہم زیادہ متحرک اور وسائل سے بھرپور دکھائی دی، جس نے جلسوں اور تنظیمی سرگرمیوں کو تقویت دی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ن لیگ نے اس انتخاب کو وہ ترجیح نہیں دی جو ایک بڑے سیاسی معرکے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ایسا تاثر پیدا ہوا کہ پارٹی کی توجہ حکومتی امور پر زیادہ اور انتخابی سیاست پر کم رہی۔یہ حکمت عملی اس وقت نقصان دہ ثابت ہوئی جب پیپلز پارٹی نے اس انتخاب کو ایک مرکزی سیاسی ہدف کے طور پر لیا اور پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتری۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول گلگت بلتستان کے نتائج ن لیگ کے لیے ایک سیاسی و تنظیمی وارننگ ہیں۔ اگر پارٹی نے اپنی تنظیمی کمزوریوں، انتخابی حکمت عملی اور قیادت کی موجودگی کے خلا کو دور نہ کیا تو آنے والے انتخابات میں بھی یہی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔یہ شکست صرف ایک علاقائی انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے لیے خود احتسابی کا موقع بھی ہے، جہاں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا موجودہ طرزِ سیاست کو جاری رکھنا ہے یا ایک نئی انتخابی حکمت عملی اپنانی ہے۔

Back to top button