گلگت بلتستان میں حکومت کون بنائے گا؟ بڑا فیصلہ ہو گیا

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا عمل اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی برتری کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد آئندہ حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

خیال رہے کہ ابتدائی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی 10 نشستوں کے ساتھ ایوان میں سب سے آگے ہے، آزاد امیدوار 7 نشستیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 6 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ مجموعی طور پر 24 رکنی اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے 13 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی سطح پر سیاسی رابطوں میں تیزی آئی ہے، اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان حالیہ رابطے میں گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ان مذاکرات میں اس اصولی مؤقف پر اتفاق کیا گیا کہ اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کو حکومت سازی کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اس پیش رفت کے بعد پیپلزپارٹی کی پوزیشن مزید مستحکم قرار دی جا رہی ہے، تاہم قطعی اکثریت کے لیے اسے اب بھی اتحادیوں کی ضرورت ہوگی۔

سیاسی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں آزاد امیدوار “کنگ میکر” کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، کیونکہ کسی بھی جماعت کے لیے اکیلے حکومت بنانا ممکن نہیں۔ آئندہ دنوں میں آزاد ارکان کی ممکنہ شمولیت حکومت کی سمت طے کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں آزاد ارکان سے رابطے بڑھا رہی ہیں اور حکومت سازی کے لیے ممکنہ اتحادوں پر مشاورت جاری ہے۔مبصرین کے بقول انتخابی نتائج کے بعد سیاسی ماحول میں نسبتاً نرمی دیکھی جا رہی ہے، جہاں اعلیٰ سطح پر ایک دوسرے کو انتخابی کارکردگی پر مبارکباد دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس مثبت پیش رفت کو مستقبل میں تعاون اور سیاسی مفاہمت کے امکان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گلگت بلتستان میں آئندہ حکومت کا فیصلہ زیادہ تر سیاسی جوڑ توڑ اور آزاد ارکان کی حکمت عملی پر منحصر ہوگا۔ پیپلزپارٹی اگر آزاد ارکان اور دیگر چھوٹی سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ حکومت سازی کی دوڑ میں واضح برتری حاصل کر سکتی ہے۔تاہم موجودہ صورتحال میں کوئی بھی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا اور آئندہ چند روز کو خطے کی سیاسی سمت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Back to top button