ایران کے خلاف جاری امریکی حملے بند، خطے میں کشیدگی برقرار

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جوابی فوجی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ آپریشن آبنائے ہرمز کے قریب امریکی حملہ آور ہیلی کاپٹر کے واقعے کے بعد کیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے دفاعی نوعیت کی کارروائی کے تحت ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ سینٹکام کے مطابق امریکی فضائیہ اور بحریہ کے جنگی طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار مراکز پر انتہائی درست ہتھیاروں کے ذریعے حملے کیے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد خطے میں تعینات امریکی افواج اور امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ تمام اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا اور آپریشن مکمل ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔
امریکی حکام نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر امریکی دعووں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔عالمی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں نہ صرف خطے کے امن و استحکام بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔
