جہاں بات بنائے نہ بنے

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا
بات کیا بنے جب احتیاط لازم ہو جائے اور سیدھی بات کہنا اتنا آسان نہ رہے۔ لیکن کیا کیا جائے ماحول ہی کچھ ایسا ہے جس کا مرکزی جزو احتیاط ہے۔ ایسے میں بات گول مول ہی ہو سکتی ہے‘ اشارے کنائیوں میں‘ الفاظ کے چناؤ سے۔ مختلف محاذوں پر جنگ جرمنی کیلئے مشکل تھی۔ افغانستان پر حملہ کرتے ہوئے امریکہ نے عراق پر چڑھائی کر دی تو اُس کیلئے مشکل پیدا ہوئی۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ توانائیاں ہماری مختلف محاذوں پر بکھری ہوئی ہیں۔ کوئی ایک سمت بھی شورش سے خالی نہیں‘ خیبر پختونخوا ہو یا بلوچستان۔ اور اب ہمارے کشمیر میں ایک صورتحال پیدا ہوئی ہے جس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ناخوشگوار تھی اور جیسے حالات بنے ایسے نہ بنتے تو اچھا تھا۔
خیر نیک خواہشات پالنے سے کیا فرق پڑتا ہے‘ حالات بدل تو نہیں جاتے۔ البتہ اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ ہر طرف دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی شورشوں کی گونج پنجاب تک نہیں پہنچتی۔ یہاں شادی ہالوں کا کاروبار بھرا اور زوروں پر ہے۔ اسلام آباد کے ایک دو علاقے ہیں جو شادی ہالوں سے دھنسے پڑے ہیں۔ وہاں جانا ہو تو گماں گزرتا ہے کہ اس بظاہر غریب ملک میں دولت کی کوئی کمی نہیں۔ مہمانوں کی تعداد اور میزبانی کے انداز دیکھ کر حیرت ہونی چاہیے لیکن یہاں سب معمول کا کام لگتا ہے۔ چکوال اور نزدیک کے اضلاع کا البتہ یہ مسئلہ ہے کہ ساری آبادی کا سپاہ سے گہرا تعلق ہے۔ میری دانست میں ضلع چکوال میں کوئی قبرستان نہیں جس میں ایک دو یا اُس سے زیادہ شہیدوں کی قبریں نہ ہوں۔ ان قبرستانوں سے گزریں تو جن شورشوں کا سامنا وطنِ عزیز کو ہے اُس کا کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔
معیشت کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو اچھا ہے کیونکہ اس کے ذکر سے تشویش کیا ہونی ہے بوریت طاری ہو جاتی ہے کیونکہ معیشت کے حوالے سے اعداد وشمار کو سُن سُن کر پوری قوم کے کان پَک چکے ہیں۔ اب ہمیں کون بتائے کہ مملکت قرضوں تلے دبی پڑی ہے۔ یہ کوئی خبر نہیں کیونکہ کچھ نہ کچھ شعور رکھنے والا ہر شخص اس حقیقت کو سمجھتا ہے۔ یہ بھی جانتا ہے کہ قرض پر اللے تللے کرنا ہماری قدرتی کیفیت بن چکی ہے۔ یہ قرضہ جات کا سلسلہ شروع تو بہت پہلے ہوا تھا لیکن اب یہ نشہ آور عادت بن چکی ہے۔ قرضوں کے بغیر ہماری قوم کا جینا اب محال ہے۔ یہ بھی ہے کہ ہاتھ پھیلانے سے جو شرم آنی چاہیے وہ کب کی جا چکی ہے۔ اس حوالے سے اکابرینِ ملت میں ایک دھڑلا سا پیدا ہو چکا ہے۔ مانگنے میں کچھ عار محسوس نہیں ہوتی۔ اسے قوم کا اعزاز ہی سمجھنا چاہیے۔
پاکستان جب ایک نئے ملک کی حیثیت سے معرضِ وجود میں آیا تو گو مسائل بہت تھے‘ کئی اعتبار سے ہم ایک خوش قسمت قوم تھے۔ بیشتر تیسری دنیا نوآبادیاتی چنگل سے ابھی آزاد نہیں ہوئی تھی۔ یہاں سے انگریز گئے اور ایک ایسا نظام پیچھے چھوڑ گئے جس میں اور تمام قباحتوں کے باوجود لکھنے اور بولنے کی آزادی تھی۔ اخبارات تھے‘ سیاسی اجتماعات کا رواج تھا‘ یہ تصور زندہ تھا کہ حکمرانی کے پیچھے عوامی رائے اور حمایت کا ہونا ضروری ہے۔ چین میں خانہ جنگی جاری تھی یعنی انقلابِ چین کی فتح کو کچھ دیر تھی۔ ملائیشیا اور سنگاپور آزاد نہیں تھے۔ جنوبی کوریا کی حقیقت تو تھی لیکن اُس کا وجود کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ ماسوائے چند ممالک کے پورا افریقہ نوآبادیاتی اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ یورپ دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں سے نکلا نہیں تھا۔ جاپان تباہ‘ جرمنی تباہ۔ یہاں پنجاب میں تقسیمِ ہند کی وجہ سے خونریزی کے دریا بہے لیکن مملکت اپنے قدموں پر کھڑی ہو رہی تھی۔ مستقبل روشن لگتا تھا کہ قوم کی تقدیر قوم کے ہاتھوں میں ہے اور اس دیس کے باسی جس انداز سے چاہیں دیس کو چلا سکتے ہیں۔
مگر منزل کا تعین نہ ہو سکا۔ فضول بحثوں میں قوم کا وقت ضائع ہونے لگا اور آزادی کے فلسفے کی بجائے زور زبردستی کا تصور اس سرزمین پر پیدا ہونے لگا۔ قانون کی حاکمیت کا فلسفہ انگریز حاکموں نے روشناس کرایا لیکن یہاں جو سورما نمودار ہونے لگے اُن کا خیال تھا کہ یہ قوم‘ اَن پڑھ اور جاہل‘ جمہوریت کے نازک تقاضوں کے لیے تیار نہیں۔ ایوب خان سے پہلے بھی قانون کی حاکمیت کے تصور کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا اور خود ایوب خان نے جمہوریت کی پوری بساط کو لپیٹ دیا۔ وہ سلسلہ پھر جاری رہا گو بیچ میں جمہوریت کی شمع جلتی بجھتی رہی۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ اُس بیچاری شمع کے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا۔ قوم کے ساتھ بھی کچھ یوں ہو رہا ہے کہ قوم کے دلوں میں یہ خیال گھر کر رہا ہے کہ شاید یہی ہماری تقدیر ہے اور اس سے بہتر کے ہم قابل نہیں۔
پر یہ چوبیس پچیس کروڑ کی آبادی ہے‘ آدم زادوں کی کوئی تھوڑی تعداد تو نہیں۔ اس کا بنے گا کیا؟ یا جو تھانیداری نظام اس قوم کے نصیب میں آیا ہے وہی چلتا رہے گا؟ دنیا میں قوموں نے ترقی کی ہے‘ اپنے لیے بہتر مواقع پیدا کئے ہیں‘ اپنے لوگوں کو آگے لے کر گئی ہیں۔ کیا ہمارے کھاتے میں یہی لکھا ہوا ہے کہ یہاں جو فضول باتیں روا رکھی جاتی ہیں اُنہی کی گونج ہم سنتے رہیں گے؟ کچھ ہنر ہوتا‘ کچھ سمت درست ہوتی‘ کچھ میرِ کارواں بہتر مل جاتے تو اس پورے خطے میں‘ ہندوستان سے لے کر وسطی ایشیا تک اور یہاں سے لے کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک‘ یہ قوم اپنا منفرد مقام بنا سکتی تھی۔ 1947ء میں دنیا کے نقشے پر جب پاکستان نمودار ہوا عرب ممالک کی تو کوئی حالت نہ تھی۔ گلف کی بادشاہتیں پتا نہیں کس زمانۂ قد یم میں گُم تھیں۔ تیل اور گیس کے کرشمات تو بہت بعد کی بات ہیں۔ پھر ماننا پڑے گا ہم کچھ کر نہ سکے‘ پتا نہیں کس تھانیداری ذہنیت کے اسیر اور غلام ہو کر رہ گئے۔ حاکموں کو دیکھیں کس اوسط درجے کے نمونے ہمیں نصیب ہوئے۔ بھٹو جیسا کوئی ذہین آدمی آیا بھی تو اپنی کمزوریوں اور حالات کی نذر ہو گیا۔ کوئی 804 آیا جو بہت کچھ کر سکتا تھا وہ کچھ اپنے کو اور کچھ ایک پیج کو سنبھال نہ سکا۔ تھانیداری نظام کچھ زیادہ ہی طاقتور ثابت ہوا۔
تھانیداری نظام وقتی علاج ہے۔ ٹیکے کی مانند جسم کے کسی حصے کو سُن کر سکتا ہے فالج زدہ یا نیم مردہ جسم کو صحت یاب نہیں کر سکتا۔ ایک بار نہیں بارہا ہم نے یہ دیکھا۔ سارے جو ہمارے شہسوار تھے اپنے زمانوں میں ان کے بڑے چرچے ہوا کرتے تھے۔ سورج ان کا ڈھلا تو مسائل ہی پیچھے چھوڑ کر گئے۔ پر یہ کوئی نئی باتیں نہیں‘ انہیں دہرا دہرا کر زبانیں تھک چکی ہیں۔ اسی لیے دل سے یہ آواز اُٹھتی ہے کہ چھوڑو نصیحت کے کام۔ یہ بیماریاں لاعلاج ہیں۔ اردو زبان کے جو عظیم شعرا رہے ہیں کیا وہ تجزیے اور نصیحت فرمایا کرتے تھے؟ دورِ زوال سے گزر رہے تھے اور اپنی لازوال شاعری کہتے رہے۔ یہاں کون سا میر یا غالب؟ اب تو فیض اور جالب جیسے بھی اس سرزمین پر نہیں رہے۔ دور ہی کچھ ایسا مادہ پرست ہو گیا ہے اور اوپر سے کمپیوٹروں کی زبان سے نکلنے والی مصنوعی ذہانت کے ایسے عجوبات کہ شاعری رہی نہ فنِ خطابت۔
ایسے میں دلِ نازک کا کیا کرنا سوائے اس کے کہ شام ڈھلے کچھ موسیقی اور شاعری کا رس کانوں میں گھل جائے۔ یادوں کی بارات آنکھوں کے سامنے سے گزرے۔ ایک عدد اور مثال میں غالب کی تقلید ہو جائے۔
